اہم خبریںبین الاقوامی

یورپی رہنماؤں کی جانب سے پوٹن سے بات چیت سے گریز کےدوران امریکی صدر ٹرمپ نے پوٹن کے ساتھ قربت بڑھائی ہے

یورپی یونین کے کئی دارالحکومتوں میں ٹرمپ کو غیر متوقع، غیر مستقل مزاج اور یوکرین کی قیمت پر پوٹن کا ساتھ دینے کی جانب مائل سمجھا جاتا ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیرِ اعظم یوناس گار اسٹورے نے منگل کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے یوکرین کی جنگ ختم کرنے پر زور دیا۔ یہ رابطہ مغربی یورپی رہنماؤں کی جانب سے کریملن سے براہِ راست بات چیت سے گریز کی دیرینہ روش سے ہٹ کر کیا گیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی یہ کوشش ایسے وقت میں سفارتی عمل پر اثرانداز ہونے کے لیے کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف روس کے حق میں تبدیل ہوا ہے اور امریکہ اور یوکرین کے تعلقات گزشتہ اٹھارہ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
یوکرینی صدر کے ایک معاون کے مطابق، دونوں نورڈک رہنماؤں نے پوٹن سے گفتگو کے بعد صدر وولودیمیر زیلنسکی سے بھی ٹیلی فون پر بات کی۔
اسٹب نے اسٹورے کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا، ’’پوٹن کے ساتھ گفتگو کھلی اور ٹھوس تھی۔ ہم روس کے ہمسایہ ممالک ہیں۔ اس جنگ کا نتیجہ ہماری اور پورے یورپ کی سلامتی پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔ جنگ ختم کرنے کے لیے براہِ راست بات چیت ضروری ہے۔‘‘
اسٹورے نے کہا کہ جنگ کے انسانی اور مادی نقصانات بے پناہ ہیں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور مصائب نسلوں تک اثرانداز ہوں گے۔ ان کے مطابق، گفتگو میں کشیدگی کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے لیے اپنی مضبوط حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
کریملن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ پوٹن نے اپنے پہلے سے بیان کردہ مؤقف میں نرمی دکھائی ہو۔
روسی صدارتی دفتر نے کہا، ’’اس بات پر زور دیا گیا کہ منصفانہ اور دیرپا امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب روسی فیڈریشن کے جائز مفادات کو مکمل اور غیر مشروط طور پر مدنظر رکھا جائے۔‘‘
کریملن کے مطابق، گفتگو میں یورپی یونین اور نیٹو ممالک کی ان پالیسیوں کی جانب بھی توجہ دلائی گئی جنہیں روس محاذ آرائی پر مبنی اور لڑائی طول دینے کا سبب قرار دیتا ہے۔
فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل پیمانے کے حملے کے بعد سے مغربی یورپی رہنما پوٹن سے عموماﹰ بہ راہ راست رابطوں سے گریز کرتے رہے ہیں، جبکہ ماسکو پر پابندیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
تاہم، اس مؤقف کے باعث جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں وہ بڑی حد تک پس منظر میں چلے گئے ہیں اور سفارتی عمل کی قیادت ٹرمپ کرتے رہے ہیں۔ یورپی یونین کے کئی دارالحکومتوں میں ٹرمپ کو غیر متوقع، غیر مستقل مزاج اور یوکرین کی قیمت پر پوٹن کا ساتھ دینے کی جانب مائل سمجھا جاتا ہے۔
اس تاثر کو رواں ماہ ہونے والے ان معاہدوں سے مزید تقویت ملی جن کے تحت پوٹن نے امریکہ کو روسی ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ ٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کی۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یوکرینی عوام زیلنسکی کی جگہ نیا رہنما منتخب کریں۔
یوکرین نے امریکہ کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اپنی فوج کے زیرِاستعمال سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز میں خلل کی شکایت بھی کی ہے۔
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں کے پوٹن سے رابطے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں روس کی جانب سے امن کی خواہش کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی آر سے گفتگو میں کہا، ’’میرے خیال میں یورپ کو انفرادی طور پر آگے بڑھنے کے بجائے متحد رہنا چاہیے۔‘‘
اسٹب اور اسٹورے نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے اپنے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے گفتگو کی، پورے یورپ کی نمائندگی نہیں کی۔ انہوں نے یوکرین کے لیے اپنے ممالک کی دیرینہ حمایت جاری رکھنے کا بھی اعادہ کیا۔
روس بارہا یورپی حکومتوں پر الزام لگا چکا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کر کے اور براہِ راست مذاکرات سے انکار کر کے جنگ کو ہوا دے رہی ہیں۔ ماسکو ان کے رویے کا تقابل ٹرمپ سے کرتا ہے، جو پوٹن سے رابطے میں رہے ہیں اور اب تک کامیابی کے بغیر امن معاہدہ کرانے کی کوشش کر چکے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button