چین کو تیل سپلائی کرنے پر ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیاں
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب شیل کمپنیوں کا استعمال کرتے ہوئے ’’تیل کی فروخت میں اپنے کردار کو چھپاتی رہی ہے اور آمدن کو ایرانی حکومت تک پہنچاتی۔‘‘
امریکہ نے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے تہران پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پیر کے روز امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا کہ وہ تین افراد اور نو کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے، جن میں ہانگ کانگ میں قائم چار کمپنیاں اور متحدہ عرب امارات میں قائم چار کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ نویں کمپنی عمان میں واقع ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے چین کو ایرانی تیل کی فروخت اور ترسیل میں سہولت فراہم کی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب شیل کمپنیوں کا استعمال کرتے ہوئے ’’تیل کی فروخت میں اپنے کردار کو چھپاتی رہی ہے اور آمدن کو ایرانی حکومت تک پہنچاتی۔‘‘
یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات سے چند دن قبل سامنے آیا ہے، جس میں ٹرمپ کی جانب سے چینی رہنما پر زور دینے کی توقع ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کریں۔
چین اور ایران قریبی معاشی شراکت دار ہیں اور چین کو ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ جمعہ کو بھی امریکی انتظامیہ نے ایران سے وابستہ کئی افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں چین میں موجود عناصر بھی شامل تھے۔ ان افراد اور کمپنیوں پر ایران کے ڈرون اور میزائل پروگراموں کے لیے ہتھیار اور پرزہ جات حاصل کرنے کا الزام تھا۔


