
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جمعرات کو ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 34 بچے اور ایک ٹیچر کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ہنگامی امدادی خدمات کے ادارے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 50 سے زائد بچے زخمی ہو گئے ہیں۔ جبکہ کئی بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ہنگامی امدادی خدمات کے ترجمان بلال فیضی نے بتایا کہ درجنوں امدادی کارکن بھاری مشینری اور مقامی رضاکاروں کی مدد سے ملبہ ہٹا کر پھنسے ہوئے بچوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بلال فیضی کے مطابق، پشاور شہر میں چھت گرنے کے وقت اسکول کے کمروں میں 12 سال تک کی عمر کے بچے موجود تھے۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ چھت کس وجہ سے گری۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حادثے کے وقت اسکول میں 100 سے زائد بچے موجود تھے، تاہم اس تعداد کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
شہر کے مرکزی لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کم از کم 21 بچوں کی لاشیں اور دو درجن زخمی بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 28 بتائی گئی ہے اس کے علاوہ ایک لیڈی ٹیچر کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی جا چُکی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جان سے جانے والے ’تمام بچوں کی عمریں تیرہ سال تک ہیں۔‘
ترجمان نے کہا کہ ایل آر ایچ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

عاصم کے مطابق، متعدد بچے فولادی سلاخوں کی زد میں آئے اور ان کی حالت تشویش ناک تھی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں والدین کو انتہائی پریشانی کے عالم میں سڑکوں پر دوڑتے اور ایمبولینسوں کو بچوں کو ہسپتالوں تک پہنچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسکول کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
پاکستان میں عمارتوں کے گرنے کے واقعات عام ہیں، جہاں تعمیراتی معیار سے متعلق ضوابط پر اکثر مؤثر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اخراجات کم کرنے کے لیے بہت سی عمارتیں غیر معیاری مواد سے تعمیر کی جاتی ہیں اور حفاظتی قواعد کو بھی اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
جولائی میں لاہور میں زیرِ تعمیر ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے چار طلبا ہلاک ہو گئے تھے۔



