
پاکستان کا تعلیمی بجٹ قومی بحران بن گیا، جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد تعلیم پر خرچ کرنا قومی مستقبل کے لیے خطرہ ہے: کاشف مرزا
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر کا تعلیمی اخراجات میں کمی پر اظہارِ تشویش، 2 کروڑ 62 لاکھ بچوں کے اسکولوں سے باہر ہونے اور تعلیمی معیار میں گراوٹ پر انتباہ
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے پاکستان میں تعلیمی بجٹ کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم پر قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا محض 0.8 فیصد خرچ کرنا صرف بجٹ میں کمی کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے مستقبل، معاشی ترقی، قومی سلامتی اور نئی نسل کے بنیادی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تعلیم کے شعبے کو مناسب وسائل فراہم نہ کیے گئے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں، ملکی معیشت، جدید ٹیکنالوجی میں ترقی اور سماجی استحکام پر مرتب ہوں گے۔
کاشف مرزا کے مطابق، آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-A کے تحت پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں تعلیمی اخراجات میں کمی اور اسکولوں سے باہر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک کے تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کو قومی ترجیحات میں وہ مقام نہیں دیا جا رہا جس کی پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک کو ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر یونیسکو کی جانب سے تعلیم پر جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد خرچ کرنے کے معیار کا حوالہ دیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں تعلیم کے لیے مختص وسائل اس سطح سے بہت کم ہیں۔ ان کے مطابق، اگر ملک کو غربت، بے روزگاری، ناخواندگی اور معاشرتی عدم مساوات جیسے مسائل سے مؤثر طور پر نمٹنا ہے تو تعلیم پر سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔
تعلیمی اخراجات میں 23 فیصد کمی، صرف 962 ارب روپے خرچ ہونے کا دعویٰ
کاشف مرزا نے اقتصادی سروے 2025-26 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران تعلیم پر مجموعی سرکاری اخراجات میں 23 فیصد کمی کے بعد یہ رقم تقریباً 962 ارب روپے رہ گئی۔ ان کے مطابق، ایک ایسے وقت میں جب ملک کو تعلیمی نظام کی بہتری، اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں واپس لانے اور تعلیمی معیار بلند کرنے کے لیے زیادہ وسائل درکار ہیں، اخراجات میں کمی تشویش ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے ’’قومی تعلیمی ایمرجنسی‘‘ کے اعلان کے باوجود، ان کے بقول، صوبائی سطح پر تعلیمی بجٹ میں کمی نے اس پالیسی کے عملی نفاذ اور نتائج کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں۔
کاشف مرزا کے مطابق، تعلیمی ایمرجنسی کا مقصد صرف اعلان یا پالیسی دستاویز تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ مناسب مالی وسائل، واضح اہداف، قابلِ پیمائش نتائج اور مؤثر نگرانی کا نظام بھی ضروری ہے۔ اگر تعلیمی شعبے کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے جاتے تو اسکولوں کی سہولتوں میں بہتری، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی مواد کی فراہمی اور بچوں کے داخلوں میں اضافے جیسے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تعلیمی اخراجات کے حوالے سے اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرتے ہوئے اس شعبے کو محض ایک انتظامی مد کے بجائے قومی ترقی میں بنیادی سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔
2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر، لڑکیوں کی تعلیم خصوصی توجہ کی متقاضی
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر نے فراہم کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں ایک کروڑ 34 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق، یہ صورتِ حال نہ صرف تعلیمی نظام کی رسائی میں موجود خامیوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ بچوں کے مستقبل، معاشی مواقع اور سماجی ترقی پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں سے باہر بچوں کی اتنی بڑی تعداد اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت داخلوں میں اضافے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اختیار کرے۔ اس حکمت عملی میں نئے اسکولوں کا قیام، موجودہ تعلیمی اداروں کی بہتری، اساتذہ کی دستیابی، مستحق خاندانوں کی معاونت اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
کاشف مرزا نے بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں دور کیے بغیر قومی شرحِ خواندگی میں پائیدار بہتری ممکن نہیں۔ تعلیمی اداروں تک رسائی، محفوظ ماحول، مناسب سہولتوں اور خاندانوں کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں تشکیل دینا ضروری ہے جو لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے کے مواقع فراہم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانا صرف محکمہ تعلیم کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نجی تعلیمی اداروں، والدین، سول سوسائٹی اور متعلقہ سماجی اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
5 سے 16 سال کی عمر کے 28 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے
کاشف مرزا نے ورلڈ بینک اور ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 2024-25 سے منسوب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔
ان کے مطابق، یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں تعلیم تک رسائی کا مسئلہ اب بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی منصوبہ بندی زمینی حقائق کے مطابق کی جائے اور ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں بچوں کے اسکول جانے کی شرح کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کے اسکولوں سے باہر رہنے کی وجوہات میں غربت، تعلیمی اداروں تک رسائی کی مشکلات، اسکولوں میں سہولتوں کی کمی اور خاندانوں کو درپیش معاشی مسائل جیسے عوامل اہم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف داخلوں کی مہم چلانے کے بجائے ان بنیادی وجوہات کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہے۔
کاشف مرزا کے مطابق، تعلیمی بجٹ میں اضافہ اسی وقت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب وسائل کو ضرورت کے مطابق تقسیم کیا جائے، ان کے استعمال کی نگرانی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری اخراجات کا براہِ راست فائدہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں تک پہنچے۔
دس سال کے بچوں میں بنیادی مطالعے کی صلاحیت کا بحران
کاشف مرزا نے تعلیمی معیار میں کمی کو ایک اور سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کی بڑی تعداد بنیادی مطالعے اور فہم کی صلاحیت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
ان کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دس سال کی عمر کے تقریباً 77 فیصد بچے ایک بنیادی پیراگراف پڑھنے اور اسے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتِ حال محض اسکولوں میں بچوں کے داخلوں کی تعداد بڑھانے سے حل نہیں ہوگی بلکہ تدریس کے معیار، اساتذہ کی تربیت، نصاب، تعلیمی ماحول اور طلبہ کی بنیادی مہارتوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف بچوں کو اسکول میں داخل کرنا نہیں بلکہ انہیں پڑھنے، لکھنے، حساب کرنے، سوچنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ اگر ایک بچہ کئی سال اسکول میں گزارنے کے باوجود بنیادی عبارت پڑھنے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا تو یہ تعلیمی نظام کی کارکردگی کا اہم سوال بن جاتا ہے۔
کاشف مرزا کے مطابق، ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت مضبوط نہ ہو تو بچوں کے لیے سائنس، ریاضی، ٹیکنالوجی اور دیگر مضامین میں آگے بڑھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع تک ان کی رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ابتدائی تعلیم میں بنیادی مہارتوں کی بہتری کو قومی ہدف بنائے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو مؤثر کرے اور طلبہ کی تعلیمی پیش رفت جانچنے کے لیے قابلِ اعتماد نظام قائم کرے۔
شرحِ خواندگی 63 فیصد پر برقرار، تعلیمی اصلاحات کی ضرورت
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر نے پاکستان کی قومی شرحِ خواندگی تقریباً 63 فیصد ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں مطلوبہ رفتار سے پیش رفت نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔
ان کے مطابق، خواندگی میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی پالیسیوں کو مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود بنیادی تعلیمی اہداف برقرار رہیں۔ تعلیم کے شعبے میں بار بار پالیسیوں کی تبدیلی، وسائل کی کمی اور عمل درآمد کے مسائل طویل مدتی نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو بچوں کو اسکولوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم مکمل کرنے، بنیادی مہارتیں حاصل کرنے اور اعلیٰ تعلیم یا ہنرمندی کے مواقع تک رسائی یقینی بنائے۔
کاشف مرزا کے مطابق، شرحِ خواندگی میں بہتری صرف تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے سے حاصل نہیں ہو سکتی؛ اس کے لیے معیاری تدریس، نصاب میں بہتری، تعلیمی سہولتوں کی مساوی فراہمی اور بالغ افراد کی خواندگی کے پروگراموں کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔
اعلیٰ تعلیم کا بجٹ اور یونیورسٹیوں میں داخلوں میں کمی پر تشویش
کاشف مرزا نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی صورتِ حال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا بجٹ 2018 سے تقریباً 65 ارب روپے کی سطح پر منجمد ہے۔ ان کے مطابق، اس صورتِ حال نے یونیورسٹیوں کی مالی گنجائش اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے متعلق اہداف پر دباؤ ڈالا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تدریس، تحقیق، جدید لیبارٹریوں، ڈیجیٹل وسائل، اساتذہ کی ترقی اور طلبہ کے لیے تعلیمی سہولتوں پر اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان اداروں کے وسائل میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے مطابق اضافہ نہ ہو تو ان کے لیے معیار برقرار رکھنا اور تحقیق کو فروغ دینا مشکل ہو سکتا ہے۔
کاشف مرزا کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یونیورسٹیوں میں داخلوں کی تعداد 22 لاکھ 30 ہزار سے کم ہو کر 19 لاکھ 60 ہزار رہ گئی ہے، جو ان کے بقول تقریباً 11.8 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں کمی نوجوانوں کے لیے مستقبل کے مواقع محدود کر سکتی ہے۔ پاکستان کو جدید معیشت، تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے لیے ایسی جامعات درکار ہیں جو طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ نئی مہارتیں سکھائیں اور ملکی مسائل کے حل کے لیے تحقیق بھی کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم کے بجٹ پر نظرثانی، جامعات کی مالی ضروریات کا جائزہ اور مستحق طلبہ کے لیے وظائف اور معاونت کے پروگراموں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
تعلیم کے بغیر مصنوعی ذہانت، سی پیک اور جدید ٹیکنالوجی میں مقابلہ مشکل
کاشف مرزا نے تعلیم اور قومی ترقی کے درمیان تعلق واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی نسل کے ساتھ جدید دنیا کے تقاضوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہے جس کی بڑی تعداد بنیادی مطالعے اور فہم کی صلاحیت سے محروم ہو۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بچوں کو معیاری تعلیم، سائنسی سوچ اور بنیادی مہارتیں فراہم نہیں کی جائیں گی تو ملک پانچویں نسل کی جنگ، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے بڑے منصوبوں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں کس طرح مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔
ان کے مطابق، جدید دنیا میں قومی طاقت کا انحصار صرف دفاعی سازوسامان، بنیادی ڈھانچے یا بڑے تعمیراتی منصوبوں پر نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت پر بھی ہوتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، سائنسی تحقیق اور جدید صنعتوں میں ترقی کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک جیسے اقتصادی منصوبوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بھی تربیت یافتہ افرادی قوت، تکنیکی مہارت اور جدید پیشہ ورانہ تعلیم کی ضرورت ہے۔ اگر مقامی نوجوانوں کو مطلوبہ تعلیم اور تربیت میسر نہ ہو تو ملک کے لیے جدید معاشی مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا مشکل ہو سکتا ہے۔
کاشف مرزا کے مطابق، تعلیم پر سرمایہ کاری کو مستقبل کی معاشی ترقی اور قومی سلامتی کی بنیاد سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ مضبوط تعلیمی نظام ہی جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے ضروری انسانی وسائل فراہم کرتا ہے۔
فلائی اوورز پر سرمایہ کاری، مگر کلاس رومز کی ضروریات نظرانداز کرنے پر تنقید
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صدر نے ترقیاتی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست سڑکوں، فلائی اوورز اور دیگر تعمیراتی منصوبوں پر سرمایہ کاری کرتی ہے لیکن کلاس رومز، اساتذہ اور بچوں کی بنیادی تعلیمی ضروریات کو مناسب وسائل فراہم نہیں کرتی تو اس کا نقصان طویل مدت میں پورے معاشرے کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق، تعلیم پر کم خرچ کرنے کو مالی بچت سمجھنا درست نہیں، کیونکہ معیاری تعلیم کی کمی غربت کے خاتمے، سماجی ترقی اور معاشی خودمختاری کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تعلیم اور ہنرمندی کے مواقع محدود ہونے سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے راستے کم ہو سکتے ہیں، جس سے معاشی محرومی اور مایوسی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے محدود مواقع باصلاحیت افراد کو بیرونِ ملک بہتر امکانات تلاش کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، جسے عام طور پر برین ڈرین کہا جاتا ہے۔
کاشف مرزا نے کہا کہ تعلیم کی کمی کے معاشرتی اثرات بھی اہم ہیں۔ معیاری تعلیم سے محروم افراد کے لیے روزگار، معاشی ترقی اور سماجی شرکت کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں، جبکہ تعلیمی محرومی کے وسیع پیمانے پر اثرات قومی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، تعلیم پر مناسب سرمایہ کاری غربت کے خاتمے، معاشرتی استحکام اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
تعلیم کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دینے کا مطالبہ
کاشف مرزا نے مطالبہ کیا کہ تعلیم کو باقاعدہ طور پر قومی سلامتی اور قومی ترقی کا بنیادی معاملہ قرار دیا جائے، تاکہ اسے بجٹ کی ترجیحات میں مستقل اور مؤثر مقام حاصل ہو سکے۔
انہوں نے تجویز دی کہ قانون سازی کے ذریعے تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا کم از کم 5 فیصد مختص کرنے کا تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے تعلیمی شعبے کے لیے وسائل کی فراہمی کو ایک واضح قومی ہدف سے منسلک کیا جا سکے گا اور حکومتوں کو تعلیمی اخراجات کے بارے میں جواب دہ بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی بجٹ میں اضافے کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ مختص رقوم شفاف انداز میں خرچ ہوں اور ان کے نتائج کی نگرانی کی جائے۔ صرف بجٹ بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ فنڈز کی مؤثر تقسیم، اسکولوں کی ضروریات کی درست نشاندہی، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کے تعلیمی نتائج میں بہتری کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔
کاشف مرزا کے مطابق، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک مشترکہ قومی تعلیمی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے، جس کے تحت اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے، لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے، بنیادی مطالعے کی صلاحیت بہتر بنانے اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافے کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔
قومی تعلیمی ایمرجنسی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت
کاشف مرزا کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے بحران کو صرف اعداد و شمار یا اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، اگر ملک نے نوجوان آبادی کو تعلیم، ہنرمندی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نہ کیا تو معاشی ترقی، قومی سلامتی اور عالمی مسابقت کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی پالیسیوں میں تسلسل، بجٹ میں اضافہ، وسائل کا شفاف استعمال، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور تعلیمی معیار کی بہتری کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ ان کے مطابق، تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل ملک کے انسانی وسائل، معاشی صلاحیت اور مستقبل کی قیادت میں سرمایہ کاری ہے۔
کاشف مرزا نے واضح کیا کہ پاکستان کو تعلیمی بحران سے نکالنے کے لیے محض قومی تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کافی نہیں؛ اس کے لیے مضبوط سیاسی عزم، مناسب مالی وسائل اور قانون کے ذریعے تعلیم کو مستقل قومی ترجیح بنانا ضروری ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا کم از کم 5 فیصد مختص کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر بچے کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کا حقیقی موقع میسر ہو۔



