آئی اےای اےمیں یوایس قراردادکےمتن میں ایران سےجوہری مقامات،یورینیئم کاذخیرہ کھولنےکامطالبہ
جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف 12 روزہ جنگ کے بعد سے آئی اے ای اے کو ایران میں بعض اہم جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
ایجنسیاں
اس ہفتے ہونے والی میٹنگ سے قبل اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران بورڈ میں امریکہ کی تیار کردہ ایک مسودہ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بمباری زدہ جوہری مقامات اور افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کی "صحیح معلومات” فراہم کرے۔ یہ مسودہ دوسرے ممالک کو بھیجا گیا ہے۔
اتوار کے روز رائٹرز کے ملاحظہ متن میں کہا گیا ہے کہ ایران "آئی اے ای اے کو جوہری مواد کے حساب کتاب اور ایران میں محفوظ جوہری تنصیبات کے بارے میں قطعی درست معلومات” اور "ایجنسی کو ان معلومات کی تصدیق کے لئے تمام ضروری رسائی فراہم کرے”۔
آئی اے ای اے نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ "تعمیری طور پر ایجنسی کو اس میں شامل کرے۔”
جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف 12 روزہ جنگ کے بعد سے آئی اے ای اے کو ایران میں بعض اہم جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
اٹھائیس فروری کو شروع ہونے والی جنگ میں جوہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ آئی اے ای اے نے بار بار ان تک رسائی پر زور دیا ہے۔



