اہم خبریںانٹرٹینمینٹ

پاکستان کے مشہور سیاحتی مقام پیر چناسی میں GPS ٹریکر لگا نایاب گدھ برآمد

پرندے کی پشت پر جدید سولر پاورڈ GPS ڈیوائس اور پروں پر زرد رنگ کا ٹیگ (F49) نصب تھا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
مظفرآباد:پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پیر چناسی میں گزشتہ ہفتے (12 مئی 2026 بروز منگل) ایک ایسا انوکھا واقعہ پیش آیا جس نے مقامی آبادی اور سوشل میڈیا پر تجسس اور سنسنی کی ایک لہر دوڑا دی۔مقامی افراد نے ایک ایسے بڑے شکاری پرندے کو پکڑا جس کی پشت پر ایک جدید ڈیوائس اور پروں پر زرد رنگ کا ٹیگ نصب تھا۔

پرندے کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جانے لگا کہ یہ کوئی ’پراسرار عقاب‘ ہے جسے پڑوسی ملک نے جاسوسی کے مقاصد کے لیے بھیجا ہے۔گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد اس پرندے کو کسی جال یا مصیبت سے نکالنے کے بعد تجسس کے باعث اس کے آلے کا معائنہ کر رہے تھے۔
تاہم بعد ازاں محکمہ وائلڈ لائف آزاد کشمیر نے تصدیق کی کہ یہ پرندہ دراصل “وائٹ رمپڈ ولچر” ہے، جسے سائنسی نام Gyps bengalensis کے طور پر جانا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ نسل دنیا بھر میں انتہائی تیزی سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف عبدالشکور کے مطابق پرندے پر نصب GPS ڈیوائس اور ونگ ٹیگ کسی جاسوسی سرگرمی کا ثبوت نہیں بلکہ بین الاقوامی سائنسی تحقیق کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے آلات پرندوں کی ہجرت، پرواز کے راستوں، خوراک کے مقامات اور ماحولیاتی خطرات کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ پرندہ غالباً کسی تحقیقاتی پروگرام کا حصہ ہے جس کے ذریعے جنوبی ایشیا میں گدھوں کی بقا اور ان کی آبادی میں کمی کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، انڈیا اور نیپال میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران گدھوں کی آبادی میں 99 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو حیاتیاتی تاریخ کی بدترین کمیوں میں سے ایک ہے۔

ماہرینِ جنگلی حیات کے مطابق گدھ ماحولیاتی نظام میں “قدرتی صفائی کرنے والے” کے طور پر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مردہ جانوروں کو کھا کر نہ صرف ماحول کو صاف رکھتے ہیں بلکہ خطرناک جراثیم کے پھیلاؤ کو بھی روکتے ہیں۔ ان کی کمی سے آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ اور ریبیز جیسے خطرناک امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
پوسٹ گریجویٹ کالج گڑھی دوپٹہ کے شعبہ زولوجی کے لیکچرار فائق نواز خان کے مطابق پیر چناسی اور کوٹلی سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں اس نسل کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیموں نے کوٹلی میں 9 کالونیاں اور 52 فعال گھونسلے بھی دریافت کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گدھوں پر نصب GPS ٹریکرز ان کی نقل و حرکت، افزائش نسل، اموات کے مقامات اور ماحولیاتی خطرات کی نشاندہی میں مدد دیتے ہیں۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر “ولچر سیف زونز” قائم کیے جاتے ہیں تاکہ ان پرندوں کو زہریلے مادوں اور خطرناک علاقوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ان پرندوں کی بڑی تعداد کی ہلاکت کی ایک بڑی وجہ مویشیوں کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ڈائیکلوفینیک رہی ہے، جو مردہ جانوروں کے ذریعے ان کے جسم میں داخل ہو کر مہلک اثرات پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ اس دوا پر پاکستان اور بھارت میں پابندی عائد کی جا چکی ہے، تاہم اس کے اثرات اب بھی ماحولیاتی نظام میں موجود ہیں۔

محکمہ وائلڈ لائف نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ایسے کسی بھی نایاب یا زخمی پرندے کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ ہی اسے ننگے ہاتھوں سے پکڑا جائے، کیونکہ یہ نہ صرف سائنسی تحقیق کا حصہ ہو سکتا ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی رکھتا ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات کی فوری اطلاع متعلقہ وائلڈ لائف حکام یا ماحولیاتی تنظیموں کو دی جائے۔
علاقائی ماہرین کے مطابق حساس سرحدی علاقوں میں اس طرح کے آلات سے لیس پرندوں کی موجودگی اکثر غلط فہمیوں کا سبب بنتی ہے، تاہم حقیقت میں یہ مکمل طور پر سائنسی اور ماحولیاتی تحقیق کا حصہ ہوتی ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے قبل متعلقہ اداروں سے تصدیق ضروری ہے۔
حکام کے مطابق پیر چناسی سے ملنے والے اس پرندے کے حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کس ریسرچ نیٹ ورک سے منسلک تھا اور اس کی ہجرت کا اصل راستہ کیا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button