
ڈاکٹر اصغر واہلہ-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
قصور: پنجاب کے ضلع قصور میں ایک نجی ہسپتال میں مبینہ غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ اور طبی غفلت کا ایک حیران کن اور سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ضلعی محکمہ صحت اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران ایک خاتون کے مبینہ کزن کے قبضے سے لیڈیز پرس میں رکھا ہوا انسانی گردہ برآمد کیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس، محکمہ صحت اور پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (پی ہوٹا) نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ اس مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے جس پر الزام ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر گردے کی پیوند کاری کی اور بعد ازاں انفیکشن پھیلنے پر متاثرہ خاتون کا گردہ دوبارہ نکالنے کی کوشش کی۔
حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کو تشویشناک حالت میں ہسپتال سے نکال کر پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔
پولیس کارروائی اور گرفتاریاں
قصور پولیس کے مطابق اس مقدمے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
تفتیشی افسر نجم رشید نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں نوید، شہباز اور سید عمار شامل ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کی متعدد ٹیمیں لاہور اور دیگر علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں اور اس معاملے میں ملوث مزید افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیس کی نوعیت انتہائی حساس ہے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
محکمہ صحت کا مؤقف
ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ڈی ایچ او) تحصیل قصور ڈاکٹر فیصل اقبال نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد کیس پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق:
"پی ہوٹا کی خصوصی ٹیم نے تمام شواہد اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد کیس اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور اب مزید قانونی و تکنیکی تحقیقات اتھارٹی کی نگرانی میں ہوں گی۔”
انہوں نے بتایا کہ خاتون پہلے سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھیں اور ڈائیلاسز پر تھیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی ان کا علاج اسی نوعیت کے طبی پروٹوکول کے تحت جاری رکھا جائے گا۔
واقعہ کیسے سامنے آیا؟
تھانہ صدر قصور میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ اس وقت سامنے آیا جب رات تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر پولیس کو اطلاع ملی کہ ایک نجی ہسپتال میں بیرونی میڈیکل ٹیم ایک خاتون پر مشتبہ طبی کارروائی کر رہی ہے۔
یہ اطلاع ہسپتال کے منیجر کی جانب سے ریسکیو ہیلپ لائن 15 پر دی گئی تھی۔
اطلاع ملنے پر پولیس اور محکمہ صحت کے افسران فوری طور پر ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے ایک خاتون کو تشویشناک حالت میں پایا۔
حکام کے مطابق موقع پر موجود طبی سرگرمیوں اور دستیاب شواہد نے شبہ پیدا کیا کہ وہاں گردے کی پیوند کاری یا اس سے متعلق کوئی غیر قانونی کارروائی جاری تھی۔
لاہور سے آنے والی مبینہ میڈیکل ٹیم
ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے دو افراد ایک ڈاکٹر کے ہمراہ قصور پہنچے تھے اور خاتون پر سرجری کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
محکمہ صحت کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی ٹیم پہلے لاہور میں متاثرہ خاتون کا گردہ ٹرانسپلانٹ کر چکی تھی۔
بعد ازاں جب پیوند کیے گئے گردے میں انفیکشن پیدا ہوا تو مبینہ طور پر اسی گردے کو دوبارہ نکالنے کے لیے قصور کے نجی ہسپتال کا انتخاب کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزام درست ثابت ہوا تو یہ معاملہ نہ صرف غیر قانونی پیوند کاری بلکہ سنگین طبی غفلت اور مریض کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے زمرے میں بھی آئے گا۔
لیڈیز پرس سے انسانی گردہ برآمد
اس پورے کیس کا سب سے حیران کن پہلو وہ تھا جب متاثرہ خاتون کے ساتھ موجود ایک شخص، جسے مقدمے میں ان کا کزن قرار دیا گیا ہے، کے قبضے سے ایک لیڈیز پرس برآمد ہوا۔
پولیس اور محکمہ صحت کے مطابق جب پرس کی تلاشی لی گئی تو اس کے اندر انسانی گردہ موجود تھا۔
گردے کو فوری طور پر تحویل میں لے کر محفوظ کیا گیا اور بعد ازاں مزید فرانزک اور طبی معائنے کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
ڈاکٹر فیصل اقبال کے مطابق مذکورہ شخص نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا کہ گردے کی پیوند کاری لاہور میں اسی میڈیکل ٹیم کے ذریعے کروائی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے رقم بھی ادا کی گئی تھی۔
سرجیکل سامان اور نقد رقم برآمد
تحقیقات کے دوران پولیس نے ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی ایک گاڑی کی بھی تلاشی لی۔
پولیس کے مطابق گاڑی سے آپریشن میں استعمال ہونے والا سرجیکل سامان، طبی آلات اور 70 ہزار روپے نقد برآمد ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام سامان قبضے میں لے کر فرانزک اور تکنیکی جانچ کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔
مقدمہ کن دفعات کے تحت درج ہوا؟
تھانہ صدر قصور میں ڈاکٹر فیصل اقبال کی مدعیت میں تین نامزد اور پانچ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں درج اہم قانونی دفعات میں شامل ہیں:
- دی ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010
- تعزیرات پاکستان کی دفعہ 419 (دھوکہ دہی)
- تعزیرات پاکستان کی دفعہ 420 (فراڈ اور جعلسازی)
حکام کے مطابق مزید شواہد سامنے آنے پر مقدمے میں اضافی دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
پاکستان میں اعضاء کی پیوند کاری کا قانون
پاکستان میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کو "دی ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010” کے تحت ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔
اس قانون کا بنیادی مقصد انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت اور تجارتی استعمال کی روک تھام ہے۔
قانون کے مطابق:
- انسانی اعضاء کی خرید و فروخت ممنوع ہے۔
- ڈونر کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری ہے۔
- عضو عطیہ رضاکارانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے۔
- پیوند کاری صرف قانونی شرائط اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد کی جا سکتی ہے۔
- غیر قانونی عضو نکالنے یا پیوند کاری میں ملوث افراد کو 10 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی کا کردار
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد پنجاب حکومت نے "پنجاب ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز (ترمیمی) ایکٹ 2012” نافذ کیا تھا۔
اسی قانون کے تحت پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (پی ہوٹا) قائم کی گئی، جو صوبے بھر میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کی نگرانی کرتی ہے۔
اتھارٹی کے پاس اختیار ہے کہ وہ:
- ہسپتالوں کی رجسٹریشن کی نگرانی کرے
- ڈونر اور مریض کے رشتے کی تصدیق کرے
- طبی اور قانونی دستاویزات کی جانچ کرے
- غیر قانونی پیوند کاری کے خلاف کارروائی کرے
اسی اتھارٹی نے اب قصور کے اس سنسنی خیز مقدمے کی مکمل تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔
اہم سوالات تاحال جواب طلب
اس مقدمے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے:
- کیا گردے کی ابتدائی پیوند کاری قانونی طریقے سے کی گئی تھی؟
- لاہور میں یہ آپریشن کس ہسپتال یا کلینک میں کیا گیا؟
- متاثرہ خاتون سے کتنی رقم وصول کی گئی؟
- کیا اس میں منظم انسانی اعضاء کے کاروبار کا کوئی نیٹ ورک ملوث ہے؟
- غیر مجاز میڈیکل ٹیم کو نجی ہسپتال میں آپریشن کی اجازت کس نے دی؟
تحقیقات مکمل ہونے تک ان سوالات کے حتمی جوابات سامنے آنا باقی ہیں، تاہم یہ معاملہ پنجاب میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کے حوالے سے حالیہ برسوں کے سب سے سنگین اور غیر معمولی مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور طبی ریگولیٹری حکام کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ رپورٹ قومی اخبارات، تحقیقاتی جرنلزم اور نیوز ویب سائٹس کے معیار کے مطابق تفصیلی انداز میں تیار کی گئی ہے۔



