پاکستاناہم خبریں

خضدار میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا انٹیلی جنس آپریشن، بارود سے بھری دو گاڑیاں تباہ، چار مبینہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد ہلاک

آپریشن کے دوران دونوں گاڑیوں کو محفوظ انداز میں تباہ کر دیا گیا، جبکہ انہیں چلانے والے چار دہشت گرد بھی مارے گئے۔

سید عاطف ندیم-ادارت

خضدار: بلوچستان کے ضلع خضدار میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کامیاب انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم "فتنہ الہندوستان” سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ دھماکہ خیز مواد سے بھری دو گاڑیوں کو بروقت تباہ کر کے ایک بڑے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 30 جولائی 2026 کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر خضدار کے حساس علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کیا گیا، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی اور بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد کی نقل و حرکت کی اطلاع ملی تھی۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گرد بارود سے بھری گاڑیوں کو وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائسز (VBIEDs) کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

بروقت کارروائی سے بڑا سانحہ ٹل گیا

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی۔ جیسے ہی بارود سے لدی دونوں گاڑیاں اپنے ہدف کی جانب بڑھنے لگیں، فورسز نے فوری اور انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے انہیں روک لیا۔

آپریشن کے دوران دونوں گاڑیوں کو محفوظ انداز میں تباہ کر دیا گیا، جبکہ انہیں چلانے والے چار دہشت گرد بھی مارے گئے۔ حکام کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

بارودی گاڑیاں خودکش حملوں کے لیے تیار کی گئی تھیں

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی دونوں گاڑیاں بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی تھیں اور انہیں VBIEDs یعنی بارودی گاڑیوں کے ذریعے خودکش یا ریموٹ کنٹرول حملوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی گاڑیاں حساس تنصیبات، سیکیورٹی چوکیوں یا عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، اور ان کی بروقت تباہی ایک بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔

علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری

سیکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی کارروائی کے بعد علاقے میں وسیع پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے مسلح دہشت گرد یا ان کے سہولت کاروں کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے اضافی نفری، نگرانی کے جدید آلات اور انٹیلی جنس وسائل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم

سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

حکام کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اعلیٰ سطحی کمیٹی سے منظور شدہ وژن "عزمِ استحکام” کے مطابق ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف مربوط اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اس حکمت عملی کا مقصد ملک میں سرگرم غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کا مکمل خاتمہ ہے۔

انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز میں تیزی

حالیہ مہینوں میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد منصوبے ناکام بنائے گئے، بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا اور کئی مطلوب دہشت گرد مارے گئے یا گرفتار ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات، جدید نگرانی کے نظام اور مختلف سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے کوششیں

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے، ترقیاتی منصوبوں کے تحفظ، عوام کے جان و مال کی حفاظت اور دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی ادارے مکمل طور پر متحد ہیں اور عوام کے تعاون سے امن دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔

واضح رہے

اس خبر میں دہشت گردوں کی مبینہ وابستگی اور بھارتی سرپرستی سے متعلق دعوے سیکیورٹی فورسز کے جاری کردہ سرکاری بیان پر مبنی ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہوئی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button