
تعلیم کے باوجود پاکستانی خواتین روزگار سے دور کیوں؟
معاشی شرکت اور مواقع کے ذیلی اشاریے میں پاکستان کا اسکور صرف 36.4 فیصد رہا، جس کے ساتھ وہ 145 معیشتوں میں 144ویں نمبر پر ہے۔
ریاضی میں بی ایس کرنے کے بعد فوزیہ رزاق اپنی بہن کے ساتھ ایک اسکول میں پڑھا رہی ہیں۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے اس اسکول میں دونوں بہنوں کو ماہانہ پندرہ، پندرہ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔
بجلی اور گیس کے بل نکل جاتے ہیں یا دال سبزی کے لیے چار پیسے بن جاتے ہیں، ورنہ دونوں کی تنخواہیں ملا کر بھی اتنی رقم نہیں بنتی جتنی حکومت نے مزدور کی کم از کم اجرت مقرر کر رکھی ہے۔
یہ تنخواہ بھی ایسے ادارے سے مل رہی ہے جس کی فنڈنگ سرکاری سطح پر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں خواتین کے لیے ملازمت کرنے اور گھر سے باہر نکلنے میں کیا کشش رہ جاتی ہے؟
ہمیں بعض اوقات زمینی حالات کا درست اندازہ نہیں ہوتا۔ میں جوہرآباد میں بیٹھا ہوں، جو پنجاب کے درمیانے درجے کے اچھے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں خواتین ٹیچرز ساڑھے چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر اسکولوں میں پڑھا رہی ہیں، اور یہ رقم بھی انہیں ہر ماہ نہیں بلکہ دو، دو ماہ کے انتظار کے بعد ملتی ہے۔

تعلیم کے مدارج سے گزرنے والی خواتین روزگار کی دہلیز پر آ کر کیوں رک جاتی ہیں؟ اور وہ کون سی رکاوٹیں ہیں جو ڈگری ہاتھ میں ہونے کے باوجود انہیں کمائی کی دنیا سے دور رکھتی ہیں؟
تعلیمی شعبے میں بہتری کے باوجود روزگار کی منڈی میں صنفی امتیاز
ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان نے خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات کے معاملے میں 59.5 فیصد اسکور حاصل کیا اور 145 ممالک میں 143ویں نمبر پر رہا۔ یعنی اس درجہ بندی میں پاکستان سے نیچے دنیا کے صرف دو ممالک ہیں۔
معاشی شرکت اور مواقع کے ذیلی اشاریے میں پاکستان کا اسکور صرف 36.4 فیصد رہا، جس کے ساتھ وہ 145 معیشتوں میں 144ویں نمبر پر ہے۔
لیکن اسی رپورٹ میں تعلیم کے شعبے کی تصویر کچھ مختلف ہے۔ پاکستان نے ایک دہائی کے دوران اس شعبے میں اپنی سب سے بڑی پیش رفت کی اور 130ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے تناسب میں تو پاکستان دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں خواتین کا تناسب 10.71 فیصد اور مردوں کا 11.01 فیصد ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں۔ اگر پاکستانی خواتین تعلیم کے میدان میں مردوں کے تقریباً برابر پہنچ رہی ہیں تو پھر روزگار اور آمدن کے میدان میں اتنی پیچھے کیوں رہ جاتی ہیں؟
سماجی رویوں کا کردار
خواتین کے حقوق کی معروف کارکن مہناز رحمان کے مطابق پاکستان میں خواتین کو ملازمت اور روزگار سے دور رکھنے میں سماجی رویوں کا بنیادی کردار ہے۔
اس وقت روزگار کے اہم اور تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں ڈیجیٹل کام نمایاں ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی طرف سے موبائل اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اچھی خاصی یونیورسٹی میں پڑھنے والی بچیاں گھر آ کر موبائل کو کم سے کم استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ ہائی لائٹ نہ ہوں، کوئی پوچھ نہ لے کہ آپ موبائل پر کیا کر رہی ہیں۔
مسئلہ صرف موبائل کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ گھر داری اور مرد کی خدمت سے متعلق معاشرے میں پائے جانے والے وہ تصورات بھی خواتین کے لیے ملازمت کے انتخاب محدود کر دیتے ہیں جو بچپن ہی سے ان کے ذہن میں بٹھائے جاتے ہیں۔
لیکن کیا یہ سماجی رویے واقعی خواتین کے ملازمت اختیار کرنے کے فیصلے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں؟
ان رویوں کے اثرات اس وقت زیادہ نمایاں ہوتے ہیں جب کسی شعبے میں مردوں سے براہِ راست رابطہ زیادہ ہو۔
’’بینک وغیرہ جیسے شعبے، جہاں مردوں سے انٹرایکشن زیادہ ہو سکتا ہے، بچیاں وہاں جاب نہیں کرتیں کہ کل کو رشتے کے وقت پچاس سوال پوچھے جائیں گے۔‘‘
یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خواتین کو ملازمت کی اجازت ہے یا نہیں، بعض اوقات ملازمت کے شعبے، کام کی نوعیت اور وہاں مردوں سے میل جول بھی اس فیصلے پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی اپنی ڈگری کو روزگار میں تبدیل کرے گی یا نہیں۔

روزگار کے مواقع کی کمی
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حنا احسن کے مطابق سماجی رکاوٹوں کے علاوہ روزگار کے مواقع کی کمی بھی خواتین کی معاشی شرکت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگر ایک خاتون کو ملازمت کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑے، لیکن اس کی آمدن سے گھر کی مالی حالت میں کوئی نمایاں بہتری نہ آئے تو ایسے میں سماجی دباؤ کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
سماجی رویے تبدیل کرنے میں ایک اہم چیز معاشی ترقی کے امکانات ہیں۔ اگر لڑکی کو ملازمت بھی کرنی پڑے اور اس سے گھر کی معیشت پر کوئی نمایاں بہتری بھی نہ آئے تو سماجی رویے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کی مجموعی معاشی بدحالی خواتین کے روزگار پر زیادہ اثرانداز ہو رہی ہے۔



