
کرسٹوف اشٹراک
یہ اقدام اس لحاظ سے منفرد ہے کہ جرمنی ہی نہیں بلکہ پورے یورپ میں پہلی مرتبہ کسی سرکاری یونیورسٹی میں اسلامک تھیالوجی کی ایک آزاد فیکلٹی قائم کی گئی ہے۔
اسلامی علوم کے ممتاز اسکالر پروفیسر مہنّد خورشید نے اس پیش رفت کو تاریخ کا ایک منفرد باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 برسوں کی محنت کے بعد اس مقام تک پہنچنا باعث فخر و شکر گزاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہم اس منفرد موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام کی ایک کشادہ فکر، روشن خیال اور علمی تعبیر کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق فیکلٹی کی سرگرمیوں کے اثرات نہ صرف یورپ بلکہ مسلم دنیا تک بھی پہنچیں گے۔

ایک نئے باب کا آغاز
آزاد فیکلٹی کا درجہ ملنے سے اسلامک تھیالوجی کو یونیورسٹی میں مکمل تعلیمی خود مختاری حاصل ہو گئی ہے۔ اب یہ شعبہ خود پی ایچ ڈی اور اعلیٰ تحقیقی ڈگریاں جاری کرنے کا مجاز ہوگا، جس سے نئے محققین کی تربیت اور علمی تحقیق کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ تحقیقی منصوبوں کے لیے بیرونی مالی معاونت حاصل کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔
پروفیسر خورشید کے مطابق 2012 میں جب سینٹر فار اسلامک تھیالوجی قائم ہوا تو وہاں صرف 15 طلبہ اور تین رکنی عملہ موجود تھا، جبکہ آج اس مرکز میں آٹھ پروفیسرز، 50 سے زائد ملازمین اور سینکڑوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں طلبہ کی تعداد 500 سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کے سرکاری اسکولوں میں اسلامی دینی تعلیم متعارف کرائے جانے کے بعد تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
جرمنی کی سب سے زیادہ آبادی والی وفاقی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا، جہاں میونسٹر شہر واقع ہے، میں تقریباً 3,000 اسلامی تعلیمی اساتذہ درکار ہیں، جبکہ اس وقت صرف 330 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جس کے باعث فارغ التحصیل طلبہ کے لیے روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
پروفیسر خورشید نے اعلان کیا کہ 2027 سے ‘اسلام اور سماجی خدمات‘ کے عنوان سے ماسٹرز پروگرام شروع کیا جائے گا۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ہسپتالوں میں مذہبی رہنمائی اور بزرگوں کی نگہداشت جیسے شعبوں میں اس اسپیشلائزیشن کی بڑھتی ہوئی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر توجہ
پروفیسر خورشید کے مطابق نئی فیکلٹی کے قیام کی خبر کے بعد ایشیا اور افریقہ سمیت مختلف خطوں کے ذرائع ابلاغ نے اس پیش رفت کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر دنیا کے سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اس منصوبے میں غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں لوگ اسلام کی ایک اعتدال پسندانہ، کشادہ فکر اور روشن خیال تعبیر کے خواہاں ہیں، اور میونسٹر مستقبل میں عالمی سطح پر اس علمی مکالمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی کے ترجمان نوربرٹ روبرز نے کہا کہ میونسٹر طویل عرصے سے مذہبی علوم کا اہم مرکز رہا ہے، تاہم پہلی بار کرسچن اور اسلامک تھیالوجی کی فیکلٹیز کو ایک ہی چھت تلے لایا جا رہا ہے، جہاں مشترکہ لائبریری اور کیفے ٹیریا بھی ہوں گے، جو بین المذاہبی تعاون کی ایک مضبوط علامت ہے۔
اگرچہ بوسنیا کے شہر ساراژیوو میں اسلامک تھیالوجی کی ایک فیکلٹی پہلے سے موجود ہے، تاہم وہ کسی سرکاری یونیورسٹی کا حصہ نہیں۔ اس طرح یونیورسٹی آف میونسٹر یورپ میں ایسی پہلی سرکاری یونیورسٹی بن گئی ہے، جہاں اسلامک تھیالوجی کی آزاد فیکلٹی قائم کی گئی ہے۔
جرمنی کی سابق وفاقی وزیر تعلیم انیٹے شاوان، جنہوں نے جرمن یونیورسٹی میں اسلامک تھیالوجی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا، نے اس پیش رفت کو ‘سنگ میل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف اسلامک تھیالوجی بلکہ مجموعی طور پر علمی مذہبیات کو تقویت ملے گی اور یہ ادارہ مستقبل میں پورے یورپ میں ایک نمایاں علمی مرکز کے طور پر پہچانا جائے گا۔



