پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام نے احتجاجی کال مسترد کر دی، کوٹلی سمیت مختلف اضلاع میں معمولات زندگی بحال
کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہے، عوام نے امن و استحکام کو ترجیح دی
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کوٹلی: آزاد جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع کی طرح ضلع کوٹلی میں بھی عوام نے احتجاجی کال کا حصہ بننے سے گریز کرتے ہوئے معمولات زندگی کو جاری رکھا۔ شہر اور گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں جبکہ بازار، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے کھلے رہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق کوٹلی شہر میں صبح سے ہی معمول کی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ شہری روزمرہ امور کی انجام دہی میں مصروف رہے جبکہ تاجروں، دکانداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے معمولات کے مطابق کام جاری رکھا۔
کوٹلی کے بازاروں میں معمول کے مطابق کاروبار
شہر کے مرکزی بازاروں، تجارتی مراکز اور کاروباری علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں اور خرید و فروخت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری رہا۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ معاشی سرگرمیوں کا تسلسل عوامی مفاد میں ہے اور کاروباری طبقہ علاقے میں امن و استحکام کے فروغ کا خواہاں ہے۔
بازاروں میں شہریوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق دیکھی گئی جبکہ ٹرانسپورٹ بھی بغیر کسی رکاوٹ کے چلتی رہی۔ عوام نے روزمرہ ضروریات کی خریداری اور دیگر امور معمول کے مطابق انجام دیے۔
سرکاری و نجی اداروں میں حاضری معمول کے مطابق
کوٹلی میں سرکاری دفاتر، نجی اداروں اور مختلف محکموں میں ملازمین کی حاضری معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی۔ دفاتر میں سرکاری امور اور عوامی خدمات کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہا۔
انتظامی ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری محکموں میں کام معمول کے مطابق انجام دیا گیا جبکہ عوامی مسائل کے حل اور سروسز کی فراہمی میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوا۔
تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہیں
ضلع کوٹلی میں اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل معمول کے مطابق جاری رہا۔ طلبہ و طالبات اپنی کلاسوں میں شریک ہوئے جبکہ اساتذہ نے تعلیمی سرگرمیوں کو معمول کے مطابق آگے بڑھایا۔
والدین اور تعلیمی حلقوں نے تعلیمی اداروں کے کھلے رہنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی تعلیم میں تسلسل برقرار رہنا انتہائی ضروری ہے اور کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال سے تعلیمی عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
عوام نے پرامن طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا
مقامی مبصرین کے مطابق کوٹلی سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوام نے امن، استحکام اور معمولات زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے پرامن طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے مکالمہ، مشاورت اور آئینی و قانونی راستے اختیار کیے جانے چاہئیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور وہ خطے کے امن و ترقی کو مقدم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق معاشی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا تسلسل خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
دیگر اضلاع میں بھی معمولات زندگی برقرار
ذرائع کے مطابق کوٹلی کے علاوہ آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی معمولات زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق رہے۔ مختلف شہروں میں بازار کھلے رہے، ٹرانسپورٹ چلتی رہی اور سرکاری و نجی اداروں میں سرگرمیاں جاری رہیں۔
عوام کی جانب سے روزمرہ زندگی کے معمولات کو برقرار رکھنے کو علاقے میں استحکام اور امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا ردعمل
سیاسی اور سماجی حلقوں کے بعض نمائندوں نے عوام کے رویے کو ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود امن و امان، عوامی مفاد اور معاشی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں تمام معاملات کو پرامن مکالمے اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے گا تاکہ عوامی مسائل کا مؤثر اور پائیدار حل ممکن بنایا جا سکے۔
عوامی ترجیح: امن، ترقی اور استحکام
مبصرین کے مطابق کوٹلی اور دیگر اضلاع میں معمولات زندگی کا برقرار رہنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد امن، ترقی اور استحکام کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خطے کی معاشی بہتری، تعلیمی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ روزمرہ سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق آزاد کشمیر کے باشعور شہریوں نے اپنے طرزِ عمل سے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام اور تعمیری سرگرمیوں کے فروغ کے خواہاں ہیں، اور اسی مقصد کے تحت معمولات زندگی کو جاری رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔