مشرق وسطیٰتازہ ترین

تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی کئی روزہ آخری رسومات کی تیاریاں، جنرل احمد وحیدی منظرِ عام پر آ گئے

موجودہ حالات میں ایران کے اندر طاقت کے توازن، دفاعی پالیسی اور مستقبل کے خارجہ تعلقات کی تشکیل میں جنرل وحیدی کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

تہران: ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ملک بھر میں کئی روزہ جنازے اور سوگ کی تقریبات کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ اس دوران ایران کی طاقتور نیم فوجی فورس، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سینئر جنرل احمد وحیدی کئی ہفتوں بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر منظرِ عام پر آئے ہیں، جسے ایرانی سیاسی اور عسکری حلقوں میں غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی اور ایرانی ریاستی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں جنرل احمد وحیدی کو تہران میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک دیکھا گیا، جہاں سپریم لیڈر کی آخری رسومات، قومی سوگ اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کے قریب خاموشی سے بیٹھے ہوئے بھی دکھایا گیا، جہاں دیگر اعلیٰ فوجی اور حکومتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

جنرل احمد وحیدی کی واپسی کیوں اہم ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل احمد وحیدی کی طویل عرصے بعد منظرِ عام پر آمد محض ایک رسمی شرکت نہیں بلکہ ایران کی مستقبل کی سیاسی اور عسکری حکمت عملی کا اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ ان محدود بااثر شخصیات میں شامل ہیں جو ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں اور امریکہ، اسرائیل اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر اہم فیصلوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے اندر طاقت کے توازن، دفاعی پالیسی اور مستقبل کے خارجہ تعلقات کی تشکیل میں جنرل وحیدی کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران امریکہ کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے حوالے سے مختلف سفارتی امکانات پر غور کر رہا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطوں کی اطلاعات

سیاسی مبصرین کے مطابق جنرل احمد وحیدی ان چند شخصیات میں شامل ہیں جو ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ کئی ہفتوں سے عوامی منظر سے غائب ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ فروری کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئے تھے، جس حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔

اگرچہ ایرانی حکام نے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سرگرمیوں کے بارے میں محدود معلومات فراہم کی ہیں، تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق وہ ریاستی امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

خامنہ ای کے تابوت پر سرخ پرچم

ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کو سرخ پرچم سے ڈھکا ہوا دکھایا گیا، جس پر سفید عربی خطاطی میں "یا حسین” تحریر تھا۔ یہ پرچم کربلا میں حضرت امام حسینؓ کے روضۂ مبارک سے منسوب علامت تصور کیا جاتا ہے اور شیعہ روایت میں مظلوم کے خون، قربانی اور انصاف کے مطالبے کی علامت مانا جاتا ہے۔

ایران میں سرخ پرچم کا استعمال عمومی طور پر ایسے مواقع پر کیا جاتا ہے جب کسی شخصیت کی موت کو ظلم یا جارحیت کا نتیجہ قرار دیا جائے، اور اسے قومی مزاحمت اور انتقام کے عزم کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

کئی روزہ جنازے کی تقریبات

ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے سے ملک بھر میں کئی روزہ سوگ اور جنازے کی تقریبات کا آغاز ہوگا۔ منصوبے کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو ایران کے مختلف اہم شہروں کے علاوہ پڑوسی ملک عراق کے مقدس مذہبی مقامات تک بھی لے جایا جائے گا تاکہ لاکھوں افراد آخری دیدار کر سکیں۔

حکام نے تہران سمیت متعدد شہروں میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات نافذ کر دیے ہیں۔ دارالحکومت کی کئی مرکزی شاہراہیں بند کر دی جائیں گی، فضائی حدود پر خصوصی پابندیاں نافذ ہوں گی، جبکہ سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور کئی کاروباری مراکز بھی محدود اوقات کے لیے بند رہیں گے تاکہ جنازے کی تقریبات پرامن طریقے سے مکمل کی جا سکیں۔

خطے کی نظریں ایران پر

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ایران ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں داخلی قیادت، علاقائی حکمت عملی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات نئی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے میں جنرل احمد وحیدی جیسے بااثر عسکری رہنماؤں کی سرگرمیاں نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی مستقبل کی سیاست پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب عالمی برادری ایران کی نئی قیادت، ممکنہ پالیسی تبدیلیوں اور امریکہ و اسرائیل کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ آنے والے دن خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button