
آؤڈی کی امریکہ میں سرمایہ کاری، جرمن آٹو انڈسٹری کے لیے دھچکا
آؤڈی کے چیف ایگزیکٹیو گیرنوٹ ڈؤلنر نے ٹرمپ کی ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا، ''امریکہ میں آؤڈی کے لیے ہمارے عزائم بہت بلند ہیں۔‘‘
نک مارٹن
آؤڈی کا چار بلین ڈالر پلان کیا ہے؟
جرمن لگژری کار ساز کمپنی آؤڈی امریکہ کی ریاست جارجیا میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی لاگت سے اپنی پہلی امریکی فیکٹری قائم کرنے جا رہی ہے، جہاں 4,500 کے قریب نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ منصوبے کے تحت اگلی دہائی کے آغاز میں سالانہ 2 لاکھ تک پریمیم ایس یو ویز تیار کی جائیں گی۔ آؤڈی کے مطابق یہ سرمایہ کاری امریکی مارکیٹ سے طویل المدتی وابستگی کا اظہار ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمنی کی آٹو انڈسٹری چینی الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے مقابلے، بڑھتی لاگت اور عالمی تنازعات کے باعث شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ فوکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور مرسیڈیز بینز سمیت بڑی کمپنیوں نے منافع میں کمی کی وارننگز اور وسیع پیمانے پر اخراجات میں کٹوتیوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ آؤڈی کی جرمن فیکٹریوں پر بھی بندش کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ اس تناظر میں آؤڈی کی امریکی سرمایہ کاری نے جرمنی میں صنعتی مستقبل اور روزگار کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

آؤڈی امریکہ میں کیوں سرمایہ کاری کر رہی ہے؟
آؤڈی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری صرف ٹیرف سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ امریکی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے اور کاروبار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
اگرچہ آؤڈی کی یہ سرمایہ کاری بیرونِ ملک سے صنعت کو امریکہ واپس لانے کے ٹرمپ کے منصوبے سے ہم آہنگ ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بڑے منصوبے کا اصل مقصد ترقی کے نئے مواقع حاصل کرنا اور کاروباری استحکام بڑھانا ہے۔
آؤڈی کے چیف ایگزیکٹیو گیرنوٹ ڈؤلنر نے ٹرمپ کی ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا، ”امریکہ میں آؤڈی کے لیے ہمارے عزائم بہت بلند ہیں۔‘‘
ان کے بقول، ”امریکہ دنیا کی اہم ترین پریمیم گاڑیوں کی منڈیوں میں سے ایک ہے، لیکن ہم ابھی تک اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ہم اسے بدلنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ صرف ایک فیکٹری تعمیر کرنے کا منصوبہ نہیں بلکہ امریکہ میں آؤڈی کے کاروبار کو مزید مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی ہے۔‘‘
تاہم ماہرین کے مطابق نئی امریکی فیکٹری کمپنی کو ٹرمپ کے عائد کردہ درآمدی محصولات کے اثرات کم کرنے میں بھی مدد دے گی۔ آؤڈی، جو اس وقت یورپ اور میکسیکو سے امریکی مارکیٹ کو گاڑیاں برآمد کرتی ہے، کے مطابق گزشتہ سال اسے ٹیرف کے باعث تقریباً 1.2 ارب یورو اضافی لاگت برداشت کرنا پڑی۔ شدید مسابقت اور الیکٹرک گاڑیوں پر امریکی سبسڈی کے خاتمے کے بعد امریکہ میں آؤڈی کی فروخت بھی 16 فیصد کم ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق امریکہ میں فیکٹری کے قیام سے آؤڈی ٹرمپ کے درآمدی محصولات کے اثرات کم یا مکمل طور پر ختم کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

جرمنی میں ردعمل
ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں نئی سرمایہ کاری جرمنی میں مزید نوکریوں کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
تنقید کا ایک بڑا رخ آؤڈی کے سربراہ گیرنوٹ ڈؤلنر کی ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی جلسے میں شرکت بھی ہے۔ جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) کی ٹرانسپورٹ پالیسی کی ترجمان ایزابیل کاڈیمارٹوری نے اسے جرمنی کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑنے والے ایک ”آمریت پسند رہنما‘‘ کی انتخابی مہم میں تعاون قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا،”یہ شرمناک ہے، خاص طور پر فوکس ویگن گروپ کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے۔‘‘ ان کا اشارہ فوکس ویگن گروپ کی نازی دور میں ایڈولف ہٹلر کی حکومت سے وابستگی کی طرف تھا۔
اُدھر جرمنی کی طاقتور یونین (IG Metall) کی صدر کرسٹیانے بینر نے ٹرمپ کے انتخابی جلسے میں آؤڈی کے سربراہ کی شرکت کو ”انتہائی شرمناک، سیاسی طور پر ناقابلِ قبول اور کمپنی کے شایانِ شان نہیں‘‘ قرار دیا۔
ادھر فوکس ویگن ورکس کونسل کی سربراہ دانییلا کاوالو نے اس سے بھی سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گیرنوٹ ڈولنر نے خود کو ٹرمپ کے ”پروپیگنڈا شو کی ایک کٹھ پتلی‘‘ بننے دیا۔

آؤڈی کے ترجمان نے امریکی سرمایہ کاری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ جرمنی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں بلکہ ہماری عالمی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔‘‘
آؤڈی کے سپروائزری بورڈ کے چیئرمین مانفریڈ ڈوس نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کا مستقبل صرف اخراجات میں کمی اور کارکردگی بڑھانے سے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کے بقول، ”ہمیں سرمایہ کاری کرنے، نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور ایسے فیصلے کرنے کا حوصلہ درکار ہے جو آنے والی کئی دہائیوں تک ہماری کمپنی کی سمت متعین کریں۔‘‘
یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جو بظاہر 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان انتخابات میں ووٹرز یہ فیصلہ کریں گے کہ صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری دو برسوں کے دوران کانگریس میں ریپبلکن یا ڈیموکریٹک پارٹی میں سے کس کو اکثریت حاصل ہوگی۔
مزید یہ ک ہ اس سرمایہ کاری کے منصوبے کا اعلان ریاست جارجیا میں کیا گیا، جسے انتخابیاعتبار سے ایک اہم اور فیصلہ کن ریاست سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام مقامی ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم کو تقویت دینے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔



