بین الاقوامیاہم خبریں

کولگام واقعے کے بعد سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا، فاروق عبداللہ نے سکیورٹی انتظامات اور تحقیقات پر سوالات اٹھا دیے

بعض رہنماؤں نے سکیورٹی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے، جبکہ مختلف سیاسی بیانات میں واقعے کے پس منظر پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں

سید عاطف ندیم-ادارت
سری نگر:مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں مزدوروں کی ہلاکت کے بعد سیاسی ردعمل میں شدت آ گئی ہے، جبکہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے واقعے کے تناظر میں بھارتی حکومت کی سکیورٹی پالیسی اور تحقیقات کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو اور انٹرویوز میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ کولگام میں پیش آنے والے واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات کرائی جانی چاہئیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس واقعات کی جلد بازی میں تشریح کرنے کے بجائے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
فاروق عبداللہ نے بعض بھارتی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے ان بیانات سے اختلاف کیا جن میں واقعے کو فوری طور پر پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تحقیقات مکمل ہونا ضروری ہیں اور ذمہ داری کا تعین صرف مستند شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
انہوں نے بھارتی حکومت کے سکیورٹی بیانیے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر وادی میں سکیورٹی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور سرحدی نگرانی مؤثر ہے تو پھر ایسے حملے کیسے پیش آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی سوالات عوام میں بھی پائے جاتے ہیں اور ان کے واضح جوابات سامنے آنے چاہئیں۔
فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت (Statehood) کی بحالی کا مطالبہ ایک عرصے سے سیاسی جماعتوں اور عوام کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، جب بھی اس مطالبے کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے تو بعض سنگین سکیورٹی واقعات رونما ہو جاتے ہیں، جن کے باعث نئی بحث جنم لیتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے معاملات کی غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی قیاس آرائی یا شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کولگام واقعے کی تحقیقات شفاف انداز میں کرائی جائیں اور اس عمل میں تمام متعلقہ شواہد، فرانزک معلومات اور عینی شاہدین کے بیانات کو شامل کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔
دوسری جانب، مختلف سیاسی حلقوں میں بھی کولگام واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض رہنماؤں نے سکیورٹی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے، جبکہ مختلف سیاسی بیانات میں واقعے کے پس منظر پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ تاہم ان میں سے متعدد دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کولگام کا واقعہ ایک مرتبہ پھر جموں و کشمیر میں امن و امان، سیاسی عمل اور عوامی تحفظ سے متعلق اہم سوالات کو سامنے لے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی غیر جانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ناگزیر ہوتی ہیں۔
تاحال بھارتی حکام کی جانب سے تحقیقات جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے محرکات اور ذمہ داران کے بارے میں حتمی نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button