اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

جنرل عاصم منیر نے کبھی اہلیہ کی کرپشن کے شواہد نہیں دکھائے، عمران خان

عمران خان نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نا تو جنرل عاصم منیر نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی مجھے کبھی ایسے شواہد دکھائے اور نا ہی میں نے ان کو اس وجہ سے ہٹوایا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان کو کبھی بھی ان کی اہلیہ کی کرپشن سے متعلق کوئی شواہد دکھائے اور نا ہی انھوں نے بطور وزیر اعظم جنرل عاصم منیر کو اس وجہ سے ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹوایا۔
عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاوئنٹ پر برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ میں نے جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے اس لیے ہٹوایا کیوں کہ انھوں نے مجھے میری اہلیہ بشری بیگم کے کرپشن کیسز دکھائے تھے۔‘
عمران خان نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’نا تو جنرل عاصم منیر نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی مجھے کبھی ایسے شواہد دکھائے اور نا ہی میں نے ان کو اس وجہ سے ہٹوایا۔‘
واضح رہے کہ جنرل عاصم منیر ستمبر 2018 میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تعینات ہوئے تھے۔
تاہم جون 2019 میں ان کی جگہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا تھا۔
گذشتہ برس سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل ایسی چہ مگویاں عام تھیں کہ عمران خان نے جنرل عاصم منیر کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی ان کے عہدے سے ہٹوایا تھا۔
تاہم عمران خان نے اس معاملے پر کبھی کھل کر بات نہیں کی۔
حال ہی میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل بھی جنرل عاصم منیر کے نام کی مخالفت نہیں کی تھی۔
عمران خان کی جانب سے اس حالیہ بیان کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ردعمل میں کہا کہ ’اگر آپ نے اس وجہ سے تبدیل نہیں کروایا تھا تو پھر کیا وجہ تھی؟ مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ کوئی اور وجہ نہیں دے سکتے کیوں کہ اصل وجہ یہی ہے۔‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button