
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان نے کراچی میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد افغانستان کی عبوری حکومت کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا اور دہشت گردی کے واقعے پر باضابطہ سخت ڈیمارچ جاری کیا۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ ابتدائی تحقیقات میں افغان شہریوں کے حملے میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان سرزمین اور وہاں موجود عناصر پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ بات وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کراچی دہشت گرد حملے کے بعد میڈیا کے سوالات کے جواب میں جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہی۔
افغان ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا
ترجمان کے مطابق گزشتہ رات اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے حوالے سے پاکستان کی شدید تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے باضابطہ ڈیمارچ دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اسی نوعیت کا ڈیمارچ کابل میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمان نظامانی نے بھی افغان وزارت خارجہ کے حکام کے سامنے پیش کیا، جس میں پاکستان کے مؤقف اور تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ
وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ڈیمارچ کی بنیاد کراچی حملے کی ابتدائی تحقیقات ہیں، جن کے مطابق حملے میں افغان شہری ملوث تھے، جبکہ ایک افغان شہری کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس پیش رفت نے ایک بار پھر اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ افغان سرزمین اور وہاں موجود بعض عناصر کو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور عمل درآمد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ
پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا گروہ کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فوری، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی یا تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ علاقائی امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے اصولوں کے منافی ہے۔
دوطرفہ ذمہ داریوں کی یاددہانی
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود دوطرفہ تعلقات، بین الاقوامی ذمہ داریوں اور علاقائی امن کے تقاضوں کے مطابق دونوں ممالک پر لازم ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون کریں۔
پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
کراچی حملے کی تحقیقات جاری
حکام کے مطابق کراچی دہشت گرد حملے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں، جن میں حملہ آوروں کے نیٹ ورک، سہولت کاروں، مالی معاونت، سرحد پار روابط اور منصوبہ بندی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ادارے شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ حملے میں ملوث تمام افراد اور نیٹ ورکس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
علاقائی امن کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت
دفاعی اور سفارتی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا ڈیمارچ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام آباد سرحد پار دہشت گردی کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر، مربوط اور مشترکہ اقدامات کریں اور کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
نوٹ: خبر میں افغان شہریوں کی مبینہ شمولیت سے متعلق دعویٰ پاکستان کی وزارت خارجہ کے سرکاری بیان پر مبنی ہے۔ خبر کی اشاعت تک افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے اس بیان پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔



