
پاکستان میں سوشل میڈیا پر شروع ہونے والا تنازع دو کم عمر نوجوانوں کے قتل پر منتج، مرکزی ملزم سمیت تمام نامزد افراد گرفتار
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کرنے والے مرکزی ملزم کو مقامی افراد نے پکڑ لیا، جبکہ دیگر ملزمان کو بھی کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔
ناصف اعوان-ادارت
اوکاڑہ: پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی تحصیل حویلی لکھا میں معمولی تلخ کلامی اور مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر شروع ہونے والا تنازع اس وقت خونریز واقعے میں تبدیل ہوگیا جب آئس کریم کی دکان پر موجود دو کم عمر نوجوانوں پر مبینہ طور پر خنجروں اور چھریوں سے حملہ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں نوجوان جان کی بازی ہار گئے۔ واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ یکم اگست کی رات تقریباً 10 بجے محلہ فریدیہ، حویلی لکھا میں پیش آیا، جہاں 15 سے 17 سال کی عمر کے دو دوست، بلال اور شرجیل، روزمرہ کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد ایک مقامی آئس کریم شاپ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق اسی دوران چند نوجوان وہاں پہنچے اور دونوں گروپوں کے درمیان پہلے تلخ کلامی اور گالی گلوچ شروع ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی۔
مقامی رہائشی سیف اللہ امین کے مطابق ابتدائی جھگڑے کے دوران علاقے کے لوگوں نے دونوں فریقوں کو الگ کروا دیا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے، تاہم چند لمحوں بعد صورتحال اچانک سنگین رخ اختیار کر گئی۔
ان کے مطابق مرکزی ملزم حمید اللہ خان نے مبینہ طور پر خنجر نکال کر پہلے بلال پر پیچھے سے حملہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد جب بلال زمین پر گر گیا تو اس کا دوست شرجیل اسے بچانے کے لیے آگے بڑھا، مگر اس پر بھی مبینہ طور پر خنجر سے متعدد وار کیے گئے۔ دونوں نوجوان شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
ایف آئی آر میں کن افراد کو نامزد کیا گیا؟
پولیس کے مطابق مقتول بلال کے والد ندیم احمد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں حمید اللہ خان، طارق اور شکیل کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان کے پاس خنجر اور چھریاں موجود تھیں اور انہی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کرنے والے مرکزی ملزم کو مقامی افراد نے پکڑ لیا، جبکہ دیگر ملزمان کو بھی کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں کیا سامنے آیا؟
تھانہ حویلی لکھا کے انچارج انویسٹی گیشن محمد عبدالرزاق کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دشمنی کسی بڑے تنازع کی نہیں بلکہ ایک انتہائی معمولی معاملے سے شروع ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں جانب کے نوجوان مختلف سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں سرگرم تھے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل ایک نوجوان کی ویڈیو پر مبینہ طور پر مخالف گروپ کے کسی لڑکے نے تبصرہ کیا تھا، جس پر ناراضی پیدا ہوئی۔ بعد ازاں دونوں گروپوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور معاملہ گالی گلوچ تک جا پہنچا۔
انچارج انویسٹی گیشن کے مطابق اگرچہ ابتدا میں یہ معاملہ مذاق اور معمولی اختلاف تک محدود تھا، لیکن سوشل میڈیا پر مسلسل ردعمل اور کشیدگی کے باعث تنازع شدت اختیار کرتا گیا اور بالآخر جان لیوا تصادم میں تبدیل ہوگیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ آلہ قتل کی برآمدگی اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔
مبینہ ٹک ٹاک ویڈیوز بھی تحقیقات کا حصہ
مقامی افراد کے مطابق ابتدائی جھگڑے کے بعد مرکزی ملزم نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں اس کے ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا تھا اور پس منظر میں ایسے گانوں کی ڈبنگ موجود تھی جن میں انتقام اور مخالفین کو سبق سکھانے جیسے الفاظ شامل تھے۔
واقعے کے بعد یہی ویڈیوز مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ تاہم پولیس نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر صرف اتنا کہا ہے کہ سوشل میڈیا سرگرمیوں سمیت تمام ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک اور قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حقائق کی روشنی میں تفتیش مکمل کی جا سکے۔
علاقے میں خوف اور غم کی فضا
دو کم عمر نوجوانوں کے قتل کے بعد حویلی لکھا اور گردونواح میں شدید افسوس اور غم کی فضا پائی جاتی ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ ایک معمولی تنازع، جو ابتدا میں بات چیت سے حل ہو سکتا تھا، چند لمحوں میں دو گھروں کے چراغ بجھانے کا سبب بن گیا۔
سماجی حلقوں نے اس افسوسناک واقعے کو نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت، تشدد کے رجحان اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز رویوں کا خطرناک نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر نوجوان نسل میں برداشت، مکالمے اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
تحقیقات جاری
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں جبکہ ڈیجیٹل ریکارڈ، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تفتیش مکمل ہونے کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معمولی تنازعات، اگر بروقت برداشت، گفت و شنید اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل نہ کیے جائیں، تو وہ سنگین انسانی المیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جن کے اثرات متاثرہ خاندانوں اور معاشرے پر طویل عرصے تک باقی رہتے ہیں۔

