
وائس آف جرمنی اردو نیوز، نیوز ڈیسک
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے سینٹ پیٹرزبرگ کی بندرگاہ میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ کرونشتاد شہر میں ایک عسکری ہدف کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملے کیے ہیں۔ یہ جنگ کے آغاز کے بعد سے روسی سرزمین کے اندر گہرے ترین حملوں میں سے ایک ہے۔
زیلنسکی نے آج ہفتے کے روز فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حملوں میں بندرگاہ میں موجود اس تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جو ایسی آمدنی کا ذریعہ ہے جو روسی جنگی مشین کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے خلیج فن لینڈ میں واقع کرونشتاد میں ایک اہم عسکری ہدف کو نشانہ بنانے کی بھی تصدیق کی، جو یوکرینی سرحد سے 850 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ یہ حملے روس کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کا رد عمل ہیں۔ انہوں نے آپریشن کرنے والی افواج کا شکریہ ادا کیا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کی حکمت عملی جاری رکھنے پر زور دیا۔
دوسری جانب یوکرینی اسپیشل آپریشنز فورسز کی کمان نے وضاحت کی کہ یہ حملہ بغیر پائلٹ کے نظام کی فورسز، ملٹری انٹیلیجنس اور یوکرینی سکیورٹی سروس کے ساتھ مربوط ہو کر کیا گیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ متعدد ڈرونز اپنے اہداف پر لگے، جس کے نتیجے میں ہدف بننے والے آئل اسٹیشن میں بڑی آگ بھڑک اٹھی۔
اس کے بر عکس روسی حکام نے اعلان کیا کہ یوکرین نے سینٹ پیٹرزبرگ کے قریب بالٹک سمندر کے علاقے میں تیل کی تنصیبات پر ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔
لینین گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے علاقے کے اوپر 67 ڈرونز کو مار گرایا۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان میں سے کچھ کا ملبہ ویسوتسک بندرگاہ پر گرا، جہاں خلیج فن لینڈ پر تیل برآمد کرنے والا ایک بڑا اسٹیشن واقع ہے۔
روسی وزارت دفاع نے بھی رات کے وقت ملک کے مختلف علاقوں میں 389 یوکرینی ڈرونز کو مار گرانے کا اعلان کیا اور لینین گراڈ ریجن میں حملوں کی تصدیق کی۔ تاہم سینٹ پیٹرزبرگ شہر کے اندر کسی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا۔
روسی اور یوکرینی ٹیلیگرام چینلز پر وڈیو کلپس گردش کر رہے ہیں جن میں سینٹ پیٹرزبرگ کے مضافات میں تیل کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کو دکھایا گیا ہے، جبکہ مقامی حکام نے نقصانات کے حجم کے بارے میں کوئی با ضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یوکرین نے روسی تیل اور گیس کی تنصیبات پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اس کا ماننا ہے کہ توانائی کا شعبہ روسی عسکری کارروائیوں کی مالی معاونت کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ دوسری طرف ماسکو جوابی حملوں کے حصے کے طور پر یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہے۔
یوکرین انفارم ایجنسی کے مطابق جولائی کے آغاز تک یوکرینی حملوں نے روس کی کل ریفائننگ صلاحیت کا تقریباً 42.74 فی صد معطل کر دیا ہے۔ تاہم اس تناسب کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔



