مشرق وسطیٰ

غزہ میں خوراک کی تلاش میں ہجوم کی دھکم پیل، دم گھُٹنے سے ایک خاتون اور دو بچیاں ہلاک

اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی میں بھوک اور مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور تقریباً ساری آبادی ہی فراہم کی جانے والی امداد پر انحصار کرتی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

طبی حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کا ہجوم ایک بیکری سے روٹی خریدنے کے لیے دھکم پیل کر رہا تھا کہ اس دوران دو بچیاں اور ایک خاتون دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق 17 اور 13 برس کی دو لڑکیوں اور 50 سال کی ایک خاتون کی لاشوں کو وسطی غزہ کے دیر البلاح میں واقع الاقصیٰ شہداء ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ ان کی موت ہجوم میں دم گھٹنے سے ہوچکی ہے۔
اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں خوراک کی ترسیل گذشتہ دو ماہ کے دوران انتہائی کم سطح پر آگئی ہے۔
اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی میں بھوک اور مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور تقریباً ساری آبادی ہی فراہم کی جانے والی امداد پر انحصار کرتی ہے۔
مرنے والی ایک لڑکی کے والد اسامہ ابو لابان نے ہسپتال کے باہر روتے ہوئے ’اے پی‘ کو بتایا کہ کو ’جب میری اہلیہ کو پتا چلا کہ ہماری بیٹی کا دم گُھٹ رہا ہے تو وہ یہ سن کر گر پڑیں، تاہم وہ ابھی تک نہیں جانتی تھیں کہ وہ (بیٹی) مر چکی ہے۔‘
غزہ میں گذشتہ ہفتے کچھ بیکریاں آٹے کی قلت کے باعث کئی روز کے لیے بند کردی گئی تھیں۔ چند روز قبل بیکریوں کے دوبارہ کُھلنے کے بعد ’اے پی‘ کی بنائی گئی فوٹیج میں دیرالبلاح میں واقع ایک بیکری میں لوگوں کی بڑی تعداد کو ایک دوسرے کو دھکیلتے اور شور کرتے دکھایا گیا تھا۔
جنگ کے دوران غزہ بھر میں رہائش پذیر فلسطینی بیکریوں اور خیراتی دستر خوانوں پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں، جن میں سے بیشتر افراد کو اپنے اہل خانہ کے لیے دن میں صرف ایک وقت کا کھانا ہی مل سکتا ہے۔
لبنان میں رواں ہفتے اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہزاروں بے گھر افراد نے اپنے گھروں کو واپس آنا شروع کر دیا۔
گذشتہ دو ماہ کے دوران اسرائیل کی جانب سے کئی گئی شدید بمباری کے نتیجے میں مشرقی اور جنوبی لبنان کے ساتھ ساتھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں بیشتر مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے جبکہ تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک اسرائیل کے حملوں میں 44 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ چار ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا ہے اور اس جنگ میں تقریباً 23 لاکھ فلسطینیوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button