
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے "منشیات سے پاک پنجاب” وژن پر تیز رفتار عملدرآمد
پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے دو ہفتوں میں 85 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 93 اسمگلرز گرفتار، 296 کلوگرام منشیات اور بھاری اسلحہ برآمد
انصار ذاہد سیال-ادارت
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات اور "منشیات سے پاک پنجاب، صحت مند اور محفوظ پنجاب” کے وژن پر عملدرآمد کے تحت پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس (سی این ایف) نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں۔ ان کارروائیوں میں بڑی مقدار میں مختلف اقسام کی منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور جدید آلات برآمد کیے گئے جبکہ درجنوں ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نے لاہور، ڈیرہ غازی خان، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، بہاولپور اور سرگودھا ڈویژنز میں مجموعی طور پر 85 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے دوران 93 مبینہ منشیات اسمگلرز کو گرفتار کیا گیا۔
296 کلوگرام منشیات برآمد، مالیت 5 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد
کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف اقسام کی 296 کلوگرام منشیات برآمد کرنے میں کامیاب رہے، جن کی تخمینہ مالیت 5 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
برآمد ہونے والی منشیات میں چرس، افیون، ویڈ، آئس (کرسٹل میتھ)، پوست، کوکین، ہیروئن اور پانچ لیٹر شراب شامل ہے، جو مختلف شہروں میں سپلائی کیے جانے کے لیے تیار کی گئی تھیں۔
حکام کے مطابق برآمد کی گئی منشیات کی مقدار اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جو صوبے کے مختلف علاقوں میں منشیات کی ترسیل اور تقسیم میں سرگرم تھے۔
اسلحہ اور ڈرونز بھی قبضے میں لے لیے گئے
پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کی کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
برآمد شدہ اسلحے میں 13 پستول، 2 سب مشین گنز (ایس ایم جیز)، 4 رائفلیں اور 7 ڈرونز شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسلحہ اور ڈرونز مبینہ طور پر منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل، نگرانی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں میں استعمال کیے جا رہے تھے۔ تمام برآمد شدہ سامان کو تحویل میں لے کر فرانزک اور تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
منشیات فروشوں کے بڑے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
ڈائریکٹر جنرل پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس، کمانڈر برگیڈیئر مظہر اقبال نے کارروائیوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فورس کی اصل کامیابی صرف منشیات کی برآمدگی نہیں بلکہ صوبے میں سرگرم بڑے منشیات اسمگلنگ نیٹ ورکس کی مؤثر سرکوبی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس جدید انٹیلی جنس، پیشہ ورانہ مہارت، ڈیجیٹل معلومات، مربوط حکمت عملی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ منشیات کی سپلائی چین کو توڑنے، مالی وسائل تک رسائی ختم کرنے اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
قیام کے بعد سے 24.7 ٹن منشیات برآمد
ڈائریکٹر جنرل پنجاب سی این ایف نے بتایا کہ اگست 2025 میں فورس کے فعال ہونے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 24.7 ٹن منشیات برآمد کی جا چکی ہیں، جن کی تخمینہ مالیت 2 ارب 23 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نتائج وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرو ٹالرنس پالیسی، مؤثر حکمت عملی، جدید انٹیلی جنس نظام، خصوصی آپریشنز اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی تعاون کا عملی ثبوت ہیں۔
ان کے مطابق پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس نہ صرف منشیات فروشوں کی گرفتاری پر توجہ دے رہی ہے بلکہ ان کے مالی وسائل، سپلائی نیٹ ورکس اور اسمگلنگ کے منظم ڈھانچے کو بھی ختم کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
"منشیات سے پاک پنجاب” وژن پر عمل جاری رکھنے کا عزم
برگیڈیئر مظہر اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن "منشیات سے پاک پنجاب، صحت مند اور محفوظ پنجاب” کی تکمیل کے لیے صوبے بھر میں منشیات فروشوں، اسمگلرز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کسی بھی دباؤ یا امتیاز کے بغیر قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی اور نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
منشیات کے خلاف حکومتی مہم میں تیزی
حکام کے مطابق پنجاب حکومت صوبے میں منشیات کی روک تھام، آگاہی مہم، تعلیمی اداروں کے تحفظ، انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ منشیات کی اسمگلنگ، خرید و فروخت اور ترسیل کے منظم نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف مؤثر کارروائیاں صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی تنظیموں اور شہریوں کا تعاون بھی اس قومی مہم کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنے، صحت مند معاشرے کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، جدید تفتیشی طریقوں اور بین الادارہ تعاون کے ذریعے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ صوبے کو منشیات سے پاک، محفوظ اور صحت مند معاشرہ بنانے کے حکومتی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کو روزنامہ جنگ، نوائے وقت، دنیا نیوز یا جیو نیوز کے فرنٹ پیج کی طرز پر مزید تحقیقی اور 1500+ الفاظ پر مشتمل خصوصی رپورٹ کی شکل بھی دے سکتا ہوں۔


