بین الاقوامیاہم خبریں

حماس سے بطور سیاسی جماعت خود کو تحلیل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا، غزہ امن کونسل

انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حماس کو بطور سیاسی قوت مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، بلکہ اصل مسئلہ مسلح سرگرمیوں اور عسکری ڈھانچے کا ہے۔

ایجنسیاں

غزہ میں جنگ بندی اور مستقبل کے سیاسی انتظامات کی نگرانی کرنے والی "Peace Council” کے کوآرڈینیٹر Nikolay Mladenov نے واضح کیا ہے کہ حماس سے بطور سیاسی جماعت خود کو تحلیل کرنے یا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا، تاہم مستقبل کے کسی بھی مستقل تصفیے کے تحت تنظیم کو اپنا اسلحہ چھوڑنا ہوگا۔

بدھ کے روز Jerusalem میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلغاروی سفارت کار نکولائی ملادینوف نے کہا کہ کسی بھی سیاسی حل کی بنیاد اس اصول پر ہوگی کہ فلسطینی علاقوں میں صرف ایک مرکزی انتظامیہ اور ایک قانونی سکیورٹی ڈھانچہ موجود ہو۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال قابلِ قبول نہیں ہو سکتی جس میں ایک عبوری فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ساتھ الگ مسلح دھڑے، ملیشیائیں، آزاد فوجی کمانڈ سسٹم یا سرنگوں کے نیٹ ورک برقرار رہیں۔

’’مسلح گروہوں کے متوازی نظام پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا‘‘

ملادینوف نے کہا کہ غزہ کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہاں سیاسی نظام اور سکیورٹی ڈھانچے کو کس طرح یکجا کیا جائے۔

ان کے مطابق:
“جس چیز پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا وہ یہ ہے کہ عبوری فلسطینی اتھارٹی کے متوازی ایسے مسلح گروہ موجود رہیں جن کے پاس اپنا اسلحہ، فوجی کمانڈ ڈھانچہ اور سرنگوں کا نظام ہو۔”

انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حماس کو بطور سیاسی قوت مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، بلکہ اصل مسئلہ مسلح سرگرمیوں اور عسکری ڈھانچے کا ہے۔

جنگ بندی برقرار، مگر صورتحال اب بھی نازک

غزہ امن کونسل کے نمائندے نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، لیکن زمینی حقائق کے باعث اسے “مثالی” قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ان کے مطابق مسلسل انسانی بحران، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، بے گھر افراد کی بڑی تعداد اور محدود امدادی رسائی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ جنگ بندی کے بعد سے بہت کم پیش رفت ہوئی ہے اور مستقل سیاسی حل تک پہنچنے کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

غزہ کی تعمیرِ نو میں ’’ایک پوری نسل‘‘ لگ سکتی ہے

ملادینوف نے غزہ میں تباہی کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پیدا ہونے والے ملبے کو ہٹانے اور مکمل تعمیرِ نو کے عمل میں “ایک پوری نسل” کا وقت لگ سکتا ہے۔

ان کے مطابق غزہ میں کروڑوں ٹن ملبہ موجود ہے، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد کو مستقل رہائش، صاف پانی، نکاسی آب اور بنیادی سہولیات کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا:
“یہ صرف عمارتوں کی تعمیر کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرتی اور انسانی ڈھانچے کی بحالی کا معاملہ ہے، جو کئی دہائیوں پر محیط ہو سکتا ہے۔”

جنگ بندی معاہدے کے باوجود مستقل حل نہ نکل سکا

اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے نے تقریباً دو سال سے جاری بڑے پیمانے کی جنگی کارروائیوں کو محدود کر دیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت غزہ میں مرحلہ وار امن عمل، اسرائیلی افواج کے انخلا، حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تعمیرِ نو شروع کرنے جیسے نکات شامل تھے، تاہم ان پر مکمل عملدرآمد اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔

بین الاقوامی ثالثوں کے مطابق سب سے بڑا اختلاف اسرائیلی فوج کے انخلا، سکیورٹی کنٹرول اور غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر موجود ہے۔

اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے بڑے حصے پر قابض

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کی پٹی کے نصف سے زائد حصے پر قابض ہیں۔

اسرائیلی فوج نے متعدد علاقوں میں عمارتیں مسمار کر دی ہیں اور ہزاروں خاندانوں کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

اس وقت دو کروڑ نہیں بلکہ تقریباً 20 لاکھ سے زائد فلسطینی ایک تنگ ساحلی پٹی میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں بیشتر افراد تباہ شدہ عمارتوں، عارضی خیموں یا امدادی مراکز میں زندگی گزار رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں خوراک، ادویات، بجلی اور صاف پانی کی شدید قلت برقرار ہے۔

حماس اب بھی غزہ میں اثر و رسوخ رکھتی ہے

اگرچہ جنگ اور اسرائیلی کارروائیوں نے غزہ کے انتظامی اور عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم حماس اب بھی غزہ کے کئی علاقوں میں عملی طور پر اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق مستقبل کے کسی بھی سیاسی حل میں حماس کے کردار کا سوال سب سے پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔

ایک طرف اسرائیل اور بعض مغربی ممالک تنظیم کے مکمل غیر مسلح ہونے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب فلسطینی حلقوں کا مؤقف ہے کہ غزہ کے سیاسی مستقبل میں مقامی نمائندگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جنگ بندی کے بعد بھی ہلاکتیں جاری

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 850 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران مسلح افراد کے حملوں میں چار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ بڑے پیمانے کی جنگی کارروائیاں کم ہوئی ہیں، لیکن خطہ اب بھی مکمل امن سے بہت دور ہے۔

عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ

اقوام متحدہ، یورپی ممالک اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ کی بگڑتی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

عالمی اداروں نے فوری انسانی امداد، مستقل جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور سیاسی مذاکرات پر زور دیا ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کا بحران اب صرف ایک جنگی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، فلسطینی ریاست کے امکان اور خطے کے طاقت کے توازن سے جڑا ایک بڑا بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button