پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

صوفی مجلس عمل اور محکمہ اوقاف پنجاب کا مذہبی ہم آہنگی اور صوفی تعلیمات کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق

چیئرمین صوفی مجلس عمل پیر خواجہ محمود فریدی سے ڈی جی اوقاف حافظ انیس الرحمٰن کی ملاقات، مزارات پر امن و بھائی چارے کی فضا برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز، اوقاف آفس لاہورکے ساتھ

لاہور: صوفی مجلس عمل کے چیئرمین پیر خواجہ محمود فریدی سے ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف پنجاب حافظ انیس الرحمٰن نے مجلس کے ہیڈ آفس ڈیفنس لاہور میں اہم ملاقات کی، جس میں مذہبی ہم آہنگی، مزارات کے انتظامی امور، صوفی تعلیمات کے فروغ اور معاشرتی اصلاح سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی جس کے دوران دونوں شخصیات نے پنجاب بھر میں مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و اخوت کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈی جی اوقاف کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد

ملاقات کے دوران پیر خواجہ محمود فریدی نے حافظ انیس الرحمٰن کو ڈائریکٹر جنرل اوقاف پنجاب کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ حافظ انیس الرحمٰن کی معتدل، مثبت اور امن پسندانہ سوچ محکمہ اوقاف کی کارکردگی میں بہتری لانے اور صوبے بھر کے مزارات پر روحانی و پرامن ماحول برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔

پیر خواجہ محمود فریدی نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئے ڈی جی اوقاف کی قیادت میں مزارات پر زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے، مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور صوفیاء کرام کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

مزارات کو مستند اور منظم بنانے پر اتفاق

ملاقات میں اس امر پر خصوصی زور دیا گیا کہ صوبے بھر میں موجود مزارات کو مستند، منظم اور روحانی مراکز کے طور پر مزید فعال بنایا جائے۔

اس حوالے سے صوفی مجلس عمل اور محکمہ اوقاف پنجاب کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ غیر مستند مذہبی سرگرمیوں اور مذہبی انتشار کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مزارات کو صرف مذہبی عقیدت کے مراکز ہی نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، روحانی اصلاح اور سماجی ہم آہنگی کے مراکز کے طور پر بھی فعال بنایا جانا چاہیے۔

صوفی تعلیمات سے اخلاقی تربیت پر زور

پیر خواجہ محمود فریدی نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے اخلاقی، سماجی اور فکری مسائل کے حل کے لیے صوفیاء کرام کی تعلیمات کو مؤثر ذریعہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ محبت، برداشت، رواداری، انسان دوستی اور امن کا پیغام صوفی ازم کی بنیادی روح ہے اور آج کے دور میں انہی تعلیمات کو فروغ دے کر معاشرتی انتشار اور نفرت کے رجحانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر حافظ انیس الرحمٰن نے بھی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اوقاف صوفیاء کرام کی تعلیمات کو عام کرنے اور نئی نسل کی اخلاقی تربیت کے لیے مختلف اقدامات پر غور کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مزارات ہمیشہ سے روحانی سکون، بھائی چارے اور اتحاد کی علامت رہے ہیں اور محکمہ اوقاف ان تاریخی و روحانی مراکز کی اصل روح کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

مذہبی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ دور میں مذہبی ہم آہنگی، برداشت اور اتحاد کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مذہبی انتشار، انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ نفرت کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ صوفیاء کرام کی تعلیمات ہمیشہ محبت، امن، رواداری اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتی رہی ہیں اور انہی اصولوں کو فروغ دے کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے خیرمقدم

سماجی اور مذہبی حلقوں نے صوفی مجلس عمل اور محکمہ اوقاف پنجاب کے درمیان تعاون بڑھانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر مزارات کو حقیقی معنوں میں روحانی، تعلیمی اور سماجی اصلاح کے مراکز کے طور پر فعال کیا جائے تو معاشرے میں برداشت، اتحاد اور امن کے فروغ میں مثبت پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوفی تعلیمات برصغیر کی مذہبی و ثقافتی تاریخ کا اہم حصہ رہی ہیں اور ان تعلیمات کے فروغ سے نوجوان نسل کو مثبت سمت دی جا سکتی ہے۔

ملاقات کو پنجاب میں مذہبی ہم آہنگی، صوفی روایات کے فروغ اور مزارات کے مؤثر انتظام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button