
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دفاعی تعاون مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ، جوائنٹ کمیٹی آن ڈیفنس کوآپریشن کا 16واں اجلاس راولپنڈی میں منعقد
دفاعی و سیکیورٹی تعلقات کے فروغ، دوطرفہ تعاون میں پیش رفت اور مشترکہ مفادات کے امور کا جائزہ، دونوں ممالک کے وفود نے دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا
سید عاطف ندیم-ادارت
راولپنڈی (وائس آف جرمنی اردو نیوز): پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے، دوطرفہ دفاعی و سیکیورٹی تعلقات کو مستحکم بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان-ملائیشیا جوائنٹ کمیٹی آن ڈیفنس کوآپریشن (Joint Committee on Defence Cooperation — JCDC) کا 16واں اجلاس وزارتِ دفاع، راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی اور گزشتہ اجلاس کے بعد دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل محمد علی (ریٹائرڈ) ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے کی، جبکہ ملائیشیا کے وفد کی سربراہی وزارتِ دفاع ملائیشیا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل (پالیسی) جناب محمد یانی بن داؤد نے کی۔ اجلاس کو دونوں دوست ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تسلسل، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور دوطرفہ شراکت داری کو آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
اجلاس کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون کے تحت جاری سرگرمیوں کا جائزہ لینا، گزشتہ ملاقاتوں میں طے پانے والے امور پر پیش رفت کا مشاہدہ کرنا اور مستقبل میں تعاون کے لیے مشترکہ ترجیحات پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
مکمل اجلاس سے قبل دوطرفہ دفاعی امور پر تبادلۂ خیال
مکمل اجلاس (Plenary Session) سے قبل دونوں ممالک کے وفود کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی اور اس شعبے میں موجود امکانات سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
دونوں فریقین نے اس امر پر تبادلۂ خیال کیا کہ دفاعی شعبے میں باقاعدہ رابطوں، ادارہ جاتی تعاون اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو جاری رکھنا دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر مسلسل مشاورت سے باہمی ترجیحات کو سمجھنے اور مستقبل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
قبل از اجلاس ملاقات نے دونوں وفود کو دفاعی تعاون سے متعلق اہم امور پر اپنے نقطۂ نظر کا تبادلہ کرنے اور مکمل اجلاس کے لیے مشترکہ دلچسپی کے موضوعات پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کیا۔
گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ
اجلاس کے دوران ملائیشیا میں منعقد ہونے والے جوائنٹ کمیٹی آن ڈیفنس کوآپریشن کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں وفود نے دفاعی تعاون کے سلسلے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دوطرفہ روابط کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانا مستقبل میں تعاون کے مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم ہے۔
اس جائزے کا مقصد گزشتہ اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے امور کی پیش رفت کو سمجھنا، حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ لینا اور دفاعی تعلقات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مستقبل کی ترجیحات پر غور کرنا تھا۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ ادارہ جاتی فورم دونوں ممالک کو دفاعی پالیسی سے متعلق معاملات پر مشاورت، باہمی تجربات کے تبادلے اور تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس نوعیت کے اجلاس دوطرفہ تعلقات میں تسلسل برقرار رکھنے اور دفاعی شعبے میں رابطوں کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان اور ملائیشیا کے دفاعی و سیکیورٹی تعلقات مضبوط بنانے کا عزم
اجلاس کا ایک اہم پہلو دونوں ممالک کی جانب سے دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ تھا۔ دونوں وفود نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مسلسل رابطہ کاری، باقاعدہ مشاورت اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر تعاون جاری رہنا چاہیے۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دفاعی تعلقات دونوں ممالک کی وسیع تر دوطرفہ شراکت داری کا اہم حصہ ہیں۔ دفاعی شعبے میں اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور ادارہ جاتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے اور مشترکہ مفادات کے حامل امور پر تعاون کے امکانات تلاش کر سکتے ہیں۔
دونوں وفود کی جانب سے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا دفاعی تعاون کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے اور دوطرفہ شراکت داری میں مزید بہتری لانے کے خواہاں ہیں۔
جوائنٹ کمیٹی آن ڈیفنس کوآپریشن کی اہمیت
پاکستان-ملائیشیا جوائنٹ کمیٹی آن ڈیفنس کوآپریشن دونوں ممالک کے درمیان دفاعی امور پر مشاورت اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے۔ اس کمیٹی کے اجلاسوں کے ذریعے دونوں ممالک کے نمائندے دفاعی تعاون سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیتے، مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر تبادلۂ خیال کرتے اور مستقبل میں رابطوں کو مؤثر بنانے کے امکانات پر غور کرتے ہیں۔
کمیٹی کا 16واں اجلاس اس ادارہ جاتی تعاون کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ ملائیشیا میں ہونے والے گزشتہ اجلاس کے بعد راولپنڈی میں ہونے والی یہ ملاقات دونوں ممالک کو اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور دفاعی تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے مشاورت کا موقع فراہم کرتی ہے۔
دفاعی تعاون کے ایسے فورمز کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ان کے ذریعے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے برقرار رہتے ہیں اور مختلف امور پر پیش رفت کو منظم انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
علاقائی امن و استحکام کے تناظر میں دفاعی تعاون
موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات میں ممالک کے درمیان دفاعی و سیکیورٹی تعاون، باہمی اعتماد اور ادارہ جاتی روابط کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دفاعی امور پر مسلسل مشاورت دونوں ممالک کو مشترکہ مفادات کے معاملات پر تبادلۂ خیال اور تعاون کے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مستحکم بنانے کی کوششیں وسیع تر دوطرفہ روابط کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم، اجلاس میں زیرِ بحث مخصوص نئے معاہدوں، دفاعی خریداریوں یا کسی اضافی مشترکہ منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوطرفہ شراکت داری کے تسلسل کی جانب اہم پیش رفت
پاکستان-ملائیشیا جوائنٹ کمیٹی آن ڈیفنس کوآپریشن کے 16ویں اجلاس کا انعقاد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تسلسل اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی مشترکہ خواہش کا اظہار ہے۔ اجلاس میں گزشتہ پیش رفت کا جائزہ لینے، حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہنے اور دفاعی و سیکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرنے سے دوطرفہ دفاعی شراکت داری کو آگے بڑھانے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
راولپنڈی میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دفاعی شعبے میں مسلسل رابطہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کی ایک اہم کڑی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے کا عزم مستقبل میں دفاعی روابط کو مزید مؤثر بنانے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔



