تازہ ترینکاروبار

ایران جنگ کے طویل ہونے سے یورپی بیئر ساز کمپنیاں مشکل میں

ایسی کمپنیاں ان میں سے بعض اخراجات کے لیے طویل مدت تک قیمتیں طے کرنے کے معاہدے کر سکتی ہیں، لیکن ان معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
روئٹرز کے ساتھ

یورپ کی بڑی بیئر ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات سے ان کا منافع متاثر ہو رہا ہے۔ یہ کمپنیاں اپنے اخراجات میں تخفیف اور اپنے برانڈز کی قیمتیں بڑھانے پر غور کر رہی ہیں۔

یورپ کی بڑی بیئر ساز کمپنیوں، جن میں انہوئزر بش اِن بیو (اے بی اِن بیو) Anheuser-Busch InBev  بھی شامل ہے، نے رواں ہفتے تشویش ظاہر کی کہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات ان کے منافع کو متاثر کرنے لگے ہیں۔

دنیا بھر میں فروخت کے حجم کے لحاظ سے سب سے بڑی بیئر ساز کمپنی اے بی اِن بیو اور اس کے حریف اداروں ہائنیکن Heineken اور کارلسبرگ Carlsberg نے صارفین کی مصنوعات بنانے والی دیگر کمپنیوں، مثلاً پراکٹر اینڈ گیمبل، فلپ مورس انٹرنیشنل اور کوکا کولا کے ساتھ مل کر بھی بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایران جنگ اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کے باعث یہ دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

بیئر ساز کمپنیوں کو بجلی، ایندھن اور ایلومینیم جیسی اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ انہیں شیشے کی بوتلیں اور بیئر کے کین تیار کرنے کے ساتھ ساتھ مصنوعات دکانوں اور دیگر مقامات تک پہنچانے کے لیے بھی ان وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسی کمپنیاں ان میں سے بعض اخراجات کے لیے طویل مدت تک قیمتیں طے کرنے کے معاہدے کر سکتی ہیں، لیکن ان معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔

فرانسیسی شراب کی ایک دکان (علامتی تصویر)
بیئر ساز کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ 2027 میں بھی جنگ سے متعلق اخراجات میں زیادہ نمایاں اضافہ ہو گاتصویر: picture alliance / Zoonar

بڑھتے ہوئے اخراجات سے آمدنی متاثر

اسٹیلا آرٹوا Stella Artois  اور بڈوائزر Budweiser جیسے برانڈز کی مالک اے بی اِن بیو نے کہا ہے کہ بعض ممالک میں توقع سے بہتر آمدنی کے باوجود بڑھتے ہوئے اخراجات نے اس اضافے کے اثرات کو زائل کر دیا۔ اس کمپنی کے مطابق امریکہ، یورپ اور جنوبی افریقہ میں خام مال، تقسیم اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر فرنانڈو ٹینن باؤم نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ بعض منڈیوں میں ڈیزل جیسے اخراجات، جنہیں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا، نے تیسری سہ ماہی میں کمپنی کو متاثر کیا۔

دنیا کی دوسری سب سے بڑی بیئر ساز کمپنی ہائنیکن بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہی ہے۔ کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر ہارولڈ فان ڈین برؤک نے بتایا کہ ایشیا، افریقہ کی بعض منڈیوں اور اب یورپ میں بھی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ رجحان اگلے سال بھی جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر ہائنیکن نے اپنے اخراجات میں بچت کے پروگرام کو مزید تیز کر دیا ہے۔

قیمتوں میں اضافہ واحد راستہ

چھوٹی حریف کمپنی کارلسبرگ کو بھی خدشہ ہے کہ 2027 میں بھی جنگ سے متعلق اخراجات میں زیادہ نمایاں اضافہ ہو گا۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو جیکب آروپ اینڈرسن نے روئٹرز کو بتایا کہ اس اضافے کی بنیادی وجوہات توانائی اور ایلومینیم کی قیمتیں ہیں، جو کمپنی سالانہ 10 ارب سے زیادہ کین تیار کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ان کے مطابق اخراجات میں یہ اضافہ 2022 اور 2023 میں خام مال کی قیمتوں میں ہونے والے سابقہ اضافے کے مقابلے میں کم شدید ہو گا، تاہم کارلسبرگ اگلے سال اخراجات میں بچت کے اقدامات کرے گی اور اپنے برانڈز کی قیمتیں بھی بڑھائے گی۔

انہوں نے کہا، ”ہم قدر اور لاگت کے حوالے سے اقدامات کریں گے، جن میں سے ایک قیمتوں میں اضافہ بھی ہو گا۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button