
ڈی پی اے اور اے ایف پی کے ساتھ
اس کیتھیڈرل کی پہچان اس کے دو انتہائی بلند اور ایک دوسرے کے پہلو میں کھڑے وہ مینار ہیں، جو اس تاریخی کلیسا کی باقی ماندہ عمارت کے ساتھ اتنے مشہور ہیں کہ اس شہر کی سرکاری طور پر شائع کردہ اور استعمال ہونے والی تقریباﹰ تمام تصاویر اور اشیاء تک میں یا ان پر اس کیتھیڈرل کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔
داخلے کے لیے متنازعہ فیس متعارف
ماضی میں تقریباﹰ 800 سو سال تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس تاریخی کلیسا میں داخلے کے لیے وہاں سیر یا عبادت کے لیے جانے والوں کو کبھی کوئی رقم ادا کرنا پڑی ہو۔ اب لیکن صورت حال بدل گئی ہے۔

کولون سے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی بدھ یکم جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس کلیسا کی انتظامیہ نے اب وہاں داخلے کے لیے فی کس 12 یورو (تقریباﹰ 14 ڈالر) فیس وصول کرنا شروع کر دی ہے، جو بنیادی طور پر ہے تو بہت متنازعہ لیکن ‘کوئلنر ڈوم‘ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوں حاصل ہونے والی رقوم کا سالانہ مجموعہ اس ‘جرمن لینڈ مارک‘ کی دیکھ بھال پر اٹھنے والے اور اب بہت زیادہ ہو چکے اخراجات کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔
بدھ یکم جولائی کے روز جب اس کیتھیڈرل میں داخلے کے لیے فیس کی وصولی کی خاطر قائم کردہ ٹکٹ آفس پہلی بار کھلا تو وہاں موجود شائقین اور مسیحی زائرین نے پہلی مرتبہ فی کس 12 یورو فیس ادا کر کے گوتھک طرز تعمیر والی اس تاریخی مذہبی عمارت میں اپنے داخلے کو ممکن بنایا۔
کیتھیڈرل کی انتظامیہ نے یہ اعلان اس سال مارچ میں کیا تھا کہ وہ اس کلیسا میں مفت داخلے کی روایت ختم کر کے فی کس بنیادوں پر ایک داخلہ فیس متعارف کرا دے گی۔ اس فیصلے کے خلاف بہت سے مقامی باشندوں اور سیاحوں کی طرف سے احتجاج تب ہی شروع ہو گیا تھا، جو ابھی تک ختم نہیں ہوا۔

عالمی ثقافتی میراث کا حصہ
کولون کا یہ تاریخی کیتھیڈرل اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تیار کردہ اور دنیا بھر میں ان مقامات کی فہرست میں شامل ہے، جنہیں عالمی ثقافتی میراث کا حصہ قرار دیا جا چکا ہے۔
انٹری فیس متعارف کرانے کے پس منظر میں کیتھیڈرل کی انتظامیہ نے کہا کہ یہ کلیسا آئندہ بھی سال میں مخصوص دنوں اور مسیحی مذہبی تہواروں کے دنوں میں ہر کسی کے لیے کھلا رہے گا اور وہاں کوئی فیس ادا کیے بغیر داخلہ ممکن ہو گا۔ تاہم بالعموم وہاں داخلے کے لیے اب انٹری فیس اد اکرنا ہو گی۔
ایسے مسیحی زائرین، جو اس کیتھیڈرل میں عبادت کی غرض سے داخلے کے خواہش مند ہوں گے، انہیں آئندہ اس کلیسا کے شمالی دروازے سے مفت اندر جا کر ایک مخصوص حصے میں عبادت کرنے اور فکری ارتکاز کی اجازت ہو گی۔

داخلے کی فیس ایسے سیاحوں اور شائقین سے وصول کی جائے گی، جو اس کلیسا کی سیر کے لیے اس کے مغربی دروازے سے اس میں داخل ہوں گے۔ اس کے علاوہ 13 سال سے کم عمر کے بچوں اور جسمانی معذوری والے افراد کو آئندہ بھی اس کیتھیڈرل میں مفت داخلے کی اجازت ہو گی۔
کولون کیتھیڈرل جانے والے مہمانوں اور سیاحوں کی سالانہ تعداد
کولون کیتھیڈرل کی انتظامیہ کی طرف سے اس کے عہدیدار مارکوس فریڈرش نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا، ”یہ کلیسا بنیادی طور پر ایک عبادت گاہ ہے اور اس کی یہ حیثیت کبھی تبدیل نہیں ہو گی۔‘‘
انہوں نے کہا، ”اسی لیے ہم نے مہمانوں سے متعلق اپنا جو نیا طریقہ کار طے کیا ہے، اس میں بھی عبادت گزاروں کے لیے عبادت کی خاطر ایک مخصوص حصے تک مفت رسائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔‘‘

کولون شہر کے عین وسط میں دریائے رائن کے کنارے اور شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن سے متصل ‘کوئلنر ڈوم‘ جرمنی میں سب سے زیادہ سیاحتی کشش کے حامل ان مقامات میں سے ایک ہے، جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے کئی ملین سیاح اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔
اس چرچ کو دیکھنے یا اس کی سیر کے لیے آنے والے سیاحوں کی سالانہ تعداد اوسطاﹰ چھ ملین رہتی ہے اور آج سے ان کی بہت بڑی اکثریت کے لیے فی کس 12 یورو داخلہ فیس ادا کرنا لازمی ہو گیا ہے۔



