پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

یومِ تکبیر پاکستان کے قومی وقار اور ناقابلِ تسخیر دفاع کی علامت ہے، ڈاکٹر وحید یوسف

انہوں نے کہا کہ Chagai-I کے ذریعے پاکستان دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن کر ابھرا اور اس کامیابی نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا۔

قاصم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز,ریڈیو پاکستان کے ساتھ

معروف تجزیہ کار ڈاکٹر وحید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے اور ملک کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات، جارحیت اور سازشوں کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے نمائندے قاسم بخاری کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر وحید یوسف نے کہا کہ 28 مئی 1998ء پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے، جب ملک نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے نہ صرف اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا سر بھی فخر سے بلند کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ Chagai-I کے ذریعے پاکستان دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن کر ابھرا اور اس کامیابی نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا۔

“ایٹمی دھماکے قومی سلامتی کے لیے ناگزیر تھے”

ڈاکٹر وحید یوسف نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو شدید عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی چیلنجز کا سامنا تھا، تاہم اُس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے قومی سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے تحفظ کے لیے جرات مندانہ فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا: “پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا مقصد کبھی جارحیت نہیں تھا بلکہ یہ مکمل طور پر دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ تھا تاکہ دشمن کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے روکا جا سکے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی قوت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے دفاع کو نئی مضبوطی ملی اور دشمن کے عزائم کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔

“یومِ تکبیر قومی اتحاد اور خودداری کی علامت”

معروف تجزیہ کار نے کہا کہ یومِ تکبیرصرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ قومی اتحاد، خودداری، استحکام اور خود انحصاری کی علامت ہے۔

ان کے مطابق پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کیا اور یومِ تکبیر اسی قومی جذبے کی روشن مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ:“پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی آزادی، سالمیت اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”

“پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا”

ڈاکٹر وحید یوسف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی اپنائی ہے، تاہم اگر کسی نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے ہر بار مؤثر جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور ملک کی مسلح افواج جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کی افواج نہ صرف روایتی جنگی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور دفاعی تیاری کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

“آپریشن بنیان مرصوص اور معرکہ حق دفاعی صلاحیت کی مثال”

ڈاکٹر وحید یوسف نے کہا کہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں کئی ایسے مواقع آئے جب دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے “آپریشن بنیان مرصوص” اور “معرکہ حق” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی عسکری مہارت، دفاعی تیاری اور قومی عزم کی عکاس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر محاذ پر پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کی جارحانہ حکمتِ عملی کو ناکام بنایا۔

“بھارت کو متعدد مواقع پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا”

ڈاکٹر وحید یوسف کے مطابق پاکستان کی مضبوط دفاعی حکمتِ عملی اور افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث بھارت کو مختلف مواقع پر ناکامی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ ایک مضبوط دفاع ہی دشمن کو جنگ سے باز رکھنے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

“قومی خود انحصاری وقت کی ضرورت”

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی ترقی، دفاعی استحکام اور اقتصادی خود انحصاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کو دفاعی میدان کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور معیشت میں بھی مزید مضبوط ہونا ہوگا تاکہ ملک ہر قسم کے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکے۔

ڈاکٹر وحید یوسف نے کہا کہ پاکستانی قوم کو یومِ تکبیر کے موقع پر اس عزم کا اعادہ کرنا چاہیے کہ ملک کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے متحد رہیں گے۔

“یومِ تکبیر نئی نسل کے لیے پیغام”

انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ یومِ تکبیر کی اہمیت کو سمجھیں اور ملک کی ترقی، دفاع اور استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔

ان کے مطابق یومِ تکبیر آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ قومی وقار، آزادی اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اتحاد، جرات اور قربانی ناگزیر ہیں۔

ڈاکٹر وحید یوسف نے کہا کہ پاکستان آج ایک مضبوط، خودمختار اور ایٹمی قوت ہے اور قوم کو اپنی مسلح افواج اور دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button