
جنگ بندی سے آگے کیا؟ امریکی-ایرانی امن ڈیل کے عملی خدوخال ابھی مبہم
اس ڈیل کے تحت جنگی فریقین کی ایک دوسرے کے خلاف مسلح کارروائیاں روکی جا چکی ہیں اور آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ مکمل طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولا جانا ہے۔

By Voice of Germany Urdu News Team
امریکہ اور ایران کے مابین حال ہی میں اتفاق کردہ عبوری امن معاہدہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے باضابطہ خاتمے کا وعدہ تو کرتا ہے، لیکن اس ڈیل پر عمل درآمد کا تفصیلی طریقہ کار تاحال غیر واضح ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو شروع ہونے والے فضائی حملوں کے ساتھ جس ایران جنگ کا آغاز ہوا تھا، اس کے خاتمے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے مابین ایک مفاہمتی دستاویز پر اتفاق رائے کی خود امریکہ، ایران اور اس تنازعے میں ثالثی کرنے والے ملک پاکستان کی طرف سے بھی اتوار کو رات گئے تصدیق کر دی گئی تھی۔
اس عبوری جنگ بندی معاہدے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ جنگ کے خاتمے کی وجہ بنے گا، تاہم مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بات تاحال غیر واضح ہے کہ یہ امن ڈیل عملی طور پر کام کیسے کرے گی۔

فرانس میں ایویاں لے باں، جہاں دنیا کے صنعتی طور پر ترقی یافتہ سات بڑے ممالک کے گروپ جی سیون کے رہنماؤں کی سمٹ جاری ہے، ایرانی دارالحکومت تہران اور اسرائیل میں یروشلم سے منگل 16 جون کو ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق ایران اور امریکہ کے مابین جو امن مفاہمت ہو گئی ہے اور جس پر دستخط رواں ہفتے جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں کیے جانا ہیں، اس کے بارے میں ابھی تک کئی طرح کے شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔
اس ڈیل کے تحت جنگی فریقین کی ایک دوسرے کے خلاف مسلح کارروائیاں روکی جا چکی ہیں اور آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ مکمل طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولا جانا ہے۔
دوطرفہ اعتماد سازی کے لیے درکار وقت
نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس ڈیل میں اب تک جو کچھ سیاسی مذاکراتی سطح پر طے ہو چکا ہے، اس پر عمل درآمد اور اسے مزید آگے بڑھانے کے لیے متحارب فریقوں کے مابین دیرپا اعتماد سازی کی ضرورت ہو گی اور اس میں کم از کم بھی کئی ہفتے لگیں گے۔

فرانس میں جی سیون کی سمٹ میں شرکت کے لیے موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر 15 جون کی رات کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری معاہدے پر امریکہ اور ایران کی طرف سے دستخط کیے بھی جا چکے ہیں۔
اس معاہدے کی تفصیلات تاہم ابھی تک غیر واضح ہیں اور واشنگٹن اور تہران کو مستقل جنگ بندی کے لیے آئندہ ہفتوں میں آپس میں جامع نوعیت کے مزید مذاکرات بھی کرنا ہیں۔
فرانس میں ایویاں لے باں سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس ڈیل کے تحت دستخطوں کے بعد شروع ہونے والے 60 روزہ عرصے میں امریکہ اور ایران کو جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے مزید بات چیت کرنا ہو گی، جس میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے مستقبل سمیت کئی اہم سوال شامل ہوں گے۔

مختلف نیوز ایجنسیوں نے ماہرین کے تجزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران جنگ میں عبوری معاہدے کے طور پر فریقین کے مابین مفاہمت کی یادداشت کا تیار کر لیا جانا ایک بڑی اور امید افزا پیش رفت ہے، تاہم اس دستاویز پر دستخطوں کے بعد کا دو ماہ کا عرصہ بھی کم مشکل اور کوئی چھوٹا چیلنج نہیں ہوگا۔



