
برلن میں سفارتخانہ پاکستان میں جشنِ آزادی کی پُروقار تقریب، سفیرِ پاکستان ثقلین سیدہ کی پرچم کشائی
جرمن مہمانوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کرکے پاکستانی عوام کے ساتھ یومِ آزادی کی خوشیوں میں شرکت کی۔
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستانی کمیونٹی اور جرمن مہمانوں کی بڑی تعداد میں شرکت، قومی یکجہتی، آزادی کی قدر اور پاکستان کی ترقی و کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا
برلن، 14 اگست 2026: جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سفارتخانہ پاکستان میں پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر ایک پُروقار اور قومی جذبے سے بھرپور تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستانی کمیونٹی، سفارتی شخصیات، جرمن مہمانوں، خواتین، بچوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کا مقصد پاکستان کی آزادی کی خوشی منانے کے ساتھ ساتھ تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں اور آزادی کے لیے قربانیاں دینے والے اسلاف کو خراجِ عقیدت پیش کرنا، پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات کو اجاگر کرنا اور بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کے قومی جذبے کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
سفیرِ پاکستان ثقلین سیدہ نے قومی پرچم لہرایا
جشنِ آزادی کی مرکزی تقریب کا آغاز سفیرِ پاکستان ثقلین سیدہ کی جانب سے قومی پرچم کشائی سے ہوا۔ قومی پرچم بلند ہوتے ہی تقریب میں موجود پاکستانیوں اور جرمن مہمانوں نے احتراماً کھڑے ہوکر پاکستان سے اپنی وابستگی اور محبت کا اظہار کیا۔
پرچم کشائی کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ قومی ترانے کی دھنوں سے تقریب کا ماحول حب الوطنی کے جذبات سے بھر گیا، جبکہ بچوں اور بڑوں نے قومی ترانے کے دوران قومی جوش و جذبے کا بھرپور اظہار کیا۔
پاکستانی برادری اور جرمن مہمانوں کی بھرپور شرکت
تقریب میں جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ خواتین اور بچوں کی شرکت نے تقریب کو مزید رنگا رنگ بنا دیا۔
جرمن مہمانوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کرکے پاکستانی عوام کے ساتھ یومِ آزادی کی خوشیوں میں شرکت کی۔
تقریب کے شرکاء نے پاکستان کے قومی دن کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی اور ملک کی ترقی، سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

صدرِ مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے خصوصی پیغامات پیش
جشنِ آزادی کی مرکزی تقریب کے دوران صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔
ان پیغامات میں پاکستانی قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک کی ترقی، قومی یکجہتی، معاشی استحکام اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
خصوصی پیغامات کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی وطن کی ترقی اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی۔
آزادی مقدس نعمت اور امانت ہے: سفیرِ پاکستان
جشنِ آزادی کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیرِ پاکستان ثقلین سیدہ نے کہا کہ آزادی ایک مقدس نعمت اور امانت ہے جو قائدِ اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کی بصیرت اور ہمارے اسلاف کی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام ایک طویل جدوجہد، عزم اور قربانیوں کا نتیجہ ہے، اس لیے آزادی کی قدر کرنا اور اس کی حفاظت کرنا ہر پاکستانی کی بنیادی قومی ذمہ داری ہے۔
سفیرِ پاکستان نے کہا کہ یومِ آزادی محض جشن منانے کا دن نہیں بلکہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، قربانیاں دینے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور مستقبل کے لیے قومی عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے۔

قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے وژن کو آگے بڑھانے کی ضرورت
سفیرِ پاکستان نے قائدِ اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بانیانِ پاکستان نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی حکمرانی، انصاف، مساوات، ترقی اور عوام کی فلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔
انہوں نے کہا کہ آج کی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے وژن کو سمجھتے ہوئے پاکستان کو ایک مضبوط، پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
بابائے قوم کی 150ویں سالگرہ کے آغاز کی اہمیت اجاگر
تقریب کے دوران بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح کی 150ویں سالگرہ کے آغاز کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر قائدِ اعظم کی سیاسی بصیرت، قیادت اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے حصول کی جدوجہد کو یاد کیا گیا۔
سفیرِ پاکستان نے اس امر پر زور دیا کہ قائدِ اعظم کی زندگی، ان کے اصولوں اور ان کے افکار کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نوجوان پاکستان کے قیام کے مقاصد اور اس کے پس منظر سے آگاہ رہیں۔
پاکستان کی معاشی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کامیابیاں باعثِ فخر ہیں
سفیرِ پاکستان ثقلین سیدہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی حالیہ کامیابیوں اور مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام، ماحولیاتی سفارتکاری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی کامیابیاں باعثِ فخر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی اور انسانی وسائل ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں، جبکہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر بے شمار مواقع موجود ہیں۔
ماحولیاتی سفارتکاری میں پاکستان کا کردار
سفیرِ پاکستان نے ماحولیاتی مسائل اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف اور سفارتی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس کے اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس تناظر میں ماحولیاتی سفارتکاری اور عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنا اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔
پاکستان کے دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے خدمات کا اعتراف
جشنِ آزادی کی تقریب کے دوران پاکستان کے دیہی علاقوں کی ترقی اور فلاح کے لیے خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر سینٹی ماریا اینا سِلر (Dr. Senta Maria Anna Siller) کو خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ اعزاز پاکستان کے دیہی علاقوں میں ترقیاتی اور فلاحی خدمات کے اعتراف کے طور پر پیش کیا گیا۔
تقریب کے شرکاء نے ڈاکٹر سینٹی ماریا اینا سِلر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان عوامی سطح پر تعاون اور ترقیاتی روابط دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جرمنی میں پاکستانی کمیونٹی پاکستان کی سفیر ہے
تقریب کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نہ صرف اپنے وطن کے ساتھ مضبوط تعلق برقرار رکھتی ہے بلکہ جرمن معاشرے میں اپنی محنت، کاروبار، تعلیم، طب، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں خدمات کے ذریعے پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی کردار ادا کررہی ہے۔
اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ بیرونِ ملک پاکستانی دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور معاشی روابط کو مضبوط بنانے میں پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
قومی ترانے کی دھنوں نے تقریب میں حب الوطنی کا جذبہ اجاگر کیا
جشنِ آزادی کی تقریب میں قومی ترانے کے موقع پر پاکستانی بچوں اور بڑوں کا جوش و جذبہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔
قومی پرچم کی سربلندی اور قومی ترانے کی دھنوں نے شرکاء کو وطنِ عزیز کی آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلا دی۔
بچوں کی شرکت نے اس امر کی عکاسی کی کہ بیرونِ ملک پروان چڑھنے والی پاکستانی نسل بھی اپنے وطن کی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
پاکستان اور جرمنی کے دوستانہ تعلقات کا عزم
برلن میں یومِ آزادی کی تقریب نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید اجاگر کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔
تقریب میں شریک جرمن مہمانوں نے پاکستانی قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ تجارت، تعلیم، ترقیاتی تعاون، ماحولیات، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ سے آگاہ کرنے کی ضرورت
تقریب کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بیرونِ ملک پاکستانی بچوں اور نوجوانوں کو پاکستان کی تاریخ، تحریکِ آزادی اور قومی اقدار سے آگاہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
سفیرِ پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی سفارتی مشنز بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کو وطن سے جوڑنے اور نئی نسل میں پاکستان سے محبت اور وابستگی کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔
آزادی کے تحفظ اور قومی ترقی کا عہد
جشنِ آزادی کی اس پُروقار تقریب نے اس پیغام کو اجاگر کیا کہ پاکستان کی آزادی ہمارے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے اور اس کی حفاظت، ترقی اور خوشحالی ہر پاکستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سفیرِ پاکستان ثقلین سیدہ نے اس موقع پر پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، معاشی ترقی اور قومی خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان کے روشن اور مثبت تشخص کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔
برلن میں منعقدہ جشنِ آزادی کی تقریب نے پاکستانی کمیونٹی کو وطن سے اپنی وابستگی کے اظہار کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوستانہ تعلقات، باہمی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کے عزم کو بھی مزید نمایاں کردیا۔



