اہم خبریںپاکستان

اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل تیار، عمران خان کی منتقلی کا امکان، محسن نقوی کا اہم بیان

وزیراعظم شہباز شریف آئندہ دنوں میں جیل کا افتتاح کریں گے، پہلے مرحلے میں 1500 قیدیوں کی گنجائش ہوگی، دوسرے مرحلے میں گنجائش 3 سے 4 ہزار تک بڑھانے کا منصوبہ

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ناصر خان خٹک-ادارت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں نئی ماڈل سینٹرل جیل کے دورے کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے اہم اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی عدالتوں سے وابستہ قیدیوں کو نئی جیل منتقل کیا جائے گا، جبکہ منصوبے کا افتتاح وزیراعظم شہباز شریف آئندہ دنوں میں کریں گے۔ وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی نئی جیل منتقلی کے امکانات پر بحث شروع ہو گئی ہے، تاہم ان کی منتقلی کی حتمی تاریخ یا انتظامی فیصلے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

محسن نقوی نے منگل کے روز اسلام آباد ماڈل سینٹرل جیل کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ تقریباً 17 سال تک التوا اور تاخیر کا شکار رہا، تاہم اب اسے مکمل کر لیا گیا ہے اور افتتاح کے بعد قیدیوں کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

عمران خان اگست 2023 سے قید ہیں اور فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق وہ 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں سزا کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس کے علاوہ 9 مئی 2023 کے احتجاج سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی ان کے خلاف زیرِ سماعت ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد میں نئی جیل کے فعال ہونے کو ان کی ممکنہ منتقلی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

عمران خان کی منتقلی سے متعلق سوال پر محسن نقوی کا جواب

دورے کے دوران ایک صحافی نے وزیر داخلہ سے سوال کیا کہ آیا عمران خان کو بھی اڈیالہ جیل سے نئی اسلام آباد ماڈل جیل منتقل کیا جائے گا؟ اس پر محسن نقوی نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی عدالتوں سے متعلق قیدیوں کو نئی جیل منتقل کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ کے الفاظ میں، ’’میرا واضح جواب یہ ہے کہ جو بھی اسلام آباد کا قیدی ہے، اسے یہاں منتقل کیا جائے گا۔‘‘

محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے افتتاح کے بعد اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی منتقلی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ ان کے بیان میں عمران خان کی منتقلی کا نام لے کر کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اسلام آباد کی عدالتوں سے متعلق قیدیوں کے بارے میں ان کی وضاحت کو سابق وزیراعظم کی ممکنہ منتقلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس معاملے میں حتمی صورت حال کا انحصار متعلقہ عدالتی احکامات، قیدی کی قانونی حیثیت اور جیل انتظامیہ کے انتظامی فیصلوں پر ہوگا۔ وزیر داخلہ کے بیان سے نئی جیل میں منتقلی کی عمومی پالیسی کا عندیہ ملتا ہے، لیکن عمران خان کے بارے میں الگ سے کسی حتمی حکم یا تاریخ کی تصدیق نہیں ہوتی۔

17 سال سے تاخیر کا شکار منصوبہ مکمل ہونے کے قریب

محسن نقوی نے بتایا کہ اسلام آباد ماڈل سینٹرل جیل کے منصوبے پر ابتدائی کام 2009 میں شروع ہوا تھا، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز 2016 میں ہوا۔ ان کے مطابق، جب انہوں نے 2024 میں پہلی مرتبہ منصوبے کا دورہ کیا تو تعمیراتی کام کا صرف 40 سے 50 فیصد حصہ مکمل تھا اور منصوبہ تقریباً ترک کیے جانے کی صورت حال سے دوچار تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے اور اس کی تکمیل کے لیے وزارت داخلہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ٹیم نے مل کر کام کیا۔

ان کے مطابق، طلال چوہدری نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا، جبکہ سی ڈی اے کی ٹیم نے بھی تعمیراتی کام آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اب منصوبہ مکمل ہو چکا ہے اور حکومت وزیراعظم کی جانب سے افتتاح کی منتظر ہے۔ ان کے مطابق، افتتاح کے بعد نئی جیل کو فعال کرتے ہوئے قیدیوں کی منتقلی شروع کر دی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں 1500 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش

وزیر داخلہ نے بتایا کہ نئی جیل میں ابتدائی مرحلے کے دوران تقریباً 1500 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہوگی۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اس صلاحیت کو بڑھا کر تقریباً تین سے چار ہزار قیدیوں تک لے جانے کا ارادہ ہے۔

جیل سے متعلق فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں تین مکمل بیرکیں، 35 بستروں پر مشتمل ایک چھوٹا ہسپتال، مسجد اور کچن شامل ہیں۔ ان سہولیات کو جیل کے ابتدائی آپریشنز کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

جیل ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پہلے مرحلے میں عمران خان سمیت تقریباً 1500 قیدیوں کو نئی جیل منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ذرائع سے منسوب اس اطلاع اور وزیر داخلہ کے باضابطہ بیان میں فرق رکھا جائے؛ محسن نقوی نے قیدیوں کی عمومی منتقلی کی بات کی ہے، جبکہ عمران خان کی منتقلی کی حتمی تصدیق الگ سے سامنے نہیں آئی۔

عمران خان کے لیے خصوصی وارڈ تیار کرنے کی اطلاعات

ذرائع کے مطابق، عمران خان کی ممکنہ منتقلی کے پیش نظر نئی جیل میں ان کے لیے ایک خصوصی وارڈ تیار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ وارڈ کے اطراف سی سی ٹی وی نگرانی کے نظام کی تنصیب آخری مراحل میں ہے۔

بعض اطلاعات میں عمران خان کی منتقلی کے لیے 20 سے 30 نومبر کے درمیان کا وقت بھی بتایا گیا ہے، تاہم اس تاریخ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے اسے حتمی شیڈول کے بجائے ذرائع سے منسوب ایک امکان سمجھنا چاہیے۔

محسن نقوی اس سے قبل فروری میں بھی نئی جیل کے دورے کے بعد عمران خان کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔ اس موقع پر ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا عمران خان کو نئی جیل منتقل کیا جائے گا؟ وزیر داخلہ نے جواب دیا تھا کہ اگر کسی شخص کو اسلام آباد کی جانب سے سزا سنائی گئی ہے تو اسے اسلام آباد کی جیل میں لایا جائے گا۔

ان کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی عدالتوں سے متعلق قیدیوں کو وفاقی دارالحکومت میں قائم ہونے والی نئی جیل میں رکھنے کی پالیسی پر عمل درآمد کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم، کسی مخصوص قیدی کی منتقلی کا فیصلہ اس کی قانونی صورت حال اور متعلقہ حکام کے انتظامی اقدامات سے مشروط ہوگا۔

سیکٹر H-16 میں 90 ایکڑ پر محیط جدید جیل

اسلام آباد ماڈل سینٹرل جیل وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر H-16 میں واقع ہے اور تقریباً 90 ایکڑ رقبے پر تعمیر کی گئی ہے۔ فراہم کردہ منصوبہ جاتی تفصیلات کے مطابق، اسے تقریباً دو ہزار قیدیوں کو رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ جیل مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے لیے مخصوص طور پر تعمیر کی جانے والی پہلی جیل ہوگی۔ اس وقت اسلام آباد کی اپنی فعال جیل نہ ہونے کے باعث دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے زیرِ سماعت اور سزا یافتہ قیدیوں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے۔

نئی جیل کے قیام کا بنیادی مقصد اسلام آباد کے قیدیوں کو وفاقی دارالحکومت میں ہی رکھنے کے لیے مستقل انتظام فراہم کرنا ہے، تاکہ قیدیوں کو مختلف عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان بار بار منتقل کرنے کی ضرورت کم ہو سکے۔

خواتین اور کم عمر قیدیوں کے لیے الگ بیرکیں

منصوبے کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، نئی جیل میں صرف قیدیوں کی رہائش اور نگرانی ہی نہیں بلکہ ان کی بحالی، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے بھی سہولیات شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔

کمپلیکس میں خواتین اور کم عمر قیدیوں کے لیے علیحدہ بیرکیں، ہسپتال، مسجد، لائبریری، پیشہ ورانہ تربیتی مراکز، عدالتی کمرے اور انتظامی دفاتر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جیل کے عملے کے لیے رہائش اور ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول کی سہولت بھی منصوبے کا حصہ بتائی گئی ہے۔

ان سہولیات کا مقصد جیل کو محض قیدیوں کو بند رکھنے کی جگہ کے بجائے ایک ایسے اصلاحی مرکز کی شکل دینا ہے جہاں بنیادی ضروریات، علاج معالجے، تعلیم اور ہنر سکھانے کے انتظامات بھی موجود ہوں۔

تاہم، کسی بھی جدید جیل کی کامیابی کا انحصار صرف عمارت اور سہولیات کی دستیابی پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے انتظامی نظام، تربیت یافتہ عملے، قیدیوں کے حقوق کے تحفظ، طبی سہولیات کے معیار اور بحالی کے پروگراموں کے مؤثر نفاذ پر بھی ہوتا ہے۔

جیل کے کچن اور ہسپتال کا معائنہ

محسن نقوی نے دورے کے دوران جیل کے کچن اور ہسپتال سمیت مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیل انتظامیہ وزیراعظم کے افتتاح کے بعد کام شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق، منصوبے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جیل میں موجود سہولیات، حفاظتی انتظامات اور انتظامی تیاریوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

البتہ جیل کو باقاعدہ فعال کرنے سے قبل تمام ضروری سہولیات، عملے کی دستیابی، سکیورٹی نظام، طبی انتظامات اور قیدیوں کی منتقلی کے طریقۂ کار کی عملی تیاری اہم ہوگی۔ منصوبے کے مختلف حصوں کی مکمل فعالیت اور دستیاب سہولیات کی حتمی صورت حال متعلقہ حکام کی تفصیلات سے واضح ہوگی۔

اسلام آباد کے قیدیوں کی منتقلی سے انتظامی بوجھ کم ہونے کی توقع

اس وقت اسلام آباد کی فعال جیل نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے قیدیوں کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے۔ اس انتظام کے تحت زیرِ سماعت مقدمات کے قیدیوں کو مختلف تاریخوں پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش کرنے کے لیے راولپنڈی سے وفاقی دارالحکومت لانا پڑتا ہے۔

اس عمل میں پولیس کی افرادی قوت، قیدیوں کی حفاظت، گاڑیوں اور دیگر وسائل کی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔ قیدیوں کی آمدورفت کے باعث ٹریفک اور سکیورٹی کے انتظامات پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

نئی جیل فعال ہونے کے بعد توقع ہے کہ اسلام آباد سے متعلق مقدمات میں قیدیوں کو عدالتوں تک پہنچانے کا عمل نسبتاً آسان ہو جائے گا اور پولیس کے وسائل پر پڑنے والا کچھ بوجھ کم ہوگا۔ تاہم، اس کے عملی نتائج کا انحصار قیدیوں کی منتقلی کے طریقۂ کار، عدالتی نظام کے ساتھ رابطے اور نئی جیل کی انتظامی صلاحیت پر ہوگا۔

عمران خان کی منتقلی کے معاملے میں اب کیا اہم ہوگا؟

وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کے بعد نئی جیل کے افتتاح اور قیدیوں کی منتقلی کا معاملہ سیاسی اور انتظامی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ عمران خان کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ان کی قانونی حیثیت اور مقدمات کی نوعیت انہیں نئی جیل منتقل کرنے کے حکومتی منصوبے میں شامل کرتی ہے یا نہیں۔

حکومت کی جانب سے اب تک سامنے آنے والا مؤقف یہ ہے کہ اسلام آباد کی عدالتوں سے متعلق قیدیوں کو نئی جیل میں منتقل کیا جائے گا۔ دوسری جانب، عمران خان کے لیے خصوصی وارڈ کی تیاری اور نومبر میں منتقلی کی تاریخ سے متعلق اطلاعات ذرائع سے منسوب ہیں، جن کی باضابطہ تصدیق ضروری ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جیل کے افتتاح، جیل انتظامیہ کے فعال ہونے اور قیدیوں کی منتقلی کے باضابطہ شیڈول کے اعلان کے بعد اس معاملے پر مزید وضاحت متوقع ہے۔

مجموعی طور پر اسلام آباد ماڈل سینٹرل جیل کی تکمیل وفاقی دارالحکومت کے عدالتی اور انتظامی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے اسلام آباد کے قیدیوں کو مقامی سطح پر رکھنے کی سہولت میسر آنے کے ساتھ پولیس اور سکیورٹی انتظامات پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ تاہم، عمران خان کی منتقلی کے حوالے سے حتمی صورت حال سرکاری اعلان اور متعلقہ قانونی و انتظامی فیصلوں کے بعد ہی واضح ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button