
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت، ایرانی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار
پاکستانی وفد کی اجتماعی شرکت کو دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات، باہمی احترام اور یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
سید عاطف ندیم پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
تہران: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی خصوصی دعوت پر ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کی۔ وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ایران کی قیادت اور عوام سے دلی تعزیت، ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر ہونے والے حملوں کے دوران جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد ایران بھر میں کئی روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں دنیا بھر سے متعدد ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکومتی شخصیات، مذہبی رہنماؤں اور لاکھوں ایرانی شہریوں نے شرکت کی۔
اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی شرکت
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی تہران پہنچا، جس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ارکانِ پارلیمان اور دیگر اعلیٰ حکومتی حکام شامل تھے۔

پاکستانی وفد کی اجتماعی شرکت کو دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات، باہمی احترام اور یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کا تعزیتی پیغام
نمازِ جنازہ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی حکومت اور عوام سے ملاقات کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کئی دہائیوں تک غیر معمولی بصیرت، حکمت، عزم اور دوراندیشی کے ساتھ ایرانی قوم کی قیادت کی۔ انہوں نے اسلامی دنیا کے اہم معاملات پر اپنا مؤثر کردار ادا کیا اور ایران کی خودمختاری، استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس قومی سانحے کی گھڑی میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات مستقبل میں بھی مزید مضبوط ہوں گے۔
وزیراعظم نے مرحوم سپریم لیڈر کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔
ایرانی قیادت سے ملاقاتیں
جنازے کی تقریبات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے بھی ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی امن و استحکام، اقتصادی روابط اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
ترکیہ روانگی
نمازِ جنازہ اور تعزیتی تقریبات میں شرکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اپنا مختصر دورہ مکمل کرتے ہوئے تہران سے براہِ راست ترکیہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے، جہاں وہ ترک قیادت سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بات چیت کریں گے۔
وزیراعظم کے دورۂ ایران کو پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی احترام، امن، استحکام اور علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔



