پاکستاناہم خبریں

پاکستان 11 جولائی کو امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات کی میزبانی کرے گا، جوہری پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں پر پیش رفت متوقع

اگرچہ کسی بڑے معاہدے تک فوری رسائی کا امکان محدود سمجھا جا رہا ہے، تاہم مذاکرات کا انعقاد خود ایک اہم سفارتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان 11 جولائی کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے اور اہم دور کی میزبانی کرے گا، جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ مذاکرات میں تین بنیادی موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، جن میں ایران پر عائد امریکی اقتصادی اور مالی پابندیاں، بیرونِ ملک موجود ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی، اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات شامل ہیں۔ یہ تمام معاملات گزشتہ کئی برسوں سے واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں سب سے بڑے اختلافی نکات سمجھے جاتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد کی سطح اور اس کی حتمی تشکیل کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایران کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت جاری ہے، جبکہ وفد کی قیادت اور ارکان کا اعلان داخلی مشاورت اور مذہبی و سرکاری مصروفیات مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔

مذاکرات کا پس منظر

امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان رابطوں کا مقصد خطے میں مزید کشیدگی کو روکنا، جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی پیش رفت ممکن بنانا، اور اعتماد سازی کے ایسے اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں جامع معاہدے کی راہ ہموار کر سکیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، تاہم متعدد اہم معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ امریکہ ایران سے جوہری سرگرمیوں پر مزید شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کے خاتمے اور اپنے مالی وسائل تک مکمل رسائی کے بغیر کسی نئے معاہدے پر پیش رفت ممکن نہیں۔

پاکستان کا کردار

پاکستان کو اس اہم مذاکراتی دور کی میزبانی سونپے جانے کو سفارتی حلقے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں خطے کے ایسے ممالک کو بھی سفارتی عمل میں شامل کرنا چاہتی ہیں جو مختلف فریقوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتے ہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماضی میں سلطنتِ عمان اور قطر امریکہ اور ایران کے درمیان کئی اہم مذاکرات اور بیک چینل رابطوں کی میزبانی کر چکے ہیں۔ پاکستان کی شمولیت اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ علاقائی ثالثی کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو نئی رفتار دی جا سکے۔

اہم چیلنجز

ماہرین کے مطابق مذاکرات کے اس نئے دور کو متعدد پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ ان میں حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ایرانی جوہری پروگرام کی نوعیت اور حدود، امریکی پابندیوں کے خاتمے کا طریقۂ کار، ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی، اور مستقبل کے کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عملدرآمد کی ضمانتیں شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی بھی مذاکراتی عمل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کی جا رہی ہے۔ امریکہ مستقبل میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے قابلِ تصدیق ضمانتیں چاہتا ہے، جبکہ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں پابندیوں کے مؤثر خاتمے اور مستقبل میں یکطرفہ امریکی انخلا سے تحفظ کی ضمانت شامل ہونی چاہیے۔

علاقائی اور عالمی اہمیت

سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی، عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام، اور خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

اگرچہ کسی بڑے معاہدے تک فوری رسائی کا امکان محدود سمجھا جا رہا ہے، تاہم مذاکرات کا انعقاد خود ایک اہم سفارتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک سفارتی ذرائع کے ذریعے اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی جامع سمجھوتے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق 11 جولائی کو ہونے والے اس مذاکراتی دور پر عالمی برادری کی گہری نظر ہوگی، کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سفارت کاری کی آئندہ سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button