اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

پاکستان قلعہ سیف اللہ : مبینہ بلیک میلنگ کے بعد نوجوان کی خودکشی، مرکزی ملزم سمیت دو افراد گرفتار

وزیراعلیٰ کے میڈیا معاون شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔

ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں ایک نوجوان کی خودکشی سے متعلق مقدمے میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
نوجوان کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ اس کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جا رہا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں ایک مرکزی ملزم بھی شامل ہے جبکہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
قلعہ سیف اللہ کے ایس ایچ او عصمت خان غلزئی نے بتایا کہ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے گرفتار ملزمان کے موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا نوجوان کی کوئی ویڈیو یا تصاویر بنائی گئی تھیں اور اسے بلیک میل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔
ان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے بعض شواہد سامنے آئے ہیں تاہم حتمی نتیجہ فرانزک رپورٹ اور مزید تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت نوجوان کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جا سکا تھا تاہم اب خاندان کی رضامندی سے قبر کشائی کر کے پوسٹ مارٹم کرانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ موت کی وجوہات اور مبینہ تشدد کے الزامات کی مزید جانچ ہو سکے۔
یہ معاملہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد توجہ کا مرکز بنا جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی اس کا نوٹس لیا۔
وزیراعلیٰ کے میڈیا معاون شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔
شاہد رند کے مطابق حکومت اس کیس کی مؤثر پیروی کرے گی اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ ہے اور انہیں انصاف فراہم کرے گی۔
متوفی نوجوان ظفراللہ کے چچا روح اللہ نے 19 جون کو قلعہ سیف اللہ تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا جس میں محمد اکرام، صفدر یاسین زئی اور دیگر نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق 17 سے 18 سالہ ظفراللہ کو 13 جون کی شام اس کے دو دوست کھانے کی دعوت کے بہانے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
اس کے بعد اہلِ خانہ کو رات گئے اطلاع ملی کہ وہ زخمی حالت میں سول ہسپتال قلعہ سیف اللہ میں موجود ہے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ نوجوان کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنا کر سڑک پر پھینکا گیا جس کے بعد اسے کوئی شخص قلعہ سیف اللہ ہسپتال لے گیا جہاں سے مزید علاج کے لیے علاج کے لیے انہیں کوئٹہ لے جایا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق تین روز بعد ظفر اللہ گھر واپس آیا تاہم اس دوران وہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار رہا۔
روح اللہ کے مطابق ان کا بھتیجا ابتدا میں واقعے کی تفصیل بتانے سے گریز کرتا رہا تاہم بعد میں اس نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ اس کی مبینہ ویڈیو بنائی گئی ہے اور اسے اپنی اور خاندان کی بدنامی کا خوف لاحق تھا۔
خاندان کا الزام ہے کہ نوجوان کو برہنہ ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا گیا اور خاموش رہنے کے بدلے رقم کی پیشکش بھی کی گئی اور انکار پر ویڈیو عام کرنے کی دھمکی دی گئی۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ مسلسل خوف، دباؤ اور مبینہ بلیک میلنگ کے باعث نوجوان نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق واقعے کے بعد نوجوان گھر کے واش روم میں گیا اور کافی دیر تک واپس نہ آیا۔
بعد ازاں اہلِ خانہ نے اسے پھندے سے لٹکا ہوا پایا اور فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔
قلعہ سیف اللہ سے رکن بلوچستان اسمبلی مولوی نور اللہ نے بھی یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ نوجوان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کی ویڈیوز بنائی گئیں۔
انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور تمام ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک رپورٹس سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
متاثرہ خاندان کے مطابق ظفراللہ کے تین بھائی تھے جن میں سے دو بھائی پہلے ہی مختلف حادثات میں جان گنوا چکے تھے۔
خاندان تیسرے بیٹے کی موت کے بعد شدید صدمے میں ہے اور انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ایس ایچ او عصمت خان غلزئی کے مطابق کسی شخص کی تصاویر یا ویڈیوز بنا کر اسے دھمکانا، بدنامی کے خوف میں مبتلا کرنا یا مالی فائدے کے لیے دباؤ ڈالنا قانوناً قابلِ سزا جرم ہے۔
ان کے مطابق ایسے معاملات میں متاثرہ افراد پولیس اور متعلقہ سائبر کرائم اداروں سے رجوع کر سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button