بین الاقوامیاہم خبریں

افغانستان میں طالبان حکومت پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات، یوناما کی تازہ رپورٹ میں خواتین، صحافیوں اور سابق اہلکاروں کی صورتحال پر تشویش

یوناما نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق برتاؤ اور بنیادی حقوق کے احترام پر زور دیا۔

سید عاطف ندیم-ادارت

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) کی تازہ سہ ماہی رپورٹ نے طالبان حکومت کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال پر سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں خواتین، صحافیوں، سابق سرکاری و سکیورٹی اہلکاروں اور شہری آزادیوں پر عائد سخت پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغان عوام بالخصوص خواتین کو تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ متعدد واقعات میں گرفتاریوں، تشدد اور میڈیا پر قدغنوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کی اپریل تا جون 2026 پر مشتمل سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے قیام کے پانچ برس بعد بھی ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال میں نمایاں بہتری نہیں آئی، بلکہ خواتین اور دیگر کمزور طبقات پر عائد پابندیاں برقرار ہیں۔

خواتین پر پابندیاں برقرار، تعلیم اور روزگار تک رسائی محدود

رپورٹ کے مطابق افغان خواتین کو اب بھی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے باعث لاکھوں طالبات اپنے تعلیمی مستقبل سے محروم ہیں۔
یوناما نے بتایا کہ حالیہ یونیورسٹی داخلہ امتحانات میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار مرد طلبہ نے شرکت کی، تاہم خواتین کو امتحانات میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے اعلیٰ تعلیم کے دروازے ان کے لیے بدستور بند رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ خواتین کے سرکاری اور بیشتر نجی اداروں میں ملازمت کرنے پر بھی سخت پابندیاں برقرار ہیں، جبکہ ان کی آزادانہ نقل و حرکت مختلف ضابطوں اور سرپرستی کی شرائط کے باعث محدود ہے۔

ہرات میں خواتین کی گرفتاری اور مبینہ تشدد

یوناما کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 6 سے 8 جون کے دوران مغربی صوبے ہرات میں طالبان حکام نے مبینہ طور پر "نامناسب حجاب” کے الزام میں 30 خواتین کو حراست میں لیا۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار خواتین کو دورانِ حراست تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوناما نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق برتاؤ اور بنیادی حقوق کے احترام پر زور دیا۔

سابق افغان سکیورٹی اہلکار اب بھی نشانے پر

رپورٹ میں طالبان حکومت کے عام معافی کے اعلانات اور زمینی صورتحال کے درمیان تضاد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

یوناما کے مطابق رپورٹنگ کے عرصے کے دوران سابق افغان فوج اور سکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں، جن میں:

  • 29 سابق اہلکاروں کی گرفتاری
  • 5 افراد پر مبینہ تشدد
  • 8 افراد کے قتل کی تصدیق

شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق سرکاری اور فوجی اہلکاروں کو بدستور خطرات لاحق ہیں۔

میڈیا پر پابندیاں اور صحافیوں کی گرفتاریاں

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں میڈیا کی آزادی بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

یوناما نے بتایا کہ متعدد میڈیا اداروں کی نشریات متاثر ہوئیں، جبکہ بعض ریڈیو اسٹیشنز کو بند بھی کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق:

  • ریڈیو لونگ اور ریڈیو بامیان کی نشریات معطل کی گئیں۔
  • سخت میڈیا پالیسیوں کے باعث قندھار اور غزنی میں بھی نشریاتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

مزید بتایا گیا کہ مئی 2026 میں طالبان انٹیلی جنس حکام نے کابل میں میڈیا اداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین صحافیوں کو گرفتار کیا۔

رپورٹ کے مطابق میڈیا دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور عملے کے بعض ارکان کو بغیر کسی واضح قانونی الزام کے حراست میں لیا گیا۔

اظہارِ رائے کی آزادی محدود

یوناما نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ افغانستان میں صحافی، سول سوسائٹی کے کارکن اور میڈیا ادارے سخت دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث آزاد صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آزاد میڈیا کسی بھی معاشرے میں شفافیت، احتساب اور عوامی آگاہی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

عالمی ماہرین کی تشویش

انسانی حقوق کے متعدد عالمی مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں خواتین، صحافیوں اور سابق سرکاری اہلکاروں پر عائد پابندیاں ملک میں بنیادی شہری آزادیوں کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق انسانی حقوق، تعلیم، اظہارِ رائے، آزادانہ نقل و حرکت اور قانون کی حکمرانی جیسے بنیادی اصول کسی بھی پائیدار اور مستحکم معاشرے کے لیے ناگزیر ہیں، اور ان شعبوں میں پیش رفت افغانستان کے مستقبل کے لیے اہم ہوگی۔

عالمی برادری کی توجہ کا مطالبہ

یوناما نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے اور تمام متعلقہ فریقین بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان عوام، خصوصاً خواتین، بچوں، صحافیوں اور دیگر متاثرہ طبقات کے بنیادی حقوق کا تحفظ ایک اہم بین الاقوامی ذمہ داری ہے، اور ان شعبوں میں پیش رفت افغانستان میں دیرپا امن، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری تصور کی جاتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button