پاکستاناہم خبریںتازہ ترین

ہنگو میں خزینہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا بڑا حملہ، پولیس کا بھرپور جوابی آپریشن، 15 مبینہ دہشت گرد ہلاک، ڈی ایس پی سمیت 9 اہلکار شہید، 28 زخمی

کمک کے لیے آنے والے پولیس قافلے پر اچانک حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پولیس کی بکتر بند گاڑی (APC) کو شدید نقصان پہنچا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

ہنگو: خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں واقع خزینہ بانڈہ پولیس چیک پوسٹ پر مسلح دہشت گردوں کے بڑے حملے کے بعد سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی، جہاں پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرکاری بیان کے مطابق 15 مبینہ دہشت گرد ہلاک کر دیے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ اس شدید جھڑپ میں پولیس کے ڈی ایس پی دیار خان سمیت 9 اہلکار شہید جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 28 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے انتہائی نامساعد حالات میں غیر معمولی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

بھاری ہتھیاروں سے حملہ

پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں نے ہنگو کی خزینہ بانڈہ پولیس چوکی کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ حملہ اچانک اور منظم انداز میں کیا گیا، جس کا مقصد پولیس چوکی پر قبضہ کرنا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر اپنی دفاعی پوزیشن سنبھالی اور محدود وسائل کے باوجود حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔ شدید فائرنگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی، جبکہ دہشت گرد جدید خودکار ہتھیاروں اور بھاری اسلحے کا استعمال کرتے رہے۔

کمک پر بھی گھات لگا کر حملہ

حکام کے مطابق جیسے ہی حملے کی اطلاع ملی، ایس ڈی پی او سٹی کی سربراہی میں اضافی پولیس نفری کو فوری طور پر روانہ کیا گیا تاکہ چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں کی مدد کی جا سکے۔

تاہم راستے میں دہشت گرد پہلے ہی گھات لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کمک کے لیے آنے والے پولیس قافلے پر اچانک حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پولیس کی بکتر بند گاڑی (APC) کو شدید نقصان پہنچا۔

اس حملے کے باوجود پولیس اہلکاروں نے پیش قدمی جاری رکھی اور زخمی ہونے کے باوجود اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے چیک پوسٹ تک پہنچنے کی کوشش کی۔

شدید جھڑپ، 15 مبینہ دہشت گرد ہلاک

آئی جی پولیس کے مطابق پولیس کی مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں 15 مبینہ دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، تاہم علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ فرار ہونے والے حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

ڈی ایس پی دیار خان سمیت 9 اہلکار شہید

شدید جھڑپ کے دوران ڈی ایس پی دیار خان نے اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

سرکاری بیان کے مطابق مجموعی طور پر 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 28 اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق شہداء نے آخری دم تک اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے چیک پوسٹ کا دفاع کیا اور دہشت گردوں کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

آئی جی پولیس کا خراجِ تحسین

انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے شہداء اور زخمی اہلکاروں کی غیر معمولی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ:

"خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں نے انتہائی کٹھن اور اعصاب شکن حالات میں چٹان کی مانند دشمن کا مقابلہ کیا اور فرض کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔”

انہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کے لیے محکمہ پولیس کی جانب سے اعلیٰ ترین سرکاری اعزازات کی سفارش کی جائے گی۔

آئی جی پولیس نے یہ بھی کہا کہ وہ خود شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے، ان سے اظہار تعزیت کریں گے اور زخمی اہلکاروں کی عیادت کرکے ان کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کریں گے۔

آپریشن جاری، علاقے میں ہائی الرٹ

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ہنگو اور گرد و نواح میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملے میں ملوث دیگر افراد اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔

اہم شاہراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ انٹیلی جنس ادارے بھی تحقیقات میں پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار

آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا:

"خیبر پختونخوا پولیس کے حوصلے بلند اور ارادے چٹانوں کی طرح مضبوط ہیں۔ صوبے کے کونے کونے سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور امن کے دشمنوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

قومی سلامتی کے لیے نئی آزمائش

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ہنگو میں خزینہ بانڈہ پولیس چیک پوسٹ پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم پولیس کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی نے نہ صرف حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ سیکیورٹی ادارے ایسے حملوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نوٹ: اس خبر میں دہشت گردوں کی تعداد اور کارروائی کی تفصیلات خیبر پختونخوا پولیس کے سرکاری بیان پر مبنی ہیں۔ آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ آپریشن کے جاری رہنے کے باعث اعداد و شمار میں بعد ازاں تبدیلی ممکن ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button