مشرق وسطیٰتازہ ترین

لاؤس کے زیرآب غار سے پانچ افراد ریسکیو، دو کی تلاش جاری

ریسکیو ٹیم کے مطابق برآمد کیے گئے افراد عمومی طور پر صحت مند تھے تاہم پانی کی کمی اور خوراک نہ ملنے کے باعث شدید تھکن کا شکار تھے۔

اے پی، اے ایف پی

کل سات افراد گزشتہ ہفتے قیمتی معدنیات کی تلاش میں غار میں داخل ہوئے تھے، تاہم اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے غار کا راستہ بند کر دیا اور وہ اندر پھنس گئے۔

تھائی لینڈ ریسکیو ڈائیورز کے مطابق مجموعی طور پر پانچ افراد کو اب تک ریسکیو کیا جا چکا ہے، جب کہ دو افراد تاحال لاپتا ہیں۔

ریسکیو ٹیم  کے مطابق ایک شخص کو جمعہ کو بحفاظت اس غار سے نکالا گیا تھا جبکہ آج بروز ہفتہ مزید چار افراد کو باہر لایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد خود غار سے باہر آئے، تاہم ریسکیو ٹیموں نے پانی کی سطح کم کرنے کے لیے مسلسل پمپنگ کا عمل جاری رکھا، جس نے انخلاء میں اہم کردار ادا کیا۔

ریسکیو کیے گئے افراد ایک ہفتہ قبل قیمی معدنیات کی تلاش میں زیر آب اس گہرے غار میں اترے تھے
ریسکیو کیے گئے افراد ایک ہفتہ قبل قیمی معدنیات کی تلاش میں زیر آب اس گہرے غار میں اترے تھےتصویر: Association Of Volunteers For Lao People/AP Photo/picture alliance

جمعے کو بارش کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آئیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے بدھ کے روز غار کے اندر تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر ان افراد کو دریافت کیا تھا۔ اس کے بعد ان پھنسے ہوئے افراد کو پانی، غذا اور حرارت برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی کمبل فراہم کیے گئے۔

کل سات افراد گزشتہ ہفتے قیمتی معدنیات کی تلاش میں غار میں داخل ہوئے تھے، تاہم اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے غار کا راستہ بند کر دیا اور وہ اندر پھنس گئے۔ ایک مقامی شخص نے جو بر وقت غار سے نکل گیا تھا، حکام کو اس بارے میں اطلاع دی، جس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

لاؤس اور تھائی لینڈ کی ٹیموں  کے ساتھ جاپان اور ملائیشیا کے ماہرین بھی اس آپریشن میں شریک ہیں، جو مرکزی صوبے زائیسومبون کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں جاری ہے، جو دارالحکومت ویانتیان سے تقریباً 120 کلومیٹر دور ہے۔

ریسکیو ٹیم کے مطابق ایک شخص کو جمعہ کو بحفاظت اس غار سے نکالا گیا تھا
ریسکیو ٹیم کے مطابق ایک شخص کو جمعہ کو بحفاظت اس غار سے نکالا گیا تھاتصویر: Association Of Volunteers For Lao People/AP Photo/picture alliance

ریسکیو ٹیم کے مطابق برآمد کیے گئے افراد عمومی طور پر صحت مند تھے تاہم پانی کی کمی اور خوراک نہ ملنے کے باعث شدید تھکن کا شکار تھے۔

فن لینڈ سے تعلق رکھنے والے ماہر غوطہ خور میکو پاسی  نے کہا ہے کہ باقی دو افراد کی تلاش کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ٹیمیں اب تک غار  کا تقریباً 95 فیصد حصہ چیک کر چکی ہیں۔

ان کے مطابق، ”اب ہمارے پاس تلاش کے لیے بہت کم جگہ باقی رہ گئی ہے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button