
سید عاطف ندیم-ادارت
وزیرِ خزانہ نے ہفتے کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان نے اب تک ایران-امریکہ کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا جھٹکا تو برداشت کر لیا ہے لیکن خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملے پاکستان کے طویل مدتی معاشی منظرنامے کے لیے ‘تشویشناک’ ہیں۔
بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ایک انٹرویو میں محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ملک نے نومبر تک کے لیے توانائی کی کافی مقدار حاصل کر لی ہے اور اب وہ موسم سرما کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے جب عموماً گھریلو ضروریات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، "پاکستان نے فوری اور براہِ راست اثرات کو بخوبی سنبھال لیا ہے۔ ہمارے ہاں توانائی کی کوئی قلت نہیں ہوئی، گیس سٹیشنز پر قطاریں نہیں لگیں اور نہ ہی امن و امان کی کوئی ایسی صورتِ حال پیدا ہوئی جیسی کہ بعض دیگر ممالک میں دیکھنے کو ملی ہے۔”
نیز کہا کہ جب تک حکومت کو ‘انتہائی ضرورت’ محسوس نہ ہو، وہ ایل این جی کے سپاٹ کارگو نہیں خریدے گی کیونکہ یہ پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت ہونے والے سودوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہوتے ہیں۔
اورنگزیب نے آبنائے ہرمز اور سعودی عرب پر حوثی حملوں میں شدت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان معاشی معمولات کی بحالی میں تاخیر کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا، "اب تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میری نظر میں سچ یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم، یہ معاملہ کہاں تک جائے گا۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے: اگر بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رہے تو حالات کے معمول پر آنے میں زیادہ وقت لگے گا حتیٰ کہ اگر کشیدگی کم بھی ہو جائے۔”
‘مزاحمت’
پاکستان کے معاشی حالات اور قرضوں کے حوالے سے وزیرِ خزانہ اورنگزیب نے کہا، "خوش قسمتی سے ہم پہلے ہی کچھ عرصے سے مالی استحکام کی راہ پر گامزن ہیں۔”
حالیہ برسوں میں ملک کے ٹیکس محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت نجی شعبے کے ان کاروباری اداروں کی ٹیکس چوری کو ہدف بنا رہی ہے جو صارفین سے تو سیلز ٹیکس وصول کرتے ہیں لیکن کبھی سرکاری کھاتوں میں جمع نہیں کرواتے۔
اورنگزیب نے کہا، ایسی ٹیکس چوری کی مالیت اربوں ڈالر ہے اور انکم ٹیکس کی وصولی بڑھانے کے حوالے سے بھی ہنوز’بہتری کی گنجائش’ موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو صنعتوں، لابنگ گروپس اور ذاتی مفادات رکھنے والے حلقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا، "جب بھی آپ سٹیٹس کو (موجودہ صورتِ حال) کو تبدیل کرنے کی کوشش یا اصلاحات کرتے ہیں تو مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے۔”
آئی ایم ایف پروگرام کی معیارات میں سے ایک اہم ستون پاکستان میں سرکاری اثاثہ جات کی نجکاری کرنا ہے جہاں کئی کاروباری ادارے فوج کے زیرِ انتظام ہیں۔
ان کمپنیوں کے بارے میں سوال پر اورنگزیب نے اس بات کی تردید کی کہ ان کمپنیوں کو سرکاری فنڈز (سرکاری خزانے سے رقم) ملتی ہے۔
انہوں نے کہا، "جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو فوج جو بھی تجارتی ادارے چلا رہی ہے، وہ خود مختار بنیادوں پر چل رہے ہیں اور اپنے بل بوتے پر منافع کما رہے ہیں۔ اس لیے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم سرکاری خزانے سے انہیں کوئی فنڈز فراہم نہیں کر رہے۔”



