تازہ ترینبین الاقوامی

آبنائے ہرمز کا بحران: امریکہ اور ایران کی برداشت کا امتحان

''اگرچہ تہران حکومتی نظام کی مضبوطی اور استحکام کے دعوے کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کی معیشت بحری ناکہ بندی کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔‘‘

نک مارٹن

ایران سمجھتا ہے کہ پابندیوں کے امتحان سے گزر کر اب اس کی معیشت بحران کا مقابلہ زیادہ دیر تک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ امریکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، مہنگائی کے دباؤ اور عالمی کساد بازاری کے خدشات سے نبرد آزما ہے۔

ایران نے اس آبی گزر گاہ سے محفوظ راہداری کے لیے جہازوں پر دو ملین ڈالر تک فیس عائد کر دی ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں کو روک کر بحری پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔

یہ متوازی ناکہ بندیاں اب تک کوئی فیصلہ کن نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔ کچھ ایرانی جہاز اب بھی پابندیوں کو توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہو رہے ہیں جبکہ بعض ایشیائی شپنگ کمپنیاں مجبوراﹰ ایران کو فیس ادا کرنے پر آمادہ ہو گئی ہیں۔

کون پہلے جھکے گا؟

اگرچہ پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک مختصر مجوزہ مفاہمت کی یاداشت بھی پیش کی جا چکی ہے تاہم بظاہر دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی پہلے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک گلف انٹرنیشنل فورم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر دانیہ ظفر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف وقتاً فوقتاً دی جانے والی فوجی دھمکیاں الٹا اثر کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ایران کے ردِعمل سے تو اس کے برعکس تاثر ملتا ہے۔ تہران اسے اس بات کی علامت سمجھ رہا ہے کہ امریکہ میں جنگ کو مزید وسعت دینے کا عزم موجود نہیں۔

ادھر ٹرمپ کو اندرون و بیرون ملک اس دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ مزید فوجی کارروائی سے گریز کریں۔ خلیجی اتحادی بھی تحمل کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں اور امریکہ میں مہنگائی سیاسی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہیں جبکہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔

ایران کو معاشی نقصان

ایران کو بھی شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران کو روزانہ تقریباً 435 ملین ڈالر کا خسارہ ہو رہا ہے، جس کا بڑا حصہ تیل کی برآمدات سے وابستہ ہے۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر فیلو میاد مالکی نے اپریل میں اندازہ لگایا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کو 39 دن مکمل ہونے تک ایران کے سرکاری مالیاتی وسائل کو تقریباً 17 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ نقصان جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے تقریباً 144 ارب ڈالر کے معاشی خسارے کے علاوہ ہے۔

لندن میں قائم رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ(روسی) کی سینئر ریسرچ فیلو برجو اوزجیلک کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک اور بحری جہاز رانی کو میزائل حملوں کے ذریعے نشانہ بنا کر ایران نے ابتدا میں شاید ”اپنی حقیقی صلاحیت سے کہیں زیادہ دباؤ ڈالنے کی طاقت حاصل کر لی تھی،‘‘ لیکن ان کے بقول اب تہران کی اپنی تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کے باعث اسے شدید معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”اگرچہ تہران حکومتی نظام کی مضبوطی اور استحکام کے دعوے کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کی معیشت بحری ناکہ بندی کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔‘‘

خلیجی ممالک کی پریشانیاں

یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے نہایت تشویشناک ہے۔ وہ اس کشمکش کو  انتظار کا ایک خطرناک کھیل قرار دے رہے ہیں۔ ان ممالک کی معیشتیں اس بحران سے براہ راست متاثر ہو رہی ہیں اور وہ فوری سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔

نجی سطح پر خلیجی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ طویل کشیدگی ان کے اربوں ڈالر مالیت کے صنعتی اور سیاحتی منصوبوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ وہ پاکستان کی ثالثی اور اقوام متحدہ کے ساتھ امریکی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں، تاکہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس کے کھولا جا سکے۔

ایران کے طویل المدتی مقاصد

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس تنازع کو صرف جنگی کامیابی تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ وہ خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔  واشنگٹن میں قائم گلف انٹرنیشنل فورم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر دانیہ ظفر کا خیال ہے کہ ایران کے عزائم صرف جنگ میں کامیابی تک محدود نہیں بلکہ وہ طویل مدت میں ”خطے کے طاقت کے توازن کو اپنے حق میں تبدیل‘‘ کرنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ ”خلیجی ممالک امریکہ کو خطے سے نکال دیں اور پورا خطہ ایران کے زیرِ قیادت سکیورٹی فریم ورک کے تحت آ جائے۔‘‘ تاہم ان کے بقول واشنگٹن سے ناراضی کے باوجود یہ حکمتِ عملی خلیجی ریاستوں کے مفاد میں نہیں۔

آبنائے ہرمز میں کھڑے ہوئے جہاز
سینکڑوں آئل ٹینکرز اور مال بردار جہاز آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر دوبارہ کھلنے کے انتظار میں ہیںتصویر: Majid Asgaripour/WANA/REUTERS

امریکی مؤقف اور ممکنہ راستے

امریکہ مذاکرات کے ذریعے اس تنازعے کے حل کے لیے پرامید ہے مگر اس کا مؤقف سخت ہے۔ واشنگٹن مکمل طور پر آبنائے کو کھولنے، ایران کی جوہری سرگرمیاں ختم کرنے اور کسی بھی رعایت کے بدلے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے۔

امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے نرمی نہ دکھائی تو متبادل حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر کہا، ”اگر ایران سمجھوتہ نہیں کرتا تو ہمارے پاس ایک متبادل منصوبہ (پلان بی) بھی ہونا چاہیے۔‘‘

برجو اوزجیلیک کے مطابق، ”اصل چیلنج یہ ہے کہ امریکہ کے پاس ایسا کوئی جادوئی ہدف موجود نہیں جس پر حملہ ہوتے ہی ایرانی حکومت ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائے۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں تہران خلیجی ممالک کے خلاف کہیں زیادہ سخت اور شدید جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button