مشرق وسطیٰتازہ ترین

’’جمہوریت کے معاملے میں ترکیہہ جس راہ پر ہے، وہاں سے واپسی ممکن نہیں…‘‘، امریکی قانون ساز

ترکیہ کی صورتحال گزشتہ کانگریسی جائزوں کے بعد مزید خراب ہوئی ہے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

امریکہ کے سینئر قانون سازوں اور پالیسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ مسلسل جمہوری طرزِ حکمرانی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آئندہ ماہ انقرہ میں ہونے والے اہم نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل سیاسی جبر، عدلیہ کی آزادی اور اپوزیشن لیڈران کی گرفتاریوں پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔امریکہ کے سینئر قانون سازوں اور پالیسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ مسلسل جمہوری طرزِ حکمرانی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آئندہ ماہ انقرہ میں ہونے والے اہم نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل سیاسی جبر، عدلیہ کی آزادی اور اپوزیشن لیڈران کی گرفتاریوں پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکی کانگریس میں ترکیہ پر تشویش

ٹام لینٹوس انسانی حقوق کمیشن کی سماعت کے دوران دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے سوال اٹھایا کہ آیا صدر رجب طیب اردوان کی حکومت حقیقی سیاسی مقابلے کی اجازت دے گی یا نہیں، کیونکہ ناقدین کے مطابق مخالفین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے خلاف کارروائیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

’’کیا ترکیہ آزادی کی راہ تلاش کر سکتا ہے؟‘‘

کمیشن کے شریک چیئرمین کرسٹوفر اسمتھ نے کہا، ’’آج کی سماعت کا عنوان ایک نہایت اہم سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ترکیہ آزادی کی راہ دوبارہ تلاش کر سکتا ہے؟‘‘ انہوں نے دلیل دی کہ ترکیہ کے جمہوری ادارے اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ قانون کی حکمرانی، آزاد اور منصفانہ انتخابات، عدلیہ کی آزادی، مذہبی آزادی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی بحالی انتہائی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

امام اوغلو کی گرفتاری کو اہم موڑ قرار

اسمتھ نے استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی مارچ 2025 میں ہونے والی گرفتاری کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امام اوغلو کو عین اسی روز گرفتار کیا گیا جب ان کی جماعت انہیں آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے والی تھی۔

’’صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے‘‘

کمیشن کے دوسرے شریک چیئرمین جیمز میک گورن نے کہا کہ ترکیہ کی صورتحال گزشتہ کانگریسی جائزوں کے بعد مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی ان رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں اپوزیشن جماعتوں اور صحافیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا ذکر کیا گیا ہے۔

مکمل آمریت کی جانب پیش رفت؟

سماعت کے دوران متعدد گواہوں نے کہا کہ ترکیہ اب اس مرحلے سے بھی آگے بڑھ رہا ہے جسے سیاسی ماہرین ’’مقابلہ جاتی آمریت‘‘ کہتے ہیں، اور ایک ایسے نظام کی طرف جا رہا ہے جہاں انتخابات کے ذریعے سیاسی تبدیلی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔

ہارورڈ کے ماہر کی وارننگ

ہارورڈ یونیورسٹی اور کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ریسرچر اینڈریو او ڈونہیو نے کہا، ’’ترکیہ آج ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک مقابلہ جاتی آمریت سے مکمل آمریت کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اپوزیشن ووٹ کی طاقت سے اقتدار حاصل نہیں کر سکے گی۔‘‘ ان کے مطابق امام اوغلو کی قید اور مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے خلاف قانونی کارروائیوں نے انتخابات کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اقتدار ایک فرد کے گرد مرکوز

کونسل آن فارن ریلیشنز کے سینئر فیلو ہینری بارکی نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اقتدار غیر معمولی حد تک صدر اردوان کے گرد مرکوز ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ صرف جمہوریت کے کمزور ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک فرد کی حکمرانی کا نظام بن چکا ہے، جو تیزی سے ایک شخص کی سیاسی بقا، اختیارات اور ذاتی ترجیحات کے گرد گھوم رہا ہے۔‘‘

سابق قیدی کی جذباتی گواہی

سابق سیاسی قیدی اور امریکی شہری سرکان گولگے نے دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت ترکیہ کی جیلوں میں گزارے گئے تقریباً تین برسوں کے تجربات بیان کرتے ہوئے جذباتی گواہی دی۔ انہوں نے قانون سازوں سے کہا، ’’میں جیل سے تو نکل آیا، لیکن صرف زندہ بچ جانا انصاف نہیں ہوتا۔‘‘ اپنے خاندان پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے گولگے نے بتایا کہ رہائی کے بعد سرحدی جانچ کے دوران ان کے بیٹے نے خوف زدہ ہو کر کہا تھا، ’’نہیں ڈیڈ، پھر سے نہیں، پھر سے نہیں۔‘‘

دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال کا الزام

گولگے نے الزام لگایا کہ ترکیہ کے انسدادِ دہشت گردی قوانین کو قانونی اور پرامن سرگرمیوں کو جرم قرار دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ انقرہ پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے فیصلوں پر عمل درآمد کرے۔

نیٹو اجلاس بھی زیرِ بحث

سماعت میں جولائی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس پر بھی گفتگو ہوئی۔ گواہوں نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق اور جمہوریت سے متعلق مسائل کو براہِ راست صدر اردوان کے سامنے اٹھائے۔

امریکہ کو دباؤ بڑھانے کا مشورہ

اینڈریو او ڈونہیو نے کہا، ’’ترکیہ امریکہ کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے ناطے ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ ہم دوطرفہ تعاون کو اس شرط سے جوڑیں کہ ترکیہ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مزید عملی اقدامات کرے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button