مشرق وسطیٰتازہ ترین

جنگ کے اثرات بڑھنے کے ساتھ سعودی عرب کو معاشی سکڑاؤ کا سامنا

حوثیوں نے سعودی تیل کی تنصیبات، بحیرہ احمر میں تیل بردار جہازوں اور ہوائی اڈوں سمیت اہم نقل و حمل کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ بحیرہ احمر سعودی عرب کے لیے تیل برآمد کرنے کا متبادل راستہ ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
روئٹرز کے ساتھ

یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں نے سعودی عرب پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جو پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات سے دوچار ہے۔ جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو کہا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کو رواں سال بڑے معاشی سکڑاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.3 فیصد کمی متوقع ہے۔ فنڈ نے آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے ناکہ بندی کے باعث پورے خطے کی معیشت میں سکڑاؤ کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.3 فیصد کمی متوقع ہےتصویر: REUTERS
آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.3 فیصد کمی متوقع ہے
تصویر: REUTERS

یہ رپورٹ ہفتے کو ہونے والے اس حملے سے پہلے مرتب کی گئی تھی جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا یہ سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا، جو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے متعدد مہلک حملوں کے دوران پیش آیا۔

فروری میں مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب کو آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم یہ بحری راستہ اس وقت سے متاثر ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔

تاہم، جولائی میں یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شروع ہونے سے سعودی عرب کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ اس لڑائی میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرنے والا سعودی قیادت کا اتحاد حوثیوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اب یہ تنازع سعودی سرزمین تک بھی پہنچ گیا ہے۔

حوثیوں نے سعودی تیل کی تنصیبات، بحیرہ احمر میں تیل بردار جہازوں اور ہوائی اڈوں سمیت اہم نقل و حمل کے مراکز کو نشانہ بنایا ہےتصویر: Social Media/REUTERS

حوثیوں نے سعودی تیل کی تنصیبات، بحیرہ احمر میں تیل بردار جہازوں اور ہوائی اڈوں سمیت اہم نقل و حمل کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ بحیرہ احمر سعودی عرب کے لیے تیل برآمد کرنے کا متبادل راستہ ہے۔

پیر کی رات بھی سعودی دارالحکومت کے اوپر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ سعودی اتحاد نے بتایا کہ اس نے حوثیوں کا ایک میزائل مار گرایا، جبکہ حوثی گروپ نے اعلان کیا کہ اس نے ایک بار پھر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔ ہوائی اڈے کی سرگرمیاں تاحال معطل ہیں۔

پیر کی شام شہریوں کے موبائل فونز پر حکومت کی جانب سے ’’فضائی حملے کے خطرے‘‘ سے متعلق انتباہ موصول ہوا، جس کے بعد میزائل کو روکنے کا اعلان کیا گیا۔

ہفتے کو ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں امریکہ کی شمولیت پر غور کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اس سے قبل وہ سعودی عرب کی جانب سے فوجی مدد کی درخواستیں مسترد کر چکے تھے۔

حوثیوں نے امریکہ کو مداخلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کارروائی کی تو وہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button