یورپتازہ ترین

کولون کیتھیڈرل کے لیے 12 یورو کی متنازعہ داخلہ فیس متعارف

اس کلیسا کی انتظامیہ نے اب وہاں داخلے کے لیے فی کس 12 یورو (تقریباﹰ 14 ڈالر) فیس وصول کرنا شروع کر دی ہے

ڈی پی اے اور اے ایف پی کے ساتھ

جرمنی کے شہر کولون میں تقریباﹰ آٹھ صدی قبل تعمیر کیے گئے مشہور عالم کیتھیڈرل کے لیے ایک متنازعہ داخلہ فیس متعارف کرا دی گئی ہے۔ شہر کی پہچان بن چکے اس تاریخی کلیسا میں داخلے کے لیے اب فی کس 12 یورو وصول کیے جا رہے ہیں۔

اس کیتھیڈرل کی پہچان اس کے دو انتہائی بلند اور ایک دوسرے کے پہلو میں کھڑے وہ مینار ہیں، جو اس تاریخی کلیسا کی باقی ماندہ عمارت کے ساتھ اتنے مشہور ہیں کہ اس شہر کی سرکاری طور پر شائع کردہ اور استعمال ہونے والی تقریباﹰ تمام تصاویر اور اشیاء تک میں یا ان پر اس کیتھیڈرل کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔

داخلے کے لیے متنازعہ فیس متعارف

ماضی میں تقریباﹰ 800 سو سال تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس تاریخی کلیسا میں داخلے کے لیے وہاں سیر یا عبادت کے لیے جانے والوں کو کبھی کوئی رقم ادا کرنا پڑی ہو۔ اب لیکن صورت حال بدل گئی ہے۔

تاریخی کولون کیتھیڈرل کی بلند و بالا عمارت کے درمیانی حصے کی ایک تصویر، جس میں اس کلیسائی عمارت کے دیگر تمام حصوں کی طرح بہت سی تعمیراتی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں
تاریخی کولون کیتھیڈرل کی بلند و بالا عمارت کے درمیانی حصے کی ایک تصویر، جس میں اس کلیسائی عمارت کے دیگر تمام حصوں کی طرح بہت سی تعمیراتی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیںتصویر: S. Ziese/blickwinkel/picture alliance

کولون سے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی بدھ یکم جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس کلیسا کی انتظامیہ نے اب وہاں داخلے کے لیے فی کس 12 یورو (تقریباﹰ 14 ڈالر) فیس وصول کرنا شروع کر دی ہے، جو بنیادی طور پر ہے تو بہت متنازعہ لیکن ‘کوئلنر ڈوم‘ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوں حاصل ہونے والی رقوم کا سالانہ مجموعہ اس ‘جرمن لینڈ مارک‘ کی دیکھ بھال پر اٹھنے والے اور اب بہت زیادہ ہو چکے اخراجات کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔

بدھ یکم جولائی کے روز جب اس کیتھیڈرل میں داخلے کے لیے فیس کی وصولی کی خاطر قائم کردہ ٹکٹ آفس پہلی بار کھلا تو وہاں موجود شائقین اور مسیحی زائرین نے پہلی مرتبہ فی کس 12 یورو فیس ادا کر کے گوتھک طرز تعمیر والی اس تاریخی مذہبی عمارت میں اپنے داخلے کو ممکن بنایا۔

کیتھیڈرل کی انتظامیہ نے یہ اعلان اس سال مارچ میں کیا تھا کہ وہ اس کلیسا میں مفت داخلے کی روایت ختم کر کے فی کس بنیادوں پر ایک داخلہ فیس متعارف کرا دے گی۔ اس فیصلے کے خلاف بہت سے مقامی باشندوں اور سیاحوں کی طرف سے احتجاج تب ہی شروع ہو گیا تھا، جو ابھی تک ختم نہیں ہوا۔

کوئلنر ڈوم کے اندر، اس کے دعائیہ اجتماعات کے لیے استعمال ہونے والے مرکزی ہال کی ایک تصویر
کوئلنر ڈوم کے اندر، اس کے دعائیہ اجتماعات کے لیے استعمال ہونے والے مرکزی ہال کی ایک تصویرتصویر: Federico Gambarini/dpa/picture alliance

عالمی ثقافتی میراث کا حصہ

کولون کا یہ تاریخی کیتھیڈرل اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تیار کردہ اور دنیا بھر میں ان مقامات کی فہرست میں شامل ہے، جنہیں عالمی ثقافتی میراث کا حصہ قرار دیا جا چکا ہے۔

انٹری فیس متعارف کرانے کے پس منظر میں کیتھیڈرل کی انتظامیہ نے کہا کہ یہ کلیسا آئندہ بھی سال میں مخصوص دنوں اور مسیحی مذہبی تہواروں کے دنوں میں ہر کسی کے لیے کھلا رہے گا اور وہاں کوئی فیس ادا کیے بغیر داخلہ ممکن ہو گا۔ تاہم بالعموم وہاں داخلے کے لیے اب انٹری فیس اد اکرنا ہو گی۔

ایسے مسیحی زائرین، جو اس کیتھیڈرل میں عبادت کی غرض سے داخلے کے خواہش مند ہوں گے، انہیں آئندہ اس کلیسا کے شمالی دروازے سے مفت اندر جا کر ایک مخصوص حصے میں عبادت کرنے اور فکری ارتکاز کی اجازت ہو گی۔

کولون میں ایک خوبصورت شام: دریائے رائن، اس پر بنا تاریخی ہوہن سولرن پل، اور اس کے پاس ہی تاریخی کولون کیتھیڈرل، جو 13 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔پل اور کیتھیڈرل کے درمیان دائیں طرف کولون کا بہت طویل چھت والا مرکزی ریلوے اسٹیشن بھی دیکھا جا سکتا ہے
کولون میں ایک خوبصورت شام: دریائے رائن، اس پر بنا تاریخی ہوہن سولرن پل، اور اس کے پاس ہی تاریخی کولون کیتھیڈرل، جو 13 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔پل اور کیتھیڈرل کے درمیان دائیں طرف کولون کا بہت طویل چھت والا مرکزی ریلوے اسٹیشن بھی دیکھا جا سکتا ہےتصویر: manfredxy/Zoonar/picture alliance

داخلے کی فیس ایسے سیاحوں اور شائقین سے وصول کی جائے گی، جو اس کلیسا کی سیر کے لیے اس کے مغربی دروازے سے اس میں داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ 13 سال سے کم عمر کے بچوں اور جسمانی معذوری والے افراد کو آئندہ بھی اس کیتھیڈرل میں مفت داخلے کی اجازت ہو گی۔

کولون کیتھیڈرل جانے والے مہمانوں اور سیاحوں کی سالانہ تعداد

کولون کیتھیڈرل کی انتظامیہ کی طرف سے اس کے عہدیدار مارکوس فریڈرش نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا، ”یہ کلیسا بنیادی طور پر ایک عبادت گاہ ہے اور اس کی یہ حیثیت کبھی تبدیل نہیں ہو گی۔‘‘

انہوں  نے کہا، ”اسی لیے ہم نے مہمانوں سے متعلق اپنا جو نیا طریقہ کار طے کیا ہے، اس میں بھی عبادت گزاروں کے لیے عبادت کی خاطر ایک مخصوص حصے تک مفت رسائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔‘‘

کولون کیتھیڈرل کے مرکزی دروازے کے سامنے قطار بنائے کھڑے مہمان جو داخلے کے لیے اپنی باری کے منتظر ہیں، جون کے مہینے میں میں لی گئی ایک تصویر
کولون کیتھیڈرل کے مرکزی دروازے کے سامنے قطار بنائے کھڑے مہمان جو داخلے کے لیے اپنی باری کے منتظر ہیں، جون کے مہینے میں میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Benjamin Westhoff/dpa/picture alliance

کولون شہر کے عین وسط میں دریائے رائن کے کنارے اور شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن سے متصل ‘کوئلنر ڈوم‘ جرمنی میں سب سے زیادہ سیاحتی کشش کے حامل ان مقامات میں سے ایک ہے، جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے کئی ملین سیاح اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔

اس چرچ کو دیکھنے یا اس کی سیر کے لیے آنے والے سیاحوں کی سالانہ تعداد اوسطاﹰ چھ ملین رہتی ہے اور آج سے ان کی بہت بڑی اکثریت کے لیے فی کس 12 یورو داخلہ فیس ادا کرنا لازمی ہو گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button