تازہ ترینمشرق وسطیٰ

ایک غیر متوقع حربے کے ذریعے، اسرائیل کی سٹار لنک صارفین کی جاسوسی

ڈسکور ٹیک اور اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بھی گذشتہ 2 ہفتوں کے دوران تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

سپیس ایکس کمپنی کی سروس "سٹار لنک” کو ایک نئے نوعیت کے سکیورٹی چیلنج کا سامنا ہے۔ سائبر سکیورٹی کے محققین نے ایک اسرائیلی اشتہاری ٹیکنالوجی کمپنی کی وسیع سرگرمیوں کا انکشاف کیا ہے، جن کا ہدف 100 سے زائد ممالک میں اس سروس کے صارفین ہیں۔
اس سلسلے میں چھ با خبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈیجیٹل سکیورٹی کی ایک کمپنی کے ماہرین نے حال ہی میں دریافت کیا کہ ایک اسرائیلی اشتہاری ٹیکنالوجی کمپنی سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی سروس سٹار لنک کے صارفین کو بڑے پیمانے پر ہدف بنا رہی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس کا ممکنہ مقصد ان کی جاسوسی کرنا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ٹوکیو میں قائم سائبر سکیورٹی کمپنی ٹرینڈ مائیکرو کے ذیلی ادارے "ٹرینڈ اے آئی” کے محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسرائیلی کمپنی ’’ڈسکور ٹیک‘‘ سٹار لنک کے صارفین کو دکھائے جانے والے ڈیجیٹل اشتہارات کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔ غالب امکان ہے کہ ان اشتہارات کو صارفین کے جغرافیائی مقامات کا تعین کرنے یا دوسرے طریقوں سے ان کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
محققین نے اپنے نتائج کے لیے ٹرینڈ اے آئی کے ٹیلی میٹری ڈیٹا جمع کرنے والے نظام میں موجود ڈیجیٹل اشتہارات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ڈسکور ٹیک دنیا بھر میں سٹار لنک کے صارفین کو ہدف بنانے والے اشتہارات کی سب سے بڑی بولی دہندگان میں شامل ہو گئی ہے۔ کمپنی 100 سے زائد ممالک میں سٹار لنک نیٹ ورک پر منتقل ہونے والے ڈیٹا سے متعلق اشتہارات کے لیے سب سے زیادہ بولی لگانے والی کمپنی تھی۔ ان ممالک میں کئی ایسے ملک بھی شامل ہیں جہاں سٹار لنک سروس پر پابندی عائد ہے یا اس کے استعمال کو محدود کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ’’بولی لگانے‘‘ کی اصطلاح سے مراد اشتہارات کی خریداری کا وہ پیچیدہ نیلامی کا نظام ہے جس کے ذریعے مشتہرین صارفین کے براؤزرز اور ایپلی کیشنز میں اشتہارات دکھانے کے لیے جگہ حاصل کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں ٹرینڈ اے آئی نے رواں ماہ کے وسط میں سٹار لنک کے صارفین کو ہدف بنانے کے معاملے پر ایک رپورٹ جاری کی تھی، تاہم اس میں ڈسکور ٹیک کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ رپورٹ میں ذمہ دار فریق کو اشتہاری ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والا ایک ادارہ قرار دیا گیا اور اسے ’’شیڈو ارتھ 79‘‘ کا نام دیا گیا۔
تاہم ذرائع نے بتایا کہ ’’شیڈو ارتھ 79‘‘ وہ خفیہ نام ہے جسے ٹرینڈ اے آئی، ڈسکور ٹیک کے لیے استعمال کرتی ہے۔
دوسری جانب اسپیس ایکس کمپنی نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ ڈسکور ٹیک اور اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بھی گذشتہ 2 ہفتوں کے دوران تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ٹرینڈ اے آئی نے اپنی رپورٹ میں ’’شیڈو ارتھ 79‘‘ کا نام واضح طور پر نہ بتانے کی وجوہات سے متعلق سوالات کا براہ راست جواب بھی نہیں دیا۔ تاہم کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ذمہ دار فریق کی شناخت کے لیے اس کا طریقہ کار غلطیوں کے امکانات کم کرنے اور ’’تشہیر سے متاثر ہو کر لگائے جانے والے لیبلز‘‘ یا ’’غیر مستحکم ناموں سے شناخت کیے جانے والے عناصر‘‘ سے بچنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ایسے نام دفاعی ماہرین کو گمراہ کر سکتے ہیں، خطرات کی ترجیحات کی درجہ بندی کو مسخ کر سکتے ہیں اور نا مناسب جوابی اقدامات کا باعث بن سکتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ہآرٹز اور ویب سائٹ انٹیلی جنس آن لائن نے بھی رواں سال مئی میں الگ الگ رپورٹیں شائع کی تھیں، جن میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی ملکیت والی کمپنیاں اپنے صارفین کو سٹار لنک استعمال کرنے والوں کی شناخت کرنے اور ان کا تعاقب کرنے کے طریقے فراہم کرتی ہیں۔ ہآرٹز اخبار کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل میں اشتہارات کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھانا بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
سٹار لنک کے صارفین کا تعاقب کرنے کے طریقے تلاش کرنا ایک نئی سرگرمی بن گئی ہے، جبکہ دنیا بھر کی حکومتیں سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹیشنوں کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
چونکہ یہ اسٹیشن ڈیٹا کی ترسیل کے لیے اسپیس ایکس کمپنی کے زیر انتظام سیٹلائٹس استعمال کرتے ہیں، نہ کہ قومی سطح پر ضوابط کے تابع ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کے نیٹ ورکس، اس لیے ان کے ذریعے مقامی انٹرنیٹ پابندیوں کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے، دشمن علاقوں میں رابطے کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے یا میدانِ جنگ میں کارروائیوں کو مربوط بنایا جا سکتا ہے۔
یوکرین بھی میدانِ جنگ میں رابطوں اور ڈرون آپریشنز کے لیے سٹار لنک سروس استعمال کرتا ہے۔ اس سیٹلائٹ سروس پر پابندیاں عائد کیے جانے کے نتیجے میں یوکرین کے ان حملہ آور اور دفاعی ڈرون مشنز متاثر ہوئے جنہیں کیف، روس کے خلاف انجام دیتا ہے۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کرتے ہوئے ارب پتی ایلون مسک سے درخواست کی کہ کیف کے لیے فراہم کی جانے والی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے فوجی استعمال والے ورژن پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button