
یوکرین میں روس کے شدید فضائی حملے، لاکھوں شہری بجلی سے محروم؛ جوابی ڈرون کارروائی میں روسی صنعتی تنصیب کو نقصان
روس کا رات بھر میں 235 یوکرینی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ، کیف کے مطابق روس کے 433 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز میں سے 371 تباہ کر دیے گئے؛ توانائی کا بنیادی ڈھانچہ دونوں ممالک کے حملوں کا مرکز بن گیا
کیف: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں فضائی حملوں کی شدت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام متاثر ہوا اور لاکھوں شہری بجلی کی فراہمی سے محروم ہو گئے، جبکہ یوکرین کی جانب سے کیے گئے جوابی ڈرون حملوں میں روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ میں ایک صنعتی تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کے روز بتایا کہ روسی فوج نے رات کے دوران یوکرین کے چار علاقوں میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس کے باعث بڑی تعداد میں گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔ دوسری جانب روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے رات بھر روسی علاقوں کے اوپر 235 یوکرینی ڈرونز مار گرائے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے ہفتے کی شام سے اب تک یوکرین کی جانب 433 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز بھیجے، جن میں سے 371 کو تباہ کر دیا گیا۔ تاہم یوکرینی فضائیہ نے اپنی تازہ ترین صبح کی رپورٹ میں بتایا کہ اتوار کی صبح بھی متعدد روسی ڈرونز فضا میں موجود تھے، جبکہ دارالحکومت کیف میں رات کے دوران ڈرون حملوں سے متعلق چھ مختلف انتباہات جاری کیے گئے۔
روسی حملوں سے یوکرین کا توانائی نظام متاثر، لاکھوں شہری بجلی سے محروم
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں کہا کہ روسی فوج نے رات کے وقت یوکرین کے چار علاقوں میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کو بجلی کی فراہمی میں تعطل کا سامنا کرنا پڑا۔
زیلنسکی کے مطابق حملوں کی شدت غیر معمولی تھی اور روسی فوج مسلسل ایسے مقامات کو نشانہ بنا رہی ہے جو یوکرین کے توانائی نظام اور شہری زندگی کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی افواج یوکرین کے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے دفاعی نظاموں اور ان کے لیے دستیاب انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا مقصد ملک میں بجلی کی فراہمی کو متاثر کرنا اور شہری آبادی کو مشکلات سے دوچار کرنا ہے۔ بجلی کی بندش کے باعث گھریلو صارفین کے علاوہ کاروباری سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور دیگر ضروری خدمات پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یوکرین گزشتہ کئی برسوں سے روسی حملوں کے نتیجے میں اپنے بجلی گھروں، ٹرانسمیشن لائنوں اور دیگر توانائی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات سے نمٹ رہا ہے۔ موسمِ سرما کے قریب آنے کے باعث توانائی کے نظام پر حملوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ بجلی اور حرارت کی فراہمی شہری آبادی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔
یوکرین کا روسی میزائل پلانٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
صدر زیلنسکی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ یوکرین نے روس کے علاقے روستوف میں واقع کامینسکی پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ صنعتی تنصیب روسی میزائلوں کی تیاری سے منسلک ہے اور اس پر حملہ روس کی عسکری پیداواری صلاحیت کو متاثر کرنے کی کوشش کا حصہ تھا۔
تاہم روسی حکومت نے روستوف کے علاقے میں اس مبینہ حملے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی اس مقام کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق سامنے آئی ہے۔
یوکرین کی جانب سے روسی عسکری صنعت سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت کیف روس کی جنگی پیداوار، رسد اور عسکری ڈھانچے کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
نزنی نووگوروڈ میں صنعتی تنصیب کو نمایاں نقصان
دوسری جانب روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ کے گورنر گلیب نیکیتن نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے رات کے دوران کیے گئے بڑے پیمانے پر ڈرون حملے میں ایک صنعتی تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
گورنر نے حملے کا نشانہ بننے والی تنصیب کا نام یا درست مقام ظاہر نہیں کیا، تاہم ان کے بیان کے بعد خطے میں تیل صاف کرنے اور ایندھن کی فراہمی کے نظام کے حوالے سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ نزنی نووگوروڈ میں روس کی بڑی آئل ریفائنریز میں شمار ہونے والی نورسی (NORSI) آئل ریفائنری بھی واقع ہے، تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ حملے میں یہی تنصیب متاثر ہوئی۔
روسی علاقائی حکومت نے کہا ہے کہ صنعتی تنصیب کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ایندھن کی فراہمی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق گیس اسٹیشنوں تک ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو کسی بڑی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق علاقائی انتظامیہ نے گاڑی چلانے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف ضرورت کے مطابق ایندھن خریدیں اور گھبراہٹ میں اضافی مقدار ذخیرہ کرنے سے گریز کریں۔ حکام کی جانب سے یہ اپیل اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ صنعتی تنصیب کو پہنچنے والے نقصان سے خطے میں ایندھن کی ترسیل یا فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم روسی حکام نے اس بات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ متاثرہ تنصیب کس نوعیت کی تھی اور اسے پہنچنے والے نقصان کے باعث پیداوار یا ایندھن کی ترسیل پر کتنا اثر پڑا ہے۔
روس کا 235 یوکرینی ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ
روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی افواج نے رات بھر روسی علاقوں کے اوپر 235 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا۔ روسی حکام کے مطابق ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک رہے اور مختلف علاقوں میں آنے والے خطرات کو روکنے کی کارروائیاں کی گئیں۔
دوسری جانب یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے ہفتے کی شام سے اب تک 433 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز یوکرین کی سمت بھیجے، جن میں سے 371 کو تباہ کر دیا گیا۔
یوکرینی فضائیہ کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی صبح بھی متعدد روسی ڈرونز فضا میں موجود تھے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کے خطرات برقرار رہے۔ دارالحکومت کیف میں آدھی رات کے بعد ڈرون حملوں کے حوالے سے چھ مرتبہ انتباہات جاری کیے گئے۔
دونوں ممالک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار ان کے اپنے سرکاری دعووں پر مبنی ہیں، جبکہ ان کی آزادانہ اور مکمل تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ تاہم ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کے عسکری و صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اولیشکی کے اطراف مقامی جنگ بندی برقرار، دیگر محاذوں پر لڑائی جاری
فضائی حملوں میں اضافے کے باوجود روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی قصبے اولیشکی کے اطراف چھ روزہ مقامی جنگ بندی اپنے آخری دن بھی برقرار رہی۔ یہ محدود جنگ بندی ایک مخصوص علاقے تک محدود تھی اور اس کا اطلاق جنگ کے دیگر محاذوں پر نہیں ہوا۔
اولیشکی کے گرد عارضی جنگ بندی برقرار رہنے کے باوجود محاذِ جنگ کے دوسرے حصوں میں لڑائی جاری رہی اور دونوں ممالک کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی حملوں کا سلسلہ بھی نہیں رکا۔
اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ محدود علاقوں میں عارضی جنگ بندی کے باوجود روس اور یوکرین کے درمیان وسیع تر جنگ کے خاتمے یا کسی جامع جنگ بندی کے امکانات تاحال غیر یقینی ہیں۔
تیل کی تنصیبات پر حملے اور عالمی ایندھن کی منڈی میں خدشات
روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے عالمی ایندھن کی منڈیوں اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے آئل ریفائنریوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے ایندھن کی پیداوار اور فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
جمعے کے روز روس نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین نے روسی آئل ریفائنریوں پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔ ماسکو نے کیف پر الزام لگایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایسے حملوں کو روکنے کی درخواست کو نظرانداز کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملوں کے باعث ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی تھی اور اس معاملے کو امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی قیمتوں کے تناظر میں بھی اٹھایا تھا۔
تاہم یوکرین کا مؤقف ہے کہ وہ توانائی کے اہداف پر مکمل جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے، جس میں یوکرین کے اپنے تباہ شدہ بجلی کے نظام کو بھی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ کیف کا کہنا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جنگی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دونوں فریقوں کو یکساں طور پر پابند ہونا چاہیے، لیکن ماسکو اس تجویز سے اتفاق کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
روسی نائب وزیراعظم کا عالمی ایندھن کی منڈی میں عدم توازن کا انتباہ
روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے اتوار کو سرکاری ٹی وی چینل ویسٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے حملے عالمی ایندھن کی منڈی میں عدم توازن کو مزید بڑھا رہے ہیں اور قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
نوواک نے اپنے انٹرویو میں نزنی نووگوروڈ کی صنعتی تنصیب پر ہونے والے حالیہ حملے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، تاہم انہوں نے روسی توانائی کے شعبے پر حملوں کے وسیع تر معاشی اثرات کی نشاندہی کی۔
ان کے مطابق ریفائنریوں اور ایندھن کی پیداوار سے منسلک تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے نہ صرف روس کے اندر ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھی قیمتوں اور رسد کے حوالے سے دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ روس عالمی توانائی کی منڈی میں ایک اہم کردار رکھتا ہے، جبکہ جنگ کے باعث اس کی تیل اور ایندھن کی صنعت کو مسلسل سکیورٹی اور پیداواری چیلنجز کا سامنا ہے۔
جنگ کے معاشی اور انسانی اثرات میں اضافے کا خدشہ
روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ اب صرف محاذِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ توانائی، صنعتی پیداوار، ایندھن کی ترسیل اور شہری بنیادی سہولیات بھی اس کا اہم ہدف بنتی جا رہی ہیں۔
یوکرین میں بجلی کی بندش سے لاکھوں شہری متاثر ہوئے ہیں، جبکہ روس میں صنعتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے توانائی نظام پر حملوں کے اثرات عام شہریوں، کاروباری سرگرمیوں اور معاشی استحکام تک پھیل سکتے ہیں۔
اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو دونوں ممالک کو بجلی، حرارت، ایندھن اور صنعتی پیداوار کے حوالے سے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں اولیشکی کے اطراف محدود جنگ بندی کے باوجود دیگر محاذوں پر جاری لڑائی اور دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں فوری کمی کے آثار نمایاں نہیں۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں نہ صرف جنگ کے دائرے کو وسیع کر رہی ہیں بلکہ شہری آبادی اور عالمی معیشت کے لیے بھی نئے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔
وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)



