اہم خبریںپاکستان

ایرانی صدر پزشکیان مذاکرات کے لیے پاکستان میں

صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو گلے لگا کر خوش آمدید کہا، جو دونوں ممالک کے قریبی برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے

 سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز رائٹرز، اے پی، اے ایف پی کے ساتھ خصوصی رپورٹ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان ایک اہم سرکاری دورے پر منگل کے روز اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں وہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ایران۔امریکہ عبوری امن معاہدے پر عملدرآمد، علاقائی سلامتی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ سے متعلق اہم مذاکرات کریں گے۔

صدر پزشکیان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی ’’اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘‘ پر عملدرآمد کے سلسلے میں سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کا ایرانی صدر کی پاکستان آمد پر شاندار فضائی استقبال

پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد پر شاندار فضائی استقبال کیا۔

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں خصوصی اسکواڈ نے سلامی دی۔جے ایف-17 تھنڈر اور ایف-16 طیاروں کی 6 جہازوں پر مشتمل فارمیشن نے ایرانی صدر کا فضائی استقبال کیا۔فضائی فارمیشن لیڈر کی جانب سے وزیراعظم پاکستان اور عوام کی نیک تمناؤں کا اظہارکیاگیا۔

ایران کے صدر کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی خوبصورت عکاسی ہے۔یہ دورہ دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ ہے۔

جے ایف-17 اور ایف-16 طیارے پاکستان فضائیہ کی جدید صلاحیتوں کی علامت ہے۔پاکستان کا اعلیٰ شخصیات کے استقبال کی شاندار روایات کا تسلسل ہے۔خطے میں امن، دوستی اور تعاون کے فروغ کا پیغام ہے۔

صدر مسعود پزشکیان جب اسلام آباد کے نواح میں واقع نور خان ایئر بیس پہنچے تو ان کا استقبال پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیا۔

ایرانی صدر کے اعزاز میں خصوصی استقبالی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ اسلام آباد کی اہم شاہراہوں کو پاکستان اور ایران کے قومی پرچموں اور خیرمقدمی بینرز سے سجایا گیا تھا۔

پاکستان ٹیلی وژن کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو گلے لگا کر خوش آمدید کہا، جو دونوں ممالک کے قریبی برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

’’اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘‘ کیا ہے؟

فروری 2026 کے اختتام پر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ متعدد ہفتوں تک جاری رہنے والی اس جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

بعد ازاں پاکستان، قطر اور دیگر دوست ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا، جسے ’’اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘‘ کا نام دیا گیا۔

اس معاہدے پر ایران اور امریکہ کے صدور کے علاوہ ثالثی کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کیے، جس کے بعد فریقین نے جنگ بندی کے عبوری فریم ورک پر اتفاق کیا۔

سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں اہم پیش رفت

عبوری امن معاہدے کے بعد گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور منعقد ہوا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں عبوری معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے ایک جامع روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا، جس میں اعتماد سازی کے اقدامات، سیاسی رابطوں کے تسلسل اور مستقل امن معاہدے کے لیے آئندہ مذاکراتی مراحل کا خاکہ شامل ہے۔

امریکی اور ایرانی حکام نے مذاکراتی عمل میں ہونے والی پیش رفت کو ’’حوصلہ افزا‘‘ قرار دیا ہے۔

امن معاہدے کا بنیادی مقصد

اسلام آباد مفاہمتی دستاویز کا بنیادی مقصد 60 روز کے اندر سیاسی، سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کے ذریعے عبوری جنگ بندی کو ایک جامع اور مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔

اس عمل کے تحت:

  • مکمل اور پائیدار جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے گا۔
  • خطے میں عسکری کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
  • حساس سکیورٹی اور جوہری معاملات پر مذاکرات آگے بڑھائے جائیں گے۔
  • اقتصادی پابندیوں اور علاقائی تنازعات کے حل کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
  • خلیجی خطے میں بحری سلامتی اور عالمی توانائی سپلائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

اگرچہ متعدد نکات پر اصولی اتفاق رائے موجود ہے، تاہم بعض معاملات پر اب بھی اختلافات پائے جاتے ہیں جنہیں آئندہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان کا سفارتی کردار

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق حالیہ بحران کے دوران پاکستان نے نہایت متوازن اور فعال سفارتی کردار ادا کیا۔

اسلام آباد نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے، کشیدگی کم کرنے کے لیے پس پردہ سفارتکاری کی اور مختلف سطحوں پر متعدد ملاقاتوں کی میزبانی بھی کی۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی انہی مسلسل کوششوں کے باعث دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ممکن ہوا اور خطے کو ایک وسیع جنگ سے بچانے میں مدد ملی۔

ایرانی وفد میں اہم شخصیات شامل

صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی پاکستان پہنچے ہیں، جو ایران کی مذاکراتی ٹیم کے اہم ترین ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی امن مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

یہ دونوں شخصیات اس سے قبل بھی ایران۔امریکہ امن مذاکرات کے سلسلے میں متعدد مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کر چکی ہیں۔

جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد صدر مسعود پزشکیان کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے، جسے سفارتی حلقے غیرمعمولی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف امن عمل کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی، توانائی اور سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اہم ملاقاتیں اور متوقع ایجنڈا

دورے کے دوران صدر پزشکیان کی صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

مذاکرات میں درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دی جائے گی:

  • ایران۔امریکہ امن معاہدے پر عملدرآمد
  • علاقائی امن و استحکام
  • سرحدی سلامتی
  • انسداد دہشت گردی تعاون
  • توانائی اور تجارت
  • پاک ایران اقتصادی روابط
  • مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال

خطے کے امن کے لیے اہم پیش رفت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ’’اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘‘ پر کامیابی سے عملدرآمد ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ایک تاریخی پیش رفت ہوگی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ، خلیجی خطے اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

صدر مسعود پزشکیان کا موجودہ دورہ اس وسیع تر سفارتی عمل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے کو مزید کشیدگی سے بچاتے ہوئے مذاکرات، اعتماد سازی اور سیاسی حل کی جانب لے جانا ہے۔

یہ مسودہ ایک مکمل اخباری فیچر/نیوز اسٹوری کے انداز میں تیار کیا گیا ہے جسے اخبار، نیوز ویب سائٹ یا میگزین میں شائع کیا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button