پاکستاناہم خبریں

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو ایف سی اہلکار قتل کیس میں دوہری عمر قید کی سزا

عدالت کے مطابق دونوں ملزمان کی سرگرمیاں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

بلوچستان کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے مرکزی رہنما صبغت اللہ عرف شاہ جی کو جولائی 2024 میں گوادر میں احتجاج کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار شبیر احمد بلوچ کے قتل اور دہشت گردی کے مقدمے میں دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک کوئٹہ کے جج محمد علی مبین نے پیر کے روز محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو قتل عمد اور دہشت گردی کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ دونوں عمر قید کی سزائیں بیک وقت چلیں گی۔

فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کو مقتول کے ورثا کو دو، دو لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید چھ، چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ دہشت گردی کے الزام میں بھی دونوں کو دو، دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

عدالت کا فیصلہ

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اس اجتماع میں فعال کردار ادا کر رہے تھے جسے عدالت نے غیر قانونی قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ دونوں ملزمان مقتول ایف سی اہلکار شبیر احمد بلوچ کے قتل کے "مشترکہ مقصد” میں شریک تھے، اس لیے انہیں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302-B سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت قتل عمد کا مجرم قرار دیا جاتا ہے۔

عدالت کے مطابق دونوں ملزمان کی سرگرمیاں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں، لہٰذا انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7-A کے تحت بھی سزا سنائی گئی۔

عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی نے مقدمے کی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کیا اور ٹرائل کا باضابطہ بائیکاٹ کیا۔

عدالت کے مطابق ملزمان کو متعدد مواقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شامل ہونے کی سہولت فراہم کی گئی لیکن انہوں نے شرکت سے انکار کیا۔ مزید برآں، عدالت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری وکیل سے بھی ملزمان نے مشاورت نہیں کی۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی ملزم کی دانستہ عدم شرکت عدالتی کارروائی کو روکنے یا غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنے کا جواز نہیں بن سکتی، اس لیے مقدمے کی کارروائی قانون کے مطابق جاری رکھی گئی۔

استغاثہ کے شواہد کو قابل اعتماد قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں استغاثہ کے شواہد کو قابل اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ، عینی شاہدین، مدعی مقدمہ اور تفتیشی افسر کے بیانات ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ مقدمہ درج کرنے میں تقریباً سات گھنٹے کی تاخیر ہوئی تھی، تاہم واقعے کے حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تاخیر غیر معمولی یا مشکوک نہیں تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ شواہد میں ایسا کوئی بنیادی تضاد موجود نہیں جو استغاثہ کے مقدمے کو کمزور یا ناقابل اعتماد بناتا ہو۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اجتماع سے متعلق عدالت کے ریمارکس

عدالت نے فیصلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قانونی حیثیت پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ تو رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی کسی قانونی فریم ورک کے تحت تسلیم شدہ تنظیم۔

فیصلے کے مطابق اگرچہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 16 شہریوں کو پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے، تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب کوئی اجتماع پرامن احتجاج کی حدود سے نکل کر تشدد اور قانون شکنی کی شکل اختیار کر لے تو وہ آئینی تحفظ سے محروم ہو جاتا ہے۔

عدالت کے مطابق واقعے کے وقت ایف سی اہلکار سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے اور ان پر حملہ ریاستی اداروں کے خلاف تشدد کی کارروائی کے مترادف تھا، جو انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت جرم بنتا ہے۔

مقدمہ کیا تھا؟

یہ مقدمہ جولائی 2024 میں گوادر سٹی تھانے میں ایف سی کے نائب صوبیدار بیت اللہ خان کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق 29 جولائی 2024 کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام "بلوچ راجی مچی” کے نام سے جاری احتجاج کے دوران ایف سی کی ایک گشتی ٹیم الجوہر اسکول کے قریب پہنچی، جہاں مظاہرین نے سڑک بند کر رکھی تھی۔

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اس موقع پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اجتماع سے خطاب کر رہی تھیں اور ان کی تقریر کے نتیجے میں مظاہرین مشتعل ہو گئے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ایف سی اہلکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہجوم کو کارروائی پر اکسایا، جس کے بعد مظاہرین نے گاڑی پر پتھراؤ اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔

استغاثہ کے مطابق حملے کے دوران ایف سی اہلکار شبیر احمد بلوچ اپنے ساتھیوں سے جدا ہو گئے اور بعد ازاں پتھروں اور ڈنڈوں کے وار سے جان کی بازی ہار گئے۔ مقدمے میں لاش کی بے حرمتی کے الزامات بھی شامل کیے گئے تھے۔

دیگر ملزمان کے مقدمات

اس مقدمے میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین بالاچ قادر بلوچ، ابوبکر کلانچی، زاہد حیدر، ملا جمیل اور دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق بالاچ قادر بلوچ، ابوبکر کلانچی اور زاہد حیدر کے مقدمات الگ ٹرائل کے لیے منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ ملا جمیل کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔

اسی مقدمے میں نعمان اسحاق کو بھی بعد ازاں نامزد کیا گیا تھا، تاہم گوادر کی انسداد دہشت گردی عدالت نے فروری 2025 میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر انہیں بری کر دیا تھا۔

موجودہ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ نعمان اسحاق کا کیس مختلف نوعیت کا تھا کیونکہ انہیں وقوعے کے 171 دن بعد نامزد کیا گیا، جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر ملزمان کو وقوعہ کے روز ہی نامزد کیا گیا تھا۔

مقدمہ کوئٹہ کیسے منتقل ہوا؟

مارچ 2026 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر یہ مقدمہ گوادر سے کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت منتقل کیا گیا تھا، جہاں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد پیر کو فیصلہ سنایا گیا۔

ماہ رنگ بلوچ کون ہیں؟

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان کے ضلع قلات کے لانگو قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ ان کا خاندان طویل عرصے سے کوئٹہ میں مقیم ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق اور سیاسی مسائل کے حوالے سے سرگرم سماجی کارکن کے طور پر سامنے آئی ہیں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کرتی رہی ہیں۔

صبغت اللہ شاہ جی کون ہیں؟

صبغت اللہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور تنظیم کے احتجاجی پروگراموں، ریلیوں اور عوامی اجتماعات میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

وہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت سے تعلق رکھتے ہیں اور سیاسی حلقوں میں "شاہ جی” کے نام سے معروف ہیں۔ ان کے والد مولانا عبدالحق بلوچ قومی اسمبلی کے سابق رکن، جماعت اسلامی بلوچستان کے سابق امیر اور صوبے کی مذہبی و سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے رہے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اہلخانہ کا ردعمل

فیصلے کے بعد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے اہلخانہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی اور عدالتی جبر قرار دیا ہے۔

تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی اختلافِ رائے اور عوامی مزاحمت کو دبانے کی کوشش ہے، جبکہ حکومتی اور قانونی حلقوں کا مؤقف ہے کہ عدالت نے شواہد اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے۔

سیاسی اور قانونی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد بلوچستان کی سیاسی صورتحال، انسانی حقوق کے مباحث اور عدالتی کارروائیوں کے حوالے سے نئی بحث جنم لینے کا امکان ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملزمان کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کی جائے گی۔

نوٹ: خبر میں عدالت، استغاثہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مؤقف کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے تاکہ رپورٹ متوازن اور پیشہ ورانہ صحافتی معیار کے مطابق رہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button