سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ برس جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت سفارتی مداخلت نے جنگ بندی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث خطے کو ایک ممکنہ تباہ کن تصادم سے بچایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو دنیا میں امن کے داعی اور تنازعات کے پرامن حل کے حامی رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
جمعرات کو اسلام آباد میں امریکہ کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات، علاقائی امن، انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس ضمن میں امریکہ کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت اور سفارتی رابطوں نے جنگ بندی کے قیام کو ممکن بنایا، جس پر پاکستان ہمیشہ امریکہ اور صدر ٹرمپ کا شکر گزار رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر امن کے فروغ اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے کی جانے والی کوششیں تاریخ میں اہم مقام رکھتی ہیں اور صدر ٹرمپ کا کردار بھی اسی تناظر میں یاد رکھا جائے گا۔
نیٹلی بیکر کی سفارتی خدمات کو خراجِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی فعال، متحرک اور مخلصانہ سفارت کاری کے ذریعے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹلی بیکر پاکستان میں نہایت مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور ان کی مسلسل کاوشوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے امریکی سفارت خانے اور پاکستان میں موجود امریکی قونصل خانوں کی ٹیموں کی خدمات کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک محنت نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کردار
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پاکستان کے علاقائی سفارتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ دونوں ممالک نے اسلام آباد پر اعتماد کا اظہار کیا اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل مثبت نتائج دے گا اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد نے اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی بھی کی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور اعتماد سازی میں پیش رفت ممکن ہوئی۔
آرمی چیف کا علاقائی امن میں کردار
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقائی امن، استحکام اور سکیورٹی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ملک ہے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
پاک امریکہ تعلقات کی آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخ
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک نے تاریخ کے مختلف اہم ادوار میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد امریکہ ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ اس دیرینہ تعلق نے وقت کے ساتھ مختلف شعبوں میں مضبوط شراکت داری کی شکل اختیار کی۔
وزیراعظم کے مطابق اس وقت پاکستان میں امریکہ کی تقریباً 80 بڑی کمپنیاں کامیابی کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری کے فروغ کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں پاک امریکہ تعاون مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔
پاکستانی نژاد امریکیوں کا کردار
شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ میں مقیم تقریباً دس لاکھ پاکستانی نژاد امریکی دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیونٹی نہ صرف امریکی معاشرے میں اہم خدمات انجام دے رہی ہے بلکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی روابط کو بھی فروغ دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستانی نژاد امریکیوں کی کامیابیوں کو دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔
امریکی ناظم الامور کا اظہارِ خیال
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور دیرینہ شراکت داری قائم ہے جو باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور عوامی روابط کی بنیاد پر استوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری مسلسل ترقی کر رہی ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ نیٹلی بیکر نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب میں اہم شخصیات کی شرکت
امریکہ کی 250ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ اس تقریب میں وفاقی وزراء، سفارتکاروں، ارکان پارلیمنٹ، کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات، باہمی تعاون اور مستقبل کی شراکت داری کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی گئی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔



