یہ نتائج جرمنی کی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ماہرین کی کونسل کے پیش کردہ ہیں، جو ایک آزاد سائنسی ادارہ ہے اور حکومت کو اس بارے میں مشورے دیتا ہے کہ وہ اپنے ماحولیاتی اہداف کو کس طرح بہترین طریقے سے حاصل کر سکتی ہے۔ یہ کمیٹی اس بات پر رپورٹیں اور پیشگوئیاں بھی تیار کرتی ہے کہ آیا جرمنی کی ماحولیاتی پالیسیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں یا نہیں۔
جرمنی 2045 تک نیٹ گرین ہاؤس گیس نیوٹریلٹی (مجموعی صفر اخراج) اور 2050 سے نیٹ نیگیٹو یا مجموعی منفی اخراج کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، ماحولیاتی تبدیلی پر ماہرین کی کونسل کی چیئرپرسن باربرا شلومین کا کہنا ہے کہ اب تک کیے گئے اقدامات ان اہداف کو حاصل کرنے میں واضح طور پر ناکام رہے ہیں۔
مثبت پہلو یہ ہے کہ جرمنی کے جنگلات کچھ حد تک بحالی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اہم ماحولیاتی نظام بناتے ہیں، بلکہ کاربن جذب کرنے والے اہم ذرائع (carbon sinks) کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ماحول سے گرین ہاؤس گیسیں نکالتے ہیں اور انہیں بائیو ماس میں تبدیل کرتے ہیں۔
پھر بھی مجموعی رجحان مایوس کن نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگلات، دلدلیں، گھاس کے میدان اور زرعی زمینیں جیسے ماحولیاتی نظام، جو عام طور پر کاربن ذخیرہ کرتے ہیں، خود گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ایسا اس وقت ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر، جب دلدلی علاقوں سے پانی نکال دیا جائے، جس سے ان میں ذخیرہ شدہ CO2 خارج ہوتی ہے۔ اگر کوئی اقدام نہ کیا گیا، تو کاربن جذب کرنے والے ایسے ذرائع 2050 تک گلوبل وارمنگ بڑھانے والے عوامل میں تبدیل ہو جائیں گے۔ جرمن حکومت نے اس تشویشناک رجحان کو بدلنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔

دریں اثنا، ماحولیاتی تبدیلی پر ماہرین کی کونسل نے سفارش کی ہے کہ حکومت کو اپنی مختلف ماحولیاتی تحفظ کی پالیسیوں کو ایک مربوط سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر یکجا کرنا چاہیے۔
کونسل کی رکن ژولیا پونگراٹز کا کہنا ہے کہ نئے طریقے جیسے کہ سرکلر اکانومی (پائیدار معیشت) کو مضبوط بنانا، صنعت کے لیے توانائی کا انحصار بجلی پر منتقل کرنا، اور پائیدار غذائی عادات کی حوصلہ افزائی کرنا درست اقدام ہیں، لیکن یہ کافی نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازوں کو اس بات کو یقینی بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ ایسے اقدامات کے سماجی اخراجات اور معاشی اثرات منصفانہ طور پر تقسیم ہوں۔
جرمنی کے ماحولیاتی اثرات پر مجموعی طور پر سب سے زیادہ اثر ڈالنے والے شعبے صنعت، توانائی اور نقل و حمل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی پر منتقل ہو کر اور بجلی کے گرڈ، بیٹری اور چارجنگ کے انفراسٹرکچر کو جدید بنا کر ٹرانسپورٹ کے شعبے کو کہیں زیادہ ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے۔
محدود پیشرفت
ایک جرمن عدالت کی جانب سے حکومت کو ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کو تیز کرنے پر مجبور کرنے کے بعد، قانون سازوں نے مارچ میں مجوزہ اقدامات کا ایک اضافی پیکیج پیش کیا۔
اس پروگرام کا مقصد ہوا سے توانائی کے حصول میں اضافے کو تیز کرنا، بائیو فیولز کو مضبوط کرنا، الیکٹرک گاڑیوں (EVs) اور مقامی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا، اور صنعتی پیداوار میں قدرتی گیس کے بجائے بجلی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

تاہم، جرمنی کی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ماہرین کی کونسل کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں ہیں: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ ان (گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں) بچت کو واقعی حاصل کرنے کے لیے اب بھی کوئی ٹھوس راستہ موجود نہیں ہے۔‘‘
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نئے پروگرام کے تحت اخراج میں بچت کو مکمل طور پر حاصل کر بھی لیا جائے، تب بھی جرمنی اپنے ماحولیاتی اہداف تک نہیں پہنچ پائے گا۔
شلومین کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ، انفراسٹرکچر کے بہت سے مسائل کو ابھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان ماحولیاتی اقدامات کے لیے عوامی قبولیت حاصل کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔
دریں اثنا، انہوں نے اعلان کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نئے ماحولیاتی ایکشن پلان پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد کیا جائے، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دے کر۔
شنائیڈر نے کہا، ”ماہرین کی وارننگ کا سب سے اہم جواب اب یہ ہونا چاہیے کہ قابلِ تجدید توانائیوں کو مکمل ترجیح دی جائے۔‘‘ ان کے بقول ”دوسرا اہم ذریعہ یورپی یونین کے اخراج کی تجارت (ای یو امیشن ٹریڈنگ) میں اصلاحات کرنا ہے۔‘‘
توقع ہے کہ آخری قدم صنعت اور توانائی کی مارکیٹ کا انحصار مکمل طور پر بجلی پر منتقل کرنے کی ترغیب دے گا۔
جرمنی کی ماحولیاتی تبدیلی پر ماہرین کی کونسل اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا حکومت کے اقدامات ماحولیاتی تحفظ کے ایکٹ کے مطابق ہیں یا نہیں، جس نے گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی صفر اخراج کو حاصل کرنے کے راستے میں کچھ اہداف مقرر کیے ہیں۔



