By Voice of Germany Urdu News Team
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خطرناک اثرات اب براہِ راست نیٹو رکن ممالک تک پہنچنے لگے ہیں۔ رومانیہ کے شہر گالاتی میں ایک روسی ڈرون رہائشی عمارت پر گرنے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے جبکہ واقعے کے بعد امریکہ، نیٹو اور یورپی یونین نے روس کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
رومانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق اٹھائیس اور انتیس مئی کی درمیانی شب روس نے یوکرین کے شہری اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف پر ایک نیا بڑے پیمانے کا ڈرون حملہ کیا، جس کے دوران بعض ڈرون رومانیہ کی سرحد کے انتہائی قریب دریائی علاقوں تک پہنچ گئے۔
وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران ایک روسی ڈرون رومانیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا، جسے فضائی نگرانی کے ریڈار نظام کے ذریعے مسلسل ٹریک کیا گیا۔ حکام کے مطابق ڈرون جنوبی گالاتی کے رہائشی علاقے تک پہنچا اور بعد ازاں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ کی چھت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔
دو افراد زخمی، رہائشیوں میں خوف و ہراس
مقامی حکام کے مطابق واقعے میں دو شہری زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے تاہم عمارت کے متعدد فلیٹس کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی خاندانوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈرون گرنے کے فوراً بعد زور دار دھماکہ ہوا اور پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ امدادی ٹیمیں اور فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئیں اور کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔
گالاتی شہر رومانیہ کے مشرقی حصے میں واقع ہے اور یہ یوکرین اور مالدووا کی سرحدوں کے قریب ایک اہم اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے۔
رومانیہ کا سخت ردعمل
رومانیہ کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو ’’روس کی جانب سے سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق رومانیہ نے اس واقعے سے متعلق نیٹو کے سیکرٹری جنرل، یورپی اتحادی ممالک اور امریکہ کو فوری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ رومانیہ نے اپنے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور جدید ڈرون شکن دفاعی نظام کی فراہمی تیز کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
رومانیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کا دائرہ مسلسل نیٹو سرحدوں کے قریب آ رہا ہے، جس سے پورے یورپی خطے میں سلامتی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
نیٹو کا سخت مؤقف
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عسکری اتحاد اپنے ہر رکن ملک کے ’’ایک ایک انچ‘‘ علاقے کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا:“روس کا غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک رویہ ہم سب کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے۔ نیٹو رومانیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔”
مارک رُٹے نے واضح کیا کہ نیٹو اپنی دفاعی اور مزاحمتی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائے گا اور روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق نیٹو اس واقعے کے بعد مشرقی یورپ میں فضائی نگرانی اور دفاعی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
یورپی یونین کی مذمت
یورپی یونین کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے کہا ہے کہ روس نے رومانیہ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے ’’ایک اور خطرناک حد عبور کر لی ہے‘‘۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا:“ہم رومانیہ اور اس کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ یورپی یونین اپنے رکن ممالک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔”
یورپی سفارتی حلقوں کے مطابق اس واقعے کے بعد روس کے خلاف مزید پابندیوں اور دفاعی اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ کی تشویش
امریکی حکام نے بھی واقعے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
واشنگٹن کی جانب سے جاری ابتدائی ردعمل میں کہا گیا کہ امریکہ نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور رومانیہ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔
امریکی دفاعی حکام نے خبردار کیا ہے کہ روسی ڈرونز اور میزائلوں کی نیٹو فضائی حدود میں مسلسل دراندازی کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
روسی حملوں میں اضافہ
حالیہ مہینوں کے دوران روسی ڈرونز اور جنگی طیاروں کی جانب سے نیٹو رکن ممالک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق روس یوکرین کی بندرگاہوں، دریائی راستوں اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے سرحدی علاقوں میں حملوں میں شدت لا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نیٹو ممالک غیر ارادی طور پر جنگی خطرات کی زد میں آ رہے ہیں۔
رومانیہ، پولینڈ اور بالٹک ممالک پہلے ہی اپنی فضائی نگرانی اور میزائل دفاعی نظام کو مزید فعال کر چکے ہیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ روس اور نیٹو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک اور خطرناک علامت ہے۔ اگر ایسے واقعات میں اضافہ جاری رہا تو مشرقی یورپ میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور مغربی اتحاد کے درمیان براہِ راست تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لانا ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ کسی بھی غلطی یا حادثاتی حملے کے سنگین عالمی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔




