سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے، جب پاکستان نے افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق کارروائی میں کم از کم 26 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری متاثر ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی، عسکری جھڑپوں اور باہمی الزامات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ فضائی حملے خطے میں سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف: دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی کا مقصد ان شدت پسند عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا جو سرحد پار سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت میں ملوث تھے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی اور اس میں ایسے مراکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں مبینہ طور پر پاکستان مخالف عسکریت پسند پناہ لیے ہوئے تھے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران کم از کم 26 جنگجو مارے گئے جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ بعض شدت پسند گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملے کرتے ہیں۔ اسلام آباد متعدد بار کابل سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی
گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ابتدائی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی امیدیں پیدا ہوئی تھیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ سکیورٹی مسائل اور سرحدی تنازعات نے تعلقات کو متاثر کیا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود بعض شدت پسند گروہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکومت اس الزام کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔
کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے مسائل کا تعلق ملک کے اندرونی حالات سے ہے اور اس کا ذمہ دار افغانستان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
چین کی ثالثی اور نازک جنگ بندی
دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی اس سال فروری میں عروج پر پہنچ گئی تھی جب سرحد کے مختلف مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کو کئی برسوں کی بدترین سرحدی کشیدگی قرار دیا گیا۔
بعد ازاں مارچ میں چین کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ایک نازک جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت سرحدی کشیدگی کم کرنے، رابطوں کو بہتر بنانے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
تاہم تازہ فضائی حملوں کے بعد یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ جنگ بندی کا یہ نازک انتظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان نے سرحدی نگرانی کو سخت بنانے، باڑ لگانے، انٹیلی جنس کارروائیوں میں اضافہ کرنے اور دہشت گردوں کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ہدفی آپریشنز کی پالیسی اختیار کی ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔
علاقائی سلامتی پر ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جہاں امن و استحکام خطے کی اقتصادی ترقی، تجارتی سرگرمیوں اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات ناکام ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف سرحدی سلامتی متاثر ہوگی بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی تعاون کے منصوبے بھی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
سفارتی حل کی ضرورت
بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے لیے فوجی اور سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطوں کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق سرحدی تنازعات، دہشت گردی کے الزامات اور سکیورٹی خدشات کا پائیدار حل صرف باہمی مذاکرات، انٹیلی جنس تعاون اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
تازہ فضائی حملوں نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں کسی بھی غلط فہمی یا غیر متوقع واقعے سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ خطے کے امن اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کو محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرحدی تنازعات کو بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔