پاکستاناہم خبریں

افغانستان میں کارروائی: پاکستان نے بھارتی الزامات رد کر دیے

پاکستان نے افغانستان میں کارروائیوں پر بھارتی ردعمل مسترد کر دیا، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ

روئٹرز، اے ایف پی کے ساتھ

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان میں مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی حالیہ فوجی کارروائیوں پر بھارت کے ردعمل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "لغو”، "بے بنیاد” اور "مضحکہ خیز” قرار دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق، محدود، ہدفی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کی گئی ہیں، جبکہ بھارت نے انہیں افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

پاکستان کا دوٹوک مؤقف

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ یکم جولائی کو جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں مکمل طور پر جائز، متناسب اور مخصوص اہداف تک محدود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ان کارروائیوں پر تنقید حقائق کے منافی ہے اور اس کا مقصد خطے میں پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت خود ماضی میں متعدد مواقع پر اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت میں مداخلت کرتا رہا ہے، اس لیے نئی دہلی کی جانب سے پاکستان پر تنقید کسی بھی اعتبار سے قابل قبول نہیں۔

بھارت کی شدید مذمت

بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان کی کارروائیوں کو "کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے رہائشی علاقوں میں فضائی حملے نہ صرف افغان خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے براہ راست خطرہ بھی ہیں۔

نئی دہلی نے اپنے بیان میں مزید الزام لگایا کہ پاکستان مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور اپنی داخلی سلامتی کی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسرے ممالک کو ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کے مطابق سرحد پار فوجی کارروائیاں مسائل کا حل نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔

پاکستانی کارروائیوں کی تفصیلات

پاکستانی حکام کے مطابق اتوار 28 جون کو افغانستان کے اندر کی جانے والی زمینی اور فضائی کارروائیوں میں کم از کم 29 مبینہ شدت پسند مارے گئے، جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت میں ملوث تھے۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں دہشت گرد نہیں بلکہ عام شہری متاثر ہوئے۔ طالبان حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 38 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

بھارت پر دہشت گرد گروہوں کی معاونت کا الزام

پاکستانی ترجمان نے اپنے بیان میں بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کی معاونت اور سرپرستی کرتا رہا ہے۔

ان کے مطابق ایسی سرگرمیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ پابندیوں اور بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت بعض دیگر مسلح گروہ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں اور انہیں بیرونی عناصر کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تاہم بھارت ان تمام الزامات کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی حمایت نہیں کرتا۔

پاکستان کا دفاعی مؤقف

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کے الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ ان کا مقصد صرف سیاسی پروپیگنڈا کرنا ہے۔

افغان طالبان کا جوابی دعویٰ

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب افغان طالبان حکومت نے منگل کو دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے پاکستانی علاقے میں فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

اس کے جواب میں اسلام آباد نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے فضائی علاقے میں داخل ہونے والے چار ڈرونز کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا ہی میں تباہ کر دیا، جس سے کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات

گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ اسلام آباد بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں اور افغان حکومت ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس کے برعکس افغان طالبان حکومت مسلسل اس الزام کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ طالبان کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی ایک داخلی مسئلہ ہے جس کا حل پاکستان کو اپنے اندر تلاش کرنا چاہیے۔

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بیانات نے خطے میں سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایک جانب پاکستان سرحد پار موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو اپنی قومی سلامتی کا ناگزیر تقاضا قرار دے رہا ہے، جبکہ افغانستان اور بھارت ان اقدامات کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال کو سفارتی مذاکرات، انٹیلی جنس تعاون اور دوطرفہ رابطوں کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو خطے میں سلامتی کے چیلنجز مزید سنگین ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button