مشرق وسطیٰتازہ ترین

آبنائے ہرمز:خلیج میں جنگ کے خاتمے اور بحری تجارت کے تحفظ کے لیے اہم سفارتی پیش رفت

آبنائے ہرمز پر نئی سفارتی پیش رفت، عمان کی رضاکارانہ فیس کی تجویز کو خلیجی ممالک کی حمایت، ایران، امریکہ اور خطے کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید

روئٹرز کے مطابق

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایران و امریکہ کے درمیان تناؤ کے تناظر میں آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عمان نے ایک ایسے منصوبے کے لیے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل کر لی ہے جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے جہازوں سے رضاکارانہ سروس فیس وصول کر سکے گا، جبکہ اس آبی گزرگاہ پر عالمی جہاز رانی کی آزادی بھی برقرار رہے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس منصوبے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار روزانہ مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔

خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین، عراق اور ایران کی توانائی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

اسی وجہ سے اس آبی گزرگاہ میں معمولی کشیدگی بھی عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ انڈسٹری اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔


عمان کی متوازن تجویز

روئٹرز کے مطابق عمان کی پیش کردہ تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر مکمل یا یکطرفہ کنٹرول حاصل نہیں کرے گا۔

اس منصوبے میں ایران اور عمان مشترکہ طور پر اس حساس بحری راستے کے انتظام، نیوی گیشن، سمندری تحفظ، ماحولیاتی نگرانی اور سرچ اینڈ ریسکیو جیسے امور میں تعاون کریں گے۔

اس کے بدلے جہازوں سے لازمی ٹیکس نہیں بلکہ رضاکارانہ بنیادوں پر سروس فیس وصول کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اس تجویز کا مقصد ایران کے سلامتی سے متعلق خدشات کو بھی مدنظر رکھنا ہے جبکہ عالمی جہاز رانی کی آزادی کو بھی برقرار رکھنا ہے۔


آبنائے ملاکا کے ماڈل سے مماثلت

تجویز میں آبنائے ملاکا کے کامیاب ماڈل کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں واقع آبنائے ملاکا دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور جہاز رانی کی سہولیات، ماحولیاتی تحفظ اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے جہازوں سے رضاکارانہ تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔

اسی طرز پر آبنائے ہرمز میں بھی رضاکارانہ سروس فیس کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔


ایران کا دیرینہ مؤقف

ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ چونکہ اس کی ساحلی حدود آبنائے ہرمز کے ایک بڑے حصے سے متصل ہیں، اس لیے اسے عمان کے ساتھ مل کر اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

تہران کا کہنا ہے کہ جہازوں کی محفوظ آمدورفت، نیوی گیشن کی سہولیات، ماحولیاتی تحفظ اور سرچ اینڈ ریسکیو خدمات کی فراہمی کے لیے مناسب سروس فیس وصول کرنا ایک قابلِ عمل انتظامی طریقہ ہو سکتا ہے۔


امریکہ کا مؤقف

دوسری جانب امریکہ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے جہاں تمام تجارتی جہازوں کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی ملک کی جانب سے لازمی فیس عائد کی گئی تو یہ بین الاقوامی بحری قوانین کے خلاف تصور کی جا سکتی ہے۔

اسی لیے امریکی حکام رضاکارانہ ماڈل کو لازمی فیس کے مقابلے میں نسبتاً قابلِ قبول تصور کر رہے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے حتمی اتفاق رائے ابھی سامنے نہیں آیا۔


ایرانی وزیر خارجہ کے اہم سفارتی رابطے

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز اپنے عمانی اور سعودی ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔

بیان کے مطابق گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال، علاقائی سلامتی، سمندری تجارت کے تحفظ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے مختلف امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

عباس عراقچی نے اس موقع پر خطے کے ممالک کے درمیان تعاون، باہمی اعتماد اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔


صدر ٹرمپ کا نیا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مثبت رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی تازہ ترین حکمت عملی کے تحت انہوں نے دو ہفتوں سے جاری بمباری مہم روکنے کا فیصلہ کیا تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو امریکہ دوبارہ سخت اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔


خلیجی ممالک کا کردار

علاقائی مبصرین کے مطابق عمان ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ میں ثالث اور اعتماد ساز ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ماضی میں بھی عمان نے ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان حساس مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ تجویز بھی اسی سفارتی روایت کا تسلسل ہے جس کا مقصد تنازع کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔


عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

معاشی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز سے متعلق کسی قابلِ قبول معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے خام تیل اور ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ کم ہوگا، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ محدود رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں یا کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ انشورنس، تجارتی اخراجات اور سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔


سفارتی حل کی جانب اہم پیش رفت

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عمان کی رضاکارانہ سروس فیس کی تجویز خطے میں اعتماد سازی کی ایک اہم کوشش ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران، امریکہ، عمان اور دیگر خلیجی ممالک اس فارمولے پر اتفاق رائے قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر امن، علاقائی تعاون اور عالمی توانائی کی محفوظ ترسیل کے لیے بھی ایک مثبت سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button