
پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ و بارودی مواد برآمد
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو علاقے میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور ان کی ممکنہ سرگرمیوں کے حوالے سے خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی
سید عا طف ندیم-ادارت
پنجگور: بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے 10 اگست 2026 کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کا خاتمہ اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو علاقے میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی اور ان کی ممکنہ سرگرمیوں کے حوالے سے خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی۔ انٹیلی جنس معلومات کی روشنی میں سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ مقام کو گھیرے میں لے کر کارروائی کا آغاز کیا۔
کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران انتہائی احتیاط کے ساتھ علاقے کو کلیئر کیا تاکہ دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں، بارودی سرنگوں اور دیگر خطرناک مواد سے پیدا ہونے والے خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اسلحہ، گولہ بارود اور IEDs کا ذخیرہ برآمد
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے کی تلاشی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (IEDs) برآمد کیے گئے۔ برآمد ہونے والے خطرناک مواد کو سیکیورٹی ماہرین نے محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا اور تباہ کر دیا۔
حکام کے مطابق دہشت گرد عناصر ممکنہ طور پر ان ہتھیاروں اور بارودی مواد کو سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم بروقت انٹیلی جنس کارروائی کے نتیجے میں ان کے منصوبے ناکام بنا دیے گئے۔
آپریشن مکمل ہونے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی کیا۔ اس کارروائی کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے دیگر ساتھی یا کوئی مزید بارودی مواد علاقے میں موجود تو نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کارروائیوں میں خفیہ معلومات، جدید نگرانی کے نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا مقصد نہ صرف دہشت گرد عناصر کا خاتمہ ہے بلکہ ان کے سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع، لاجسٹک نیٹ ورک اور دیگر معاون ڈھانچوں کو بھی ختم کرنا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
بلوچستان میں امن و استحکام اولین ترجیح
بلوچستان کا ضلع پنجگور جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم علاقہ ہے، جہاں ماضی میں بھی دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز متعدد کارروائیاں کر چکی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق علاقے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پنجگور میں حالیہ کارروائی اس وسیع تر انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کی سلامتی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور آپریشنز کے دوران اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ
حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی صرف مسلح عناصر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ان کے سہولت کاروں اور معاون نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کو مؤثر انداز میں شکست دینے کے لیے ان کے رابطہ نیٹ ورک، نقل و حرکت، مالی وسائل اور اسلحہ و بارود کی ترسیل کے راستوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔
پنجگور آپریشن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ، گولہ بارود اور IEDs کی برآمدگی کو بھی اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کی کوششیں
سیکیورٹی اداروں کے مطابق ملک میں انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو قومی ایکشن پلان اور ریاستی پالیسی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی میں دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ انتہاپسندی، دہشت گردوں کے مالی معاون نیٹ ورک اور سہولت کاری کے خلاف اقدامات بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔
10 اگست کو پنجگور میں ہونے والا آپریشن بھی اسی مسلسل انسداد دہشت گردی مہم کی ایک کڑی قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے سیکیورٹی ادارے دہشت گرد عناصر کو ان کے محفوظ ٹھکانوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عوام سے تعاون کی اپیل
سیکیورٹی اداروں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ مشتبہ افراد، غیر معمولی سرگرمیوں یا کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دی جائے۔ حکام کے مطابق عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سیکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
پنجگور میں پانچ دہشت گردوں کا خاتمہ، اسلحہ و گولہ بارود اور IEDs کی برآمدگی اور بعد ازاں علاقے کی کلیئرنس اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں پائیدار امن کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔



